اپنے بچوں کو مساجد سے جوڑئیے۔ورنہ آنے والی نسلیں دین سے بےبہرہ ہوجائیں گی
مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
جامعہ نگر نئی دہلی
اسلام میں مساجدکا اپناایک الگ ہی دینی۔روحانی اورکردارسازی کاانقلابی رول ہے۔مساجدکے بغیر ایک مسلم اوراسلامی معاشرےکاتصورہی نہیں کیاجاسکتا۔مساجدمرکزتوحیدبھی ہے۔اورایمانی کردارسازی کی جان بھی ہے اورانسانی تربیت گاہ بھی۔ اس کی اثرانگیزی کایہ عالم ہےکہ جب کوئی بندہ ۔خواہ عمرکےکسی بھی مرحلے میں ہومسجدکارخ کرتاہےتواس کے اندرکی انسانیت۔انسانی شرافت اورتحمل وبردباری اورمتانت وسنجیدگی یکایک جاگ اٹھتی ہے۔ایک اخلاقی اورسولائزمعاشرہ جس طرح کے انسان کی توقع رکھتاہے۔ایساانسان وہاں سے ڈھل کرنکلتاہے۔اس لئیے شیطان کبھی نہیں چاہتاکہ کسی انسانی آبادی میں مساجدکاوجودرہے۔کیونکہ ان کی وجہ سے انسان اوربنی آدم کو غلط راستوں پرڈالنے کے شیطانی اہداف میں رکاوٹ پیداہوتی ہے۔مسجدسے جڑےہوئے انسان سے آوارگی۔برخصلتوں اورجرائم کے جذبات پزمردہ ہوجاتے ہیں۔اوراعلی انسانی اقداران کےاندر موجیں مارنےلگتاہے۔برے خیالات اورفاسد نفسانی خواہشات کچل جاتےہیں۔توحید کی شمعیں قلب وجگرمیں روشن ہوجاتی ہیں۔ زندگی سے مایوسیاں راہ فراراختیارکرتی ہیں اوراللہ کی ذات سےتوکل واعتماداستوارہوتااورصبرواستقامت اورفرحت وانبساط میسرہونےلگتے ہیں۔۔قران نے حضرت لقمان کی اپنے فرزندکو اپنی اصلاح۔اپنے عقائدواعمال کی پاکیزگی۔اوراسی کےساتھ معاشرے کے اصلاح کی فکر۔برائیوں کےخاتمے کی کوشش۔اوران مراحل میں پیش آنےوالی دشواریوں پرصبرواستقامت اختیارکرنے والی نصیحت کاتذکرہ ان الفاظ میں کیاہے۔:”یابنی اقم الصلوۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکر واصبرعلی مااصابک ان ذلک من عزم الامور“(سورہ لقمان 17)۔اس آیت میں اقامت صلات کاذکر ہے صرف نمازاداکرنےکانہیں۔اس لئیے کہ گوشہ نشین ہوکراوردنیاسے کٹ کرعبادت اورزہداختیارکرناجس میں صرف اپنی فکرہودوسروں کی نہیں۔ یہ رھبانیت ہے۔اوراسلام میں رھبانیت اورتجرد۔یعنی تنہائی پسندی نہیں ہے۔عبادت کےلئے یکسوہوناالگ چیزہے۔اقامت صلاۃ اس بات کامتقاضی ہےکہ اجتماعیت ہو یونٹی اورکمیونٹی ہو اوراس کے ساتھ مل کرروحانی اوراخلاقی سولائز معاشرہ تشکیل دیاجائے۔۔اسی طرح حضرت یعقوب کی اپنےبیٹوں کو وصیت ونصیحت کہ بچوبتاؤمیرےمرنےکےبعد تم لوگ کس کی عبادت کروگے۔؟اس پرفرزندان یعقوب علیہ السلام کایہ جواب کہ ہم توآپ کےرب کی اورآپ آباواجدادابراہیم واسماعیل اوراسحاق کےرب کی عبادت وبندگی کرتے رہیں گے۔۔قران نےسورہ بقرہ١٣٣میں جب بنی اسرائیل اوریہودیوں نےدعوت محمدی صلى الله عليه واله وسلم سے روگردانی کی تویعقوب سےان کی اولاد کاکیاگیاعہدوپیمان یاددلاتےہوئے تفصیل بیان کی ہے۔”ام کنتم شھداء اذحضریعقوب الموت اذقال لبنیہ ماتعبدون من بعدی قالوانعبدالھک والہ ابائک ابراہیم واسماعیل واسحاق الھاواحدا۔ ونحن لہ مسلمون“(سورہبقرہ133)۔ میرے عزیزو ۔دیکھوقران نے آنےوالی نسلوں کےایمان کی فکرکرنےکی کیسی تعلیم دی ہے۔آج ہماری اولادیں مرکزتزکیہ اورمساجدسےدورہیں۔جس کی وجہ سے کفروالحاد۔آوارگی۔منشیات ۔اخلاقی بگاڑ۔سرکشی۔جرائم اورارتدادکی راہ پرجارہی ہیں۔ہمیں ان کی کوئی فکرنہیں۔ہم ”یایھاالذین آمنوا قواانفسکم واھلیکم نارا۔وقودھا الناس والحجارۃ“(سورہ تحریم 6)۔کافرمان خداوندی بھول گئے۔آج اگرہماراکوئی بچہ اسکول نہ جائے۔آفس اورکام پرنہ جائے توہم اس پرآگ بگولہ ہوجاتےہیں۔مگرمسجدنہ جائے اورنمازنہ پڑھے توہمارےاوپراس کاکوئی اثرنہیں ہوتا۔ہمیں احساس ہی نہیں ہوتاکہ اللہ کی بندگی سےدورہوکرہماری اولاد ہلاک وبربادہورہی ہے۔ دوستو !سوچو! اگرہم نے اپنے بچوں کومساجدسےنہیں جوڑا ۔ان کونمازوقران اوردین کاعادی نہیں بنایا۔انکی اخلاقی اورروحانی تربیت نہیں کی۔توہم آخرت میں اللہ کےروبروجواب دہی سے نہیں بچ سکیں گے۔اورنہ ہی ان کوآنےوالے ارتدادی اورالحادی طوفان سے بچاسکیں گے۔ہمارے دین وایمان کےتحفظ کے لئیے ہماری مساجدکی حیثیت ماں کی گود کی طرح ہے۔جیسے ماں اپنی گود میں بچے کی حفاظت کرتی ہے۔ایسے ہی ہماری مساجدہمارے دین اورعقائدکی حفاظت کرتی ہیں۔اس لئیے اپنے بچوں کومساجدلےجائیے ۔ان کوعادی بنائیے اوران کے دین ودنیاکی حفاظت وکامیابی کاسامان کیجئے۔ اللہ ہماراحامی وناصرہو آمین۔وصلی اللہ علی خاتم النبیین وسلم۔۔-
Comments are closed.