تعلیم کے بعد کی زندگی: نوجوانوں کے لیے تلخ مگر ضروری حقائق: سعید الرحمن سعدی قاسمی

تعلیم کے بعد کی زندگی: نوجوانوں کے لیے تلخ مگر ضروری حقائق

 

🖊️ سعید الرحمن سعدی (قاسمی)

گریٹ انڈیا اکیڈمی، ململ، مدھوبنی بہار

 

یہ تحریر اگرچہ ابتدا میں ایک عزیز طالب علم کی فراغتِ تعلیم کے موقع پر انھیں مخاطب کرکے لکھی گئی تھی، مگر اس میں بیان کیے گئے حقائق اور اسباق ایسے ہیں جو ہر اس نوجوان کو جان لینے چاہئیں جو تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھ رہا ہے، کیوں کہ اکیس سے پچیس سال کی عمر وہ موڑ ہے جہاں ایک غلط فیصلہ برسوں کی محنت ضائع کر سکتا ہے، اور ایک درست سمت پوری زندگی سنوار سکتی ہے۔ اس لیے قدرے تبدیلی کے ساتھ اسے افادہ عام کے لیے مضمون کی صورت دی جارہی ہے، اللہ سے دعا ہے کہ وہ اسے نافع بنائے۔

 

سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ آپ عمر عزیز کے جس مرحلے سے گزر رہے ہیں، وہ لڑکپن اور جوانی کا سنگم ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ کو خیالی دنیا سے نکل کر حقیقت کی سخت زمین پر قدم رکھنا ہے۔ اگر آپ یہ ضروری اسباق ابھی سیکھ لیں، تو آپ کی باقی زندگی پچھتاووں اور حسرتوں سے بچ جائے گی، اور ان شاءاللہ آپ ایک دن کامیاب و کامران ہوں گے۔

 

 *1۔ کوئی آپ کا مقروض نہیں۔

دنیا کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کتنے شریف، ذہین یا ٹیلنٹڈ ہیں۔ دنیا آپ کو آپ کی "ضرورت” کے مطابق ٹریٹ کرے گی۔ اگر آپ انھیں ویلیو فراہم نہیں کر رہے، تو آپ نظر انداز کر دیے جائیں گے۔

 

*2۔ ننانوے فیصد دوست عارضی ہیں۔

اسکول اور کالج کے جن دوستوں کے بغیر آپ کو زندگی ادھوری لگتی ہے، 25 سال کی عمر تک ان میں سے اکثر کا نام بھی آپ کو یاد نہیں رہے گا۔ لوگ راستوں کی طرح بدلتے ہیں، اسے قبول کرنا سیکھیں۔

 

*3۔ خالی جیب، ادهوری عزت۔

یہ کڑوا سچ ہے کہ بنا پیسے کے اخلاق کی کوئی خاص قدر نہیں ہوتی۔ لوگ غریب کی عاجزی کو "مجبوری” اور امیر کی عاجزی کو کردار سمجھتے ہیں۔ اس لیے 21 سال کی عمر میں عشق لڑانے سے بہتر ہے کہ کیریئر بنائیں۔

 

*4۔ والدین ہمیشہ نہیں رہیں گے۔

آپ اپنی جوانی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اُدھر آپ کے والدین تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں۔ ایک دن آپ پلٹ کر دیکھیں گے تو وہ نہیں ہوں گے۔ لہذا ان کی قدر کرلیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، اس سے پہلے کہ صرف تصویریں رہ جائیں۔

 

 *5۔ ڈگری کاغذ کا ٹکڑا ہے، ہنر سونا ہے۔

صرف ڈگری آپ کو کھانا نہیں دے گی۔ اکیسویں صدی میں "اسکل سیٹ” چلتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ڈگری ہے مگر کام نہیں آتا تو آپ بے روزگار رہیں گے۔ آپ اپنے ذوق کے حسب سے کوئی ایسا ایک بنر سیکھ لیں جس میں آپ کا کوئی ثانی نہ ہو۔

 

