ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ کی رحلت :ایک عہد ساز ملی رہنما کی جدائی
شاہنواز بدر قاسمی
زندگی بعض اوقات انسان کو ایسے صدمات سے دوچار کرتی ہے جن کی شدت لمحوں میں دل و دماغ کو مفلوج کر دیتی ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب وقت تھم سا جاتا ہے اور انسان بے اختیار ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان معلق ہو جاتا ہے۔ آج صبح کچھ ایسا ہی لمحہ میرے لیے بھی تھا۔ تقریباً سات بجے، جب سترہ گھنٹے کی طویل تاخیر کے بعد تھکا دینے والا سفر طے کر کے میری ٹرین پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر آ کر رکی، تو میں نے پلیٹ فارم پر اترتے ہی حسبِ معمول موبائل فون چیک کیا۔
واٹس ایپ پر جناب مولانا صفدر ندوی صاحب کا پیغام نظر آیا۔ چند سطروں پر مشتمل یہ پیغام میرے لیے کسی صدمۂ عظیم سے کم نہ تھا۔ اس میں درج تھا کہ مشہور و معروف ملی رہنما، آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (IOS) کے بانی و چیئرمین اور متعدد اہم علمی، فکری اور سماجی اداروں کے سرپرست، محترم جناب ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ آج صبح دہلی کے ایک نجی اسپتال (میکس ہاسپٹل) میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اِنّا للّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔
یہ خبر محض ایک فرد کی رحلت کی اطلاع نہ تھی، بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک طویل فکری و ملی جدوجہد کے اختتام کا اعلان تھی۔ ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل تھے جنہیں کسی ایک عہدے، کسی ایک ادارے یا کسی ایک شناخت کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ بیک وقت ایک سنجیدہ مفکر، ممتاز ماہرِ معاشیات، بالغ نظر دانشور، مدبر منتظم اور ملتِ اسلامیہ ہند کے درد کو اپنے سینے میں بسائے ہوئے ایک سچے، بے لوث اور دور اندیش رہنما تھے۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ کی پیدائش 9 اکتوبر 1945 کو ریاست بہار کے ضلع مدھوبنی کے ایک پسماندہ گاؤں رانی پور میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک دیندار، محنتی اور اصول پسند گھرانے سے تھا۔ ان کے والد محترم محمد عبدالجلیل ایک سنجیدہ مزاج، راست گو اور بااصول انسان تھے، جنہوں نے اپنے صاحبزادے کی ابتدائی تربیت میں علم، دیانت، خودداری اور سچائی کو بنیادی اقدار کے طور پر شامل کیا۔ بہار کے اسی دیہی مگر تہذیبی اور فکری طور پر زرخیز ماحول میں ڈاکٹر صاحبؒ کی شخصیت کی بنیاد پڑی، جہاں سادگی، وقار اور مقصدیت زندگی کا شعار تھیں۔
ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے شوق نے انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تک پہنچایا۔ علی گڑھ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری دبستان اور تحریک کا نام ہے، اور ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ کی فکری تشکیل میں اس ادارے کا کردار نہایت اہم رہا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات (Economics) کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے معیشت کو محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ سماجی انصاف، مساوات اور محروم طبقات کی بااختیاری کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھنا شروع کیا۔ یہی فکر آگے چل کر ان کے پورے علمی، تحقیقی اور عملی سفر کی اساس بنی۔
ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ کی علمی صلاحیت، فکری گہرائی اور تجزیاتی بصیرت جلد ہی بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کی جانے لگی۔ انہوں نے سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ میں اقتصادی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جہاں قومی معیشت، پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی سے متعلق اہم امور میں ان کی آراء کو غیر معمولی وقعت حاصل رہی۔ اسی طرح وہ جامعہ امام محمد بن سعود سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ رہے، جہاں تدریس کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق بھی ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہی۔
ان کی علمی زندگی کا ایک نہایت روشن، بابرکت اور تاریخی باب مدینہ منورہ میں واقع شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس سے وابستگی ہے۔ یہاں انہوں نے قرآنِ مجید کے مختلف زبانوں میں تراجم کے عظیم الشان منصوبے میں چیف کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ ذمہ داری محض ایک انتظامی منصب نہ تھی، بلکہ اس کے پیچھے ان کا گہرا دینی شعور، علمی دیانت اور امتِ مسلمہ کے ساتھ قلبی وابستگی کار فرما تھی۔
تاہم ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ کی اصل اور دائمی شناخت ان کی ملی، تنظیمی اور فکری خدمات سے قائم ہوئی۔ سنہ 1986 میں انہوں نے نئی دہلی میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (IOS) کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ دراصل ان کے اس فکری خواب کی عملی تعبیر تھا جس کے تحت علم کو سماجی تبدیلی، انسانی وقار، اقلیتی حقوق کے تحفظ اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ بنایا جانا تھا۔
ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ کی قیادت میں IOS نے سماجی و اقتصادی مسائل، انسانی حقوق، مذہبی و ثقافتی تنوع، اور اقلیتوں کے حالات پر سینکڑوں تحقیقی منصوبے مکمل کیے۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں معیاری کتابیں، رپورٹس اور علمی جرائد شائع ہوئے، جو آج ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تحقیقی حوالہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ IOS کا علمی معیار، غیر جانبداری اور فکری سنجیدگی دراصل ڈاکٹر صاحبؒ کی بصیرت اور اصول پسندی کا مظہر تھی۔
اسی طرح سنہ 1992 میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے ساتھ مل کر آل انڈیا ملی کونسل کی بنیاد رکھنے میں ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ نے نہایت کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ وہ حضرت قاضی صاحبؒ کے قریبی، معتمد اور ہم فکر رفقاء میں شامل تھے۔ ملی کونسل کے قیام، اس کے فکری خدوخال متعین کرنے، اور اسے ایک ہمہ گیر، باوقار اور مؤثر قومی پلیٹ فارم بنانے میں ان کی حکمتِ عملی اور معاملہ فہمی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ہمیشہ ملت کے مسائل کو وقتی جوش اور جذبات کے بجائے طویل المیعاد فکری منصوبہ بندی کے ساتھ دیکھنے کے قائل تھے۔
ایک دور میں، جب ملک میں کانگریس کی حکومت تھی، ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ حکومتی ایوانوں میں بھی ایک معتبر اور بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ مگر یہ قربت کبھی ذاتی مفاد، شہرت یا نمائشی اثر و رسوخ کا ذریعہ نہیں بنی۔ انہوں نے اس تعلق کو ہمیشہ ملت کے اجتماعی مفادات، تعلیمی حقوق، آئینی تحفظات اور سماجی انصاف کے لیے استعمال کیا۔ یہی ان کی قیادت کا امتیاز اور ان کے کردار کی سب سے نمایاں خوبی تھی۔
ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ کے عالمی روابط بھی نہایت مضبوط اور بامعنی تھے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سمیت عالمی سطح کی متعدد اہم سیاسی، فکری اور علمی شخصیات سے ان کے قریبی مراسم تھے۔ یہ تعلقات محض رسمی نوعیت کے نہیں تھے، بلکہ عالمی سطح پر مسلم اقلیتوں، انسانی حقوق اور انصاف پر مبنی معاشرتی ڈھانچے کے فروغ کے لیے فکری اشتراک کا ذریعہ بنتے رہے۔
ان کی شخصیت اور خدمات کا اعتراف ان کی زندگی ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ نومبر 2025 میں ان کی سوانحِ حیات “Dr. Mohammad Manzoor Alam: Empowering the Marginalised” (مصنف: جناب اے یو آصف) شائع ہوئی، جس میں ان کی زندگی، جدوجہد، فکری خدمات اور سماجی اثرات کا جامع اور مدلل احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اس بات کی شاہد ہے کہ ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورا فکری عہد تھے۔
ذاتی طور پر مجھے مختلف سیمیناروں، کانفرنسوں اور علمی نشستوں میں ان سے ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔ ہر ملاقات میں ان کی متانت، انکساری اور فکری سنجیدگی نمایاں رہی۔ وہ کم گو تھے، مگر جب بولتے تو ان کی بات میں وزن، دلیل اور تجربے کی گہری جھلک صاف محسوس ہوتی تھی۔ خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ان کا رویہ نہایت مشفقانہ اور حوصلہ افزا تھا۔ نوجوانوں کو آگے بڑھانا، ان میں فکری اعتماد پیدا کرنا اور انہیں ملت کے لیے مؤثر، باکردار اور باصلاحیت قیادت میں ڈھالنا ان کی زندگی کا مستقل مشن رہا۔
گزشتہ چند برسوں سے علالت کے باعث ان کی جسمانی سرگرمیاں محدود ضرور ہو گئی تھیں، مگر ان کا فکری اثر، ان کی معنوی موجودگی اور ان کی رہنمائی بدستور قائم رہی۔ جب کبھی صحت اجازت دیتی، وہ کسی نہ کسی ملی یا علمی پروگرام میں ضرور شریک ہوتے اور اپنی خاموش مگر بامعنی موجودگی سے اہلِ مجلس کو فکری توانائی عطا کرتے۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ کی رحلت ملتِ اسلامیہ ہند کے لیے ایک عظیم فکری، تنظیمی اور علمی نقصان ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو خاموشی سے ادارے بناتے ہیں، افراد کو جوڑتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری راستے ہموار کرتے ہیں۔ ان کا خلا فوری طور پر پُر ہونا ممکن نہیں، مگر ان کے چھوڑے ہوئے نقوش، افکار، ادارے اور علمی روایت آنے والے وقتوں تک رہنمائی کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔
آخر میں بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی علمی و ملی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ملتِ اسلامیہ ہند کو ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیز ان کے اہلِ خانہ، پسماندگان، رفقاء اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل اور حوصلۂ عظیم عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Comments are closed.