ڈاکٹر محمد منظور عالم ؒکی شخصیت کا معتبر حوالہ – ’’فراست و دانشمندی ‘‘
ڈاکٹر صاحب کی وفات ہندوستان ہی نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کا بہت بڑا خسارہ
نئی دہلی(پریس ریلیز)
ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی خصوصیات دوچار لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتا، وہ گوناگوں صفات کے مالک تھے، وہ ہم سب کے محسن بھی تھے، مربی بھی تھے، اور دوست بھی، ان کی شخصیت عالمی تھی، وہ بہترین منصوبہ ساز تھے، ان کی خدمات نمایاں ہیں، آئی او ایس، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، آل انڈیا ملی کونسل اور یونیورسل پیس فاؤنڈیشن جیسے ادارے ان ہی کی کوششوں سے پروان چڑھے جو ملک میں مختلف محاذوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی وفات پر مورخہ ۱۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو منعقدہ تعزیتی نشست میں حضرت مولانا عتیق احمد بستوی قاسمی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا عبد اللہ طارق صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بہت بلند پرواز پرندوں کے شکاری تھے، علماء، ماہرین، دانشوران، وکلاء اور طلباء ہر طرح کے افراد سے ان کا تعلق تھا، وہ جس کو جو کام سپرد کرتے تو اس شخص کو مکمل آزادی دیتے تھے تاکہ وہ یکسو ہوکر آزادانہ طور پر اپنا کام مکمل کرسکے، ڈاکٹر صاحب کے مطمح نظر صرف کام تھا، وہ دوسری غیر ضروری باتوں سے قطع نظر صرف کام پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا انتقال نہ صرف ہندوستان بلکہ اس ملت کا بہت بڑا خسارہ ہے، انھوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی ان تحریکوں سے رابطہ رکھا جو ملت اسلامیہ کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں تھیں، ڈاکٹر صاحب کا تعلق نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر ان تحریکوں اور لوگوں سے رہا ہے جو ملت اسلامیہ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کے متنوع کاموں میں ایک اہم کام برادران وطن تک دین کی دعوت کو پہنچانا بھی تھا ، اسی پس منظر میں انہوں نے یونیورسل پیس فاؤنڈیشن قائم کیا۔ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب نے کہا کہ دنیا میں جو بھی آتا ہے اسے ایک نہ ایک دن جانا ہے لیکن بعض شخصیتیں ایسی ہیں جن کے جانے کا بڑا قلق ہوتا ہے، ڈاکٹر صاحب بھی ان ہی لوگوں میں سے ہیں جن کے جانے سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا اہم کام تھینک ٹینک تیار کرنا تھا؛ چنانچہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف شعبوں سے مفکرین، دانشوران، علماء و فضلاء کو جمع کیا اور آئی او ایس کے زیر اہتمام ایک تھنک ٹینک تیار کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مختلف میدانوں میں الگ الگ ادارے قائم کیے ، ایسے ہی اداروں میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا بھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کے ساتھ مل کر اس ادارہ کو قائم کیا تاکہ ملک کے مسلمانوں کے دینی اور جدید فقہی مسائل کو حل کیا جاسکے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب نے کہا کہ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ بے تکلف ہر شخص سے ملتے تھے اور اس کی کوششوں کی پذیرائی کرتے اور نئے میدانوں میں کام کرنے پر آمادہ کرتے ، وہ اپنے مشن کو لے کر بہت مخلص بھی تھے اور متحرک بھی۔ مولانا اجمل فاروق ندوی نے کہا کہ ہندوستان کے دانشوروں میںجو دو تین نام ہیں ان میں سے ایک ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کا ہے، ان کی دانشوری جمہور امت کی رائے سے انحراف نہیں بلکہ مطابقت کی کوشش ہے۔ مشہور صحافی سہیل انجم صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا ایک گوشہ تحقیق و تصنیف سے دلچسپی ہے، ڈاکٹر صاحب نے مختلف شخصیات سے مختلف شعبوں میں تحقیقی و تصنیفی کام لیے یا ان کے کاموں کو منظر عام پر لایا۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کے جانشین اور آئی او ایس کے نئے چیئرمین پروفیسر افضل وانی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو اگر کم لفظوں میں ڈیفائن کیا جائے تو دو الفاظ ایسے ہیں جن سے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے، وہ ہے ’’فراست اور دانشمندی‘‘۔
اس تعزیتی پروگرام میں مندرجہ بالا شرکاء کے علاوہ دوسری شخصیات مثلاً آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، مشہور صحافی جناب اے یو آصف، پروفیسر اسحاق فلاحی صاحب، جناب نوید حامد صاحب، مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب اور مولانا ارشد سراج الدین مکی اور مولانا عظیم اللہ صاحب وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا ۔ اس پروگرام کی صدارت مولانا عتیق احمد بستوی صاحب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی احمد نادر قاسمی صاحب نے ادا کیے۔ پروگرام میں جامعہ نگر کی معزز شخصیات، دانشوران، پروفیسرز، صحافی، علماء اور طلباء نے شرکت کی۔
Comments are closed.