*6۔ کوئی مسیحا نہیں آئے گا۔

اپنی مشکلات کے حل کے لیے حکومت، حضرتوں، دوستوں یا معجزوں کا انتظار کرنا چھوڑ دیں۔ آپ اپنی زندگی کے خود ہیرو ہیں اور خود ہی ریسکیو ٹیم۔ سو خود کو خود ہی بچائیں، دوسروں سے امید نہ رکھیں۔

 

 *7۔ صحت بی اصل دولت ہے۔

21 سال کی عمر میں جسم لوہے کا لگتا ہے، آپ جو مرضی کھائیں، ہضم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہے جب بیماریاں جڑ پکڑتی ہیں۔ اگر آپ نے ابھی اپنی صحت تباہ کر لی، تو 30 کے بعد آپ صرف ہسپتالوں کے چکر لگائیں گے۔

 

 *8۔ ناکامی، اختتام نہیں ہے۔

آپ فیل ہوں گے، گریں گے، لوگ ہنسیں گے اور یہ سب نارمل ہے۔ ناکامی کامیابی کا مخالف نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے۔ جو 21 سال کی عمر میں رسک نہیں لیتا، وہ ساری زندگی افسوس کرتا ہے۔

 

*9۔ لوگ کیا کہیں گے؟

یہ جملہ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یاد رکھیں لوگ آپ کی ناکامی پر ہنسیں گے اور کامیابی پر جلیں گے۔ ان کا کام صرف باتیں بنانا ہے، وہ آپ کے گھر کا بل ادا نہیں کرتے، اس لیے ان کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں۔

 

 *10۔ "ناں” کہنے کی طاقت پیدا کریں۔

ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرنا خود کو برباد کرنے کا سب سے تیز طریقہ ہے۔ اپنی حدود مقرر کریں اور فالتو کاموں اور لوگوں کو سختی سے ناں” کہنا سیکھیں۔

 

*11۔ جذبات پر قابو پائیں۔

غصہ، حسد، کینہ، بے جا عقیدت، اندھی محبت اور دگر مثبت ومنفی جذباتی فیصلوں نے بڑی بڑی سلطنتیں تباہ کر دی ہیں۔ اگر آپ اپنے جذبات کنٹرول نہیں کر سکتے، تو کوئی اور آپ کو کنٹرول کرے گا۔

 

 *12۔ انتظار ایک دھوکہ ہے، جو کرنا ہے جلدی کریں۔

"ابھی تو بہت وقت ہے” یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ 21 سے 30 کا وقت پلک جھپکتے گزر جائے گا اور پھر چند ہی سال بعد بالوں میں سفیدی آنے لگے گی۔ خود کو اور اپنی صلاحیتوں اور طاقت کو پہچان کر اپنا مقصد زندگی متعین کریں، اور دستیاب وسائل کے ساتھ اپنے اہداف پر آج بی کام شروع کریں، کیوں کہ کل کبھی نہیں آتا۔

 

*13۔ تنہائی کو طاقت بنائیں۔

اگر آپ تنہائی کو مفید بنا کر اکیلے بیٹھ کر مطمئن رہنا نہیں سیکھتے، تو آپ لازماً غلط لوگوں کی صحبت میں پناہ تلاش کریں گے۔ ہر وقت ہجوم کی ضرورت کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ تنہائی وہ وقت ہے جب انسان خود سے سچ بولتا ہے، اور اپنا محاسبہ کرتا ہے۔ جو تنہائی کو برداشت نہیں کرتا، وہ زندگی کے فیصلے بھی خود نہیں کر پاتا۔

 

 *14۔ عشق فلموں جیسا نہیں ہوتا۔

حقیقی زندگی میں محبت کے لیے سمجھوتہ، قربانی اور مالی استحکام چاہیے۔ صرف جذبات سے پیٹ نہیں بھرتا۔ جیون ساتھی وہ چنیں جو آپ کے مقاصد میں آپ کا ساتھ دے، نہ کہ صرف آپ کے جذبات کا۔

 

