ڈاکٹر محمد منظور عالم — ایک عہد کا اختتام : انیس الرحمن قاسمی

 

ڈاکٹر منظور عالم دل درد مند فکر ارجمند رکھنے والے ملی رہنما تھے : مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی
ڈاکٹر منظور عالم تاریکیوں کے دور میں امید آفتاب تھے محمد نافع عارفی
ممبئی (پریس رلیز) آل انڈیا ملی کونسل نئ دہلی کے جنرل سیکرٹری، انسٹیٹیوٹ آف ابجکٹو سٹڈیز کے بانی اور متعدد علمی فکری اداروں کے رکن اور سرپرست، عالمی شہرت یافتہ محقق اور فکر ساز شخصیت جناب ڈاکٹر منظور عالم صاحب کی وفات پر آج ممبئی کے حج ہاؤس میں ادارہ دعوة السنة ممبئ مہا راشٹرا کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئ، جس کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے کار گزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی نے کی، واضح ہو کہ مولانا انیس الرحمن قاسمی، آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جنرل سیکرٹری مفتی محمد نافع عارفی، آل انڈیا ملی کونسل تلنگا نہ کے جنرل سیکرٹری مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی آج ادارہ دعوة السنة ممبئی کے بانی خادم قرآن حضرت مولانا محمد شاہد ناصری کی دعوت پر ممبئ میں جاری سہ روزہ کل ہند مسابقة القرآن الكريم میں شرکت کی غرض سے ممبئی تشریف لائے ہیں، جہاں ڈاکٹر صاحب کی وفات کی جانکاہ خبر موصول ہوئی، ڈاکٹر صاحب مرحوم کی وفات پر اسی مسابقہ قرآن کے دوران حج ہاؤس ممبئ یہ تعزیتی نشست منعقد ہوئ اور مرحوم کے لئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی گئ، اس تعزیتی نشست میں اپنی افتحاحی گفتگو میں ادارہ دعوة السنة کے بانی مولانا محمد شاہد ناصری نے اپنے گہرے صدمے کا اظہار اور ڈاکٹر صاحب مرحوم سے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ

ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال کی خبر محض ایک فرد کے دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع نہیں، بلکہ یہ اس عہد کے خاتمے کا اعلان ہے جس میں علم، فکر، اصول پسندی اور اجتماعی شعور کو رہنمائی حاصل تھی۔ وہ ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے خاموش مگر گہرے اثرات کے ساتھ ملت اور ملک کی فکری سمت متعین کی۔، جبکہ ملی کونسل کے کار گزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی نے ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اور ان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ
9 اکتوبر 1945ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنی زندگی کا مقصد محض ذاتی کامیابی کو نہیں بنایا، بلکہ علم کو سماجی ذمہ داری اور فکر کو عملی جدوجہد سے جوڑ دیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انہوں نے جس بصیرت کے ساتھ ہندوستانی سماج، خصوصاً مسلمانوں کے مسائل کو سمجھا اور پیش کیا، وہ انہیں محض ایک عالم یا محقق نہیں بلکہ ایک دور اندیش مفکر کے مقام پر فائز کرتی ہے۔
1986ء میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (IOS) کا قیام ان کے فکری وژن کا عملی اظہار تھا۔ یہ ادارہ تحقیق، مکالمہ اور پالیسی سازی کا ایسا پلیٹ فارم بنا جہاں جذبات کے بجائے دلیل، شور کے بجائے شعور اور وقتی ردِ عمل کے بجائے دیرپا حل تلاش کیے گئے۔ IOS کے ذریعے انہوں نے یہ واضح پیغام دیا کہ کسی بھی قوم کی بقا اور ترقی کا راستہ سنجیدہ علمی کام سے ہو کر گزرتا ہے۔
آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری کے طور پر ڈاکٹر منظور عالم نے ملت کو اتحاد، آئینی شعور اور جمہوری اقدار کی اہمیت کا احساس دلایا۔ وہ تصادم کے بجائے مکالمے، شکایت کے بجائے حکمت اور مایوسی کے بجائے امید کے قائل تھے۔ ان کا طرزِ عمل اس بات کی مثال تھا کہ مشکل حالات میں بھی وقار، توازن اور اصولوں کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جنرل مفتی محمد نافع عارفی نے کہا کہ
ڈاکٹر منظور عالم کی سب سے بڑی پہچان ان کی غیر جذباتی مگر بے باک فکری جرات تھی۔ وہ نہ وقتی مقبولیت کے خواہاں تھے اور نہ کسی دباؤ کے تحت اپنی رائے بدلنے والے۔ ان کی تحریریں اور تقاریر آج بھی یہ سبق دیتی ہیں کہ قومیں نعروں سے نہیں، بلکہ علم، کردار اور مستقل مزاجی سے بنتی ہیں۔
ان کا انتقال ملتِ اسلامیہ ہند کے لیے ایک ایسا خلا چھوڑ گیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔ تاہم ان کی اصل میراث ان کے قائم کردہ ادارے، ان کی تیار کردہ فکری دستاویز اور وہ علمی سرمایہ ہے جو مستقبل میں امت کی رہنمائی کرتا رہے، وہ نا امیدی کی تاریکی میں آفتاب امید تھے، اس تعزیتی نشست میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل تلنگا نہ کے جنرل سیکرٹری مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی نے کہا کہڈاکٹر محمد منظور عالم فرد میں انجمن تھے؛ وہ ‘دلِ دردمند’ اور ‘فکرِ ارجمند’ کے مالک اور امین تھے۔ انہوں نے علم و دانش کی دنیا میں مسلمانوں کی قیادت کی، فکر و نظر کے افق پر مثل آفتاب چمکتے رہے، ان تمام خوبیوں کے ساتھ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ اپنے فیصلوں، تحریروں اور نظریات میں کہیں بھی ملت کے اجتماعی موقف سے الگ نہیں ہوئے۔ وہ ہمیشہ اتحاد کا عنوان بنے رہے۔

