مسجد “خورد” کا “نقش کلاں”
مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی
نائب ناظم المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد
ریاست تلنگانہ کے تاریخی شہر ورنگل میں واقع مسجدِ خورد اپنے نام کے برعکس وسعت اور بلندی کا استعارہ ہے۔ دو منزلہ یہ عالی شان عمارت اپنے دامن میں دو ہزار سے زائد نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے، جہاں خواتین کے لیے بھی علیحدہ جگہ مختص ہے۔ لیکن المیہ یہ تھا کہ ایک گنجان مسلم آبادی کے قلب میں ہونے کے باوجود، فجر کی سپیدہ سحری میں یہاں بمشکل دس پندرہ صف آرا نظر آتے تھے۔

ایک صبح، جب آسمان پر ابھی اجالا پوری طرح پھیلا بھی نہ تھا، مسجد کے ذمہ دار جناب عبدالجلیل خان صاحب (مقیم حیدرآباد) نے امام صاحب سے مقتدیوں کی تعداد پوچھی۔ جواب تشویش ناک بھی تھا اور فکر انگیز بھی۔ یہیں سے اس تبدیلی کا آغاز ہوا جس نے جمود کے بندھن توڑ دیے۔
تشویش سے تاثیر تک کا سفر
بعض مفکرین کا قول ہے کہ اگر آپ حالات بدلنا چاہتے ہیں تو "دائرہ تشویش” کی قید سے نکل کر "دائرہ تاثیر” میں قدم رکھیں۔ محض افسوس کرنے سے تبدیلی نہیں آتی، عمل کی ایک چنگاری پورے ماحول کو روشن کر دیتی ہے۔ عبدالجلیل خان صاحب نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے مصلحت اور حکمت کو یکجا کیا اور ایک ولولہ انگیز اعلان کروایا:
"جو نونہال مسلسل دو ماہ تک نمازِ فجر کی باجماعت پابندی کریں گے، انہیں ‘ہیرو’ کمپنی کی سائیکل بطور انعام دی جائے گی۔”
ترغیب کے لیے پہلے ہی دن ایک چمکتی ہوئی سائیکل مسجد کے احاطے میں کھڑی کر دی گئی، جو بچوں کے لیے کسی خواب سے کم نہ تھی۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کےلیے نوجوانوں کی ایک ٹیم بنائی گئی، جو در و دہلیز تک پہنچ کر بچوں میں جوش و ولولہ بھرتے اور سرپرستوں کو آمادہ کرتےجاتے۔
تبدیلی کی لہر اور ثمرات
اکتوبر اور نومبر 2025ء کے مہینے اس تحریک کے گواہ بنے۔ 8 سے 15 سال کے 25 بچوں نے اس کارِ خیر میں نام لکھوائے۔ محنت رنگ لائی؛ دس بچوں نے صد فیصد حاضری کا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ بقیہ بچوں نے بھی استقامت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا سب سے خوش آئند پہلو یہ رہا کہ بچوں کی انگلی تھامے گھر کے بڑے بھی مسجد کی راہ لینے لگے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں پندرہ نمازیوں کا ملنا محال تھا، آج وہاں سو سے زائد فرزندانِ توحید فجر کی ٹھنڈک میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
تقریبِ تقسیمِ انعامات: ایک یادگار شام
آج مسجدِ خورد میں ان ستاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ صدارت کے فرائض ورنگل کے ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا فصیح الدین قاسمی صاحب نے انجام دیے، جبکہ راقم الحروف کو بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور کلیدی خطاب پیش کیا۔

تقریب کا سماں دیدنی تھا۔ انعام پانے والے بچوں کی آنکھوں میں کامیابی کی چمک تھی، تو وہ بچے جو کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے، ان کے دلوں میں مستقبل کے لیے عزم اور آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ یہ صرف سائیکلوں کی تقسیم نہیں تھی، بلکہ ایک نئی نسل کو مسجد سے جوڑنے کا وہ عہد تھا جو ان کی زندگیوں میں انقلاب برپا کرے گا۔
Comments are closed.