 *15۔ سماج عموماً غیر منصفانہ ہے۔

کبھی کبھی برے لوگوں کے ساتھ اچھا اور اچھے لوگوں کے ساتھ برا ہوگا۔ انصاف کی امید میں رونا دھونا چھوڑیں اور جو کارڈز قدرت نے آپ کو دیے ہیں، ان کے ساتھ بہترین کھیل کھیلنا سیکھیں۔

 

 *16۔ وقت سب سے مہنگی دولت ہے۔

پیسہ دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، رشتے دوبارہ بن سکتے ہیں، مگر وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ جو نوجوان آج سستی، ٹال مٹول اور فضول مصروفیات میں وقت ضائع کرتا ہے، کل وہی شخص زندگی کے ہاتھوں ضائع ہو جاتا ہے۔ وقت کی قدر کرنا دراصل اپنی زندگی کی قدر کرنا ہے۔

 

 *17۔ سیکھنے کا عمل کبھی مکمل نہیں ہوتا۔

ڈگری کے بعد اگر آپ نے سیکھنا چھوڑ دیا تو سمجھ لیں آپ نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، جو خود کو اپڈیٹ نہیں کرتا وہ آہستہ آہستہ غیر متعلق ہو جاتا ہے۔ کتاب، تجربہ اور مشاہدہ؛ تینوں سے سیکھتے رہنا ہی کامیابی کی علامت ہے۔

 

*18۔ نظم و ضبط، صلاحیت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ 

صرف باصلاحیت ہونا کافی نہیں، باقاعدہ ہونا ضروری ہے۔ وقت پر اٹھنا، وقت پر کام کرنا اور کام مکمل کرنا؛ یہ عادتیں معمولی آدمی کو بھی غیر معمولی بنا دیتی ہیں، جبکہ بے نظم ذہین لوگ اکثر صرف شکایتیں کرتے رہ جاتے ہیں۔

 

19۔ پیسوں کا نظم نہ آئے تو پیسہ وبال بن جاتا ہے۔

کمائی کم ہو تو گزارا سیکھا جا سکتا ہے، مگر خرچ بے قابو ہو تو اچھی کمائی بھی ناکافی ہو جاتی ہے۔ رسوم، نمائش اور غیر ضروری اخراجات مستقبل کی جڑیں کاٹ دیتے ہیں۔ پیسے کو اپنا خادم بنائیں، حاکم نہیں۔

 

 20۔ مقصد انسان کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ 

جس کے پاس واضح مقصد نہیں ہوتا، وہ دوسروں کے ایجنڈے پر جیتا ہے۔ مقصد زندگی کو سمت دیتا ہے، مصروف رکھتا ہے اور فالتو سوچوں سے بچاتا ہے۔ جو نوجوان اپنے مقصد سے جڑ جاتا ہے، وہی وقت، توانائی اور صلاحیت کو درست جگہ استعمال کرتا ہے۔

 

21۔ نیت کی درستگی راستہ ہموار کر دیتی ہے۔

اعمال کی اصل روح نیت ہے۔ جب مقصد صرف دکھاوا، مقابلہ یا دوسروں کو نیچا دکھانا بن جائے تو محنت بھی بے برکت ہو جاتی ہے۔ درست نیت کے ساتھ کیا گیا تھوڑا سا عمل بھی دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ اپنے ہر بڑے فیصلے سے پہلے خود سے یہ سوال ضرور کریں کہ میں یہ کس لیے کر رہا ہوں۔

 

22۔ حلال و حرام کی تمیز، زندگی کا تحفظ ہے۔

فوری فائدہ اکثر انسان کو غلط راستے پر لے جاتا ہے، مگر جو رزق حلال پر صبر کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے۔ حرام کمائی وقتی آسائش دے سکتی ہے، مگر آخرکار بے سکونی اور نقصان ہی لاتی ہے۔ جو نوجوان ابتدا ہی سے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا، وہی باعزت اور پائیدار زندگی جیتا ہے۔

 

23۔ بحث بازی علم نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔

ہر مجلس میں جیتنے کی خواہش اور ہر اختلاف کو مناظرہ بنا دینا دانش مندی نہیں۔ عملی میدان میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو بات کم اور کام زیادہ کرتا ہے۔ جو ہر وقت دلیلوں میں الجھا رہے، وہ ترقی کی رفتار خود سست کر لیتا ہے۔