انہیں زمانے کا گہرا شعور اور مستقبل میں پیش آنے والے حالات کا ادراک تھا، اسی کو سامنے رکھ کر وہ پیش مندی اور منصوبہ بندی کرتے، علمی، فکری اور دستاویزی کاموں کی بنیاد رکھتے۔ وہ اپنی ان گوناگوں خوبیوں اور خصوصیات کی وجہ سے ملک کے قائدین اور دانشوروں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے تھے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے ہندوستان واپسی کے بعد پوری زندگی تحریک، تنظیم اور تعمیری امور کی نذر کر دی اور ہمیشہ اپنے دامن کو اختلاف و انتشار سے پاک رکھا۔ ڈاکٹر منظور عالم نے اس ملک میں ‘تھنک ٹینکس’ (Think Tanks) کو ایک نئی راہ دکھائی کہ کس طرح آپ اپنے قومی اور ملی موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی دانشوری کر سکتے ہیں اور فکر سازی و نظریہ سازی میں بلند کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب جن اداروں سے وابستگی رکھتے تھے، وہ ان کی شخصیت کے تنوع اور وسعت کا پتہ دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ ‘آئی او ایس’ (IOS) کے مؤسس تھے، تو دوسری جانب آل انڈیا ملی کونسل میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے دستِ راست اور معاون رہے، اسلامک فقہ اکیڈمی سے روز اول سے وابستگی رہی، نیز آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی ارکان میں شامل رہے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کا انتقال کسی فرد یا ادارہ کا نقصان نہیں؛ بلکہ یہ پوری ملت کا خسارہ ہے۔
اس تعزیتی نشست میں ملک کے مختلف ریاستوں سے مسابقہ قرآن کریم شرکت کی غرض سے تشریف لانے والے علماء اور حفاظ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں مفتی اشفاق قاضی ممبئ، حضرت مولانا سعید الرحمان قاسمی ممبئی مفتی محمد ساجد ناصری حیدرآباد، مفتی مجتبی قاسمی امروہہ، مفتی مختار قاسمی گیا، مولانا ہدایت اللہ عارفی ندوی دہلی، قاری جاوید ممبئ، مفتی عبیداللہ قاسمی، مولانا غفران ساجد قاسمی، وغیرہ کے نام شامل ہیں، اس نشست کی نظامت مشہور ناظم مولانا شمیم اختر ندوی نے کی، اخیر میں ڈاکٹر صاحب مرحوم کے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی گئ، مولانا انیس الرحمن قاسمی کی دعا پر نشست اختتام پذیر ہوئ

Comments are closed.