انجمن حمایتُ الاسلام بھائی میاں احسانے اردو ہائی اسکول ایٔنڈ ڈاکٹر اے۔اے۔ دیشمکھ جونیئر کالج، مہاڈ کے زیرِ اہتمام تعلیمی شعور کی شاندار جھلک

“دی بیٹل آف برائٹ مائنڈز

*(The Battle of Bright Minds)”*

 

الحمد للہ انٹر اسکول تعلیمی مقابلہ دی بیٹل آف ماںٔنڈز نہایت کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں سائنس، ریاضی، انگلش اور جنرل نالج پر مشتمل سلیبس سے آبجیکٹو طرز کے سوال و جواب شامل کیے گئے۔

 

تقریب کی صدارت محترم محمد علی اسانے صاحب (صدر، اے۔ایچ۔آئی، رائے گڑھ) نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے محترمہ لیِنا کرتیکر (ایم۔اے، ایم۔ایس۔ڈبلیو — M.A, M.S.W.)، انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن آفیسر (Information and Public Relation Officer)، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر راشٹریہ اسمارک شریک رہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طلبہ کو محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی اور اس بات کا یقین دلایا کہ اگر کسی طالب علم کو رہنمائی یا مدد درکار ہو تو وہ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

 

مہمانانِ اعزازی میں شامل جناب فیض خطیب صاحب نے موجودہ دور کے بڑھتے ہوئے تعلیمی مقابلے (کمپیٹیشن – Competition) پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ انڈین نصاب (انڈین کریکولم – Indian Curriculum) نہایت وسیع اور مقابلہ جاتی ہے، اس لیے تدریسی نظام میں برطانوی نصاب (برٹش کریکولم – British Curriculum) کی طرح تصوری تعلیم (کانسیپٹ لرننگ – Concept Learning) کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ طلبہ محض رَٹّا لگانے کے بجائے تصورات کو گہرائی سے سمجھ سکیں اور عملی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

 

انہوں نے بالخصوص بچیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دینِ اسلام خواتین کو تعلیم سے نہیں روکتا بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ خاص طور پر طبی شعبہ (میڈیکل فیلڈ – Medical Field) میں مسلم بچیوں کی اشد ضرورت ہے، اس لیے اعلیٰ تعلیم کی جانب سنجیدہ توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانے میں مسلمان تعلیمی میدان میں سب سے آگے تھے، مگر آج پیچھے جا رہے ہیں، جسے بدلنے کے لیے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔

اُنہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اردو میڈیم اسکول آہستہ آہستہ بند ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ انگریزی میڈیم کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ چونکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگریزی زبان کی اشد ضرورت ہے، اس لیے وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اردو میڈیم تعلیمی اداروں کو سیمی انگریزی (Semi-English) نظام میں تبدیل کیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بنیادی مضامین یعنی طبعیات (فزکس – Physics)، کیمیا (کیمسٹری – Chemistry) اور ریاضی (میٹس – Maths) کو انگریزی زبان میں پڑھایا جائے، جس سے طلبہ کو آئندہ تعلیمی مراحل میں بے حد فائدہ ہوگا۔ اس طریقے سے طلبہ کی ذخیرۂ الفاظ (وکیبلری – Vocabulary) میں اضافہ ہوگا، مضامین کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور جب وہ اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن – Higher Education) کے لیے آگے بڑھیں گے تو انہیں سیکھنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

 

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اردو میڈیم کے طلبہ آگے جا کر زبان کی کمزوری کے باعث جدوجہد (اسٹرگل – Struggle) کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی صلاحیتیں پوری طرح سامنے نہیں آ پاتیں۔ لہٰذا تعلیمی نظام میں یہ اصلاح نہایت ضروری ہے تاکہ طلبہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں.

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہر بچے کی اپنی الگ صلاحیت اور استعداد ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر ماں باپ یہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ کامیاب ہو اور ترقی حاصل کرے، مگر والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے بچوں کی صلاحیتوں کو پرکھیں، اساتذہ سے مشورہ کریں اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی یہ فیصلہ کریں کہ بچے کو کس شعبے میں آگے بڑھانا ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا بچہ انجینئرنگ کے قابل ہے، میڈیکل کے میدان کے لیے موزوں ہے یا کسی اور تعلیمی یا فنی کورس میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کامیابی کا معیار صرف زیادہ تنخواہ یا مالی فائدہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ تعلیم یا ہنر کے ذریعے مختلف شعبوں میں آگے بڑھ کر دین اور دنیا دونوں میں ترقی حاصل کرنا ہی اصل کامیابی ہے.

اسی موقع پر اعزازی مہمان جناب سائم دیشمکھ نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مقابلے میں بڑی تعداد میں بچیوں کی شرکت دیکھ کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بچیوں کا تعلیمی اور مقابلہ جاتی سرگرمیوں میں آگے بڑھنا نہایت خوش آئند ہے اور کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔

اس پروگرام کی نظامت بھیونڈی کے معروف تعلیمی و سماجی شخصیت جناب ضیاءالرحمن صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی، جن کا سوالات پیش کرنے کا انداز مؤثر، منظم اور طلبہ کی رہنمائی سے بھرپور تھا، جس کے باعث پروگرام نہایت کامیاب اور یادگار ثابت ہوا۔

 

پروگرام نہایت منظم، خوشگوار اور شاندار انداز میں مکمل ہوا۔ تمام مقابلہ جات میں اوّل، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو مہمانِ اعزازی افتخار دیشمکھ اور دیگر معزز مہمانوں کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا، جبکہ ان کی شاندار کارکردگی پر بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ آخر میں منتظمین کی جانب سے تمام معزز مہمانوں، اساتذہ، طلبہ، والدین اور شرکائے پروگرام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔

 

یہ پروگرام طلبہ کی تعلیمی اور فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی ذہنی نشوونما میں اضافہ کرنے اور ان کے اندر تعلیمی شعور کو فروغ دینے کے حوالے سے ایک نہایت مؤثر، مثالی اور قابلِ تحسین اقدام ثابت ہوا۔

Comments are closed.