 

 24۔ رفیق بنیں فریق نہیں۔

عملی زندگی مدرسے کی درسگاہ نہیں ہوتی۔ یہاں صرف علم نہیں، مزاج بھی دیکھا جاتا ہے۔ اپنے کام سے کام نہ رکھنا، دوسروں کی ٹوہ میں رہنا، اپنے دائرہ عمل سے باہر نکلنا، ہر ایک سے الجھنا، ہر بات کو انا کا مسئلہ بنانا اور نظم سے ٹکرانا اکثر باصلاحیت لوگوں کو بھی کنارے لگا دیتا ہے۔ عزت علم سے نہیں، رویے سے بنتی ہے۔

 

 25۔ قرض وقتی سہولت اور مستقل غلامی ہے۔

قرض لینا آسان اور اتارنا مشکل ہوتا ہے۔ ضرورت کے بغیر قرض انسان کی آزادی چھین لیتا ہے اور عزت نفس کو آہستہ آہستہ کھا جاتا ہے۔ سادہ زندگی اختیار کریں، مگر قرض کے بوجھ تلے دب کر نہ جئیں۔

 

 26۔ دین سکھانے اور چوکیدار بننے میں فرق سمجھیں۔

دین کی خدمت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت لوگوں کی نیتوں پر پہرہ دیا جائے۔ اصلاح حکمت سے ہوتی ہے، سختی سے نہیں۔ جو خود کو دین کا واحد محافظ سمجھ بیٹھتا ہے، وہ اکثر دین کے چہرے کو ہی سخت بنا دیتا ہے۔

 

 27۔ لینے کے بجائے دینے کا مزاج پیدا کریں۔

بدقسمتی سے ہمارے حلقوں میں سوال کرنا آسان اور دینا مشکل ہو گیا ہے۔ علم، وقت، رہنمائی اور سہارا؛ یہ سب صدقہ ہیں۔ جو دینے والا بنتا ہے، اللہ اس کے ہاتھ خالی نہیں رہنے دیتا۔ عزت ہمیشہ دینے والوں کے حصے میں آتی ہے اور لینے والے مطعون ہوا کرتے ہیں۔

 

28۔ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔

آپ سے اختلاف کرنے والا لازماً آپ کا مخالف نہیں۔ عملی زندگی میں مختلف آرا کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ اختلاف کو برداشت نہ کر پانے والا شخص اکثر تنہا رہ جاتا ہے، اور تنہائی یہاں طاقت نہیں بلکہ محرومی بن جاتی ہے۔

 

29۔ شہرت سے زیادہ ساکھ اہم ہوتی ہے۔

بولنے، لکھنے یا سوشل میڈیا پر نظر آنے سے وقتی پہچان بن سکتی ہے، مگر اصل چیز اعتماد ہے۔ ساکھ برسوں میں بنتی ہے اور ایک غلطی میں ٹوٹ جاتی ہے۔ جو آدمی خاموشی سے اپنا کام درست رکھتا ہے، وہی دیرپا مقام پاتا ہے۔

 

30۔ احتسابِ نفس کے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔

جو شخص ہمیشہ خود کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھتا ہے، وہ سیکھنا بند کر دیتا ہے۔ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا کمزوری نہیں بلکہ بالغ ذہنی کی علامت ہے۔ جو اپنا محاسبہ کرتا ہے، اللہ اس کے راستے آسان کر دیتا ہے۔

 

خلاصہ یہ کہ اکیس سال کی عمر ایک خالی چیک کی مانند ہے۔ اس پر کیا رقم لکھی جائے گی، یہ آپ کے فیصلے طے کریں گے۔ لہذا دانشمندی سے فیصلہ کریں، وقت کی قدر کریں، اور اپنی زندگی کو خود سنبھالیں، کیونکہ بعد میں الزام دینے کے لیے کوئی دوسرا نہیں ہوگا۔

Comments are closed.