اخوان المسلمون پر دہشت گردی کا فتوی،اسلامی فکر کے خلاف طاغوتی قوتوں کی عالمی سازش
احساس نایاب شیموگہ…
13 جنوری 2026 کو امریکہ نے اخوان المسلمون کی مصر، اردن اور لبنان میں موجود بعض شاخوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا۔
یہ اعلان کسی غیرجانبدار تحقیق، عدالتی عمل یا شفاف ثبوت کا نتیجہ نہیں بلکہ خالصتاً سیاسی دباؤ اور جغرافیائی مفادات کی پیداوار ہے۔۔۔
امریکہ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ اس کے نزدیک دہشت گردی کا معیار بندوق نہیں بلکہ نظریہ ہے۔
جو فلسطین کے مظلومین کے لئے فکری ہمدردی رکھے، وہ امریکہ کی لغت میں مجرم ہے، دہشت گرد ہے۔
اور جو فلسطینی بچوں پر بم برسائے، وہ امن پسند ہے، اتحادی ہے۔ اور یہ فیصلہ انصاف پر نہیں، اسرائیلی مفادات پر کھڑا ہے۔۔۔
اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے کر دراصل امریکہ نے کسی ایک تنظیم کو نہیں بلکہ اسلامی سیاسی فکر، فکری بیداری اور مسلم عوام کے شعور کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ امن کے نام پر خوف مسلط کرنے کی ایک اور گھناؤنی سازش ہے، جو انصاف نہیں بلکہ طاقت کی زبان بولتی ہے۔۔۔
اسی لئے آج عالمی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے.
کیا امریکہ واقعی دہشت گردی کے خلاف ہے، یا صرف ان نظریات کے خلاف جو اس کی سیاسی بالادستی کے لیے خطرہ بن جائیں؟
امریکہ نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ اس کے نزدیک قانون صرف کمزوروں کے لئے ہوتا ہے، اور دہشت گردی کی تعریف صرف وہی ہے جو اس کے مفادات سے ٹکرا جائے۔
اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینا دراصل اسلامی غیرت، فکری آزادی اور سیاسی خودمختاری کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
یہ فیصلہ سیکیورٹی کا نہیں، غلامی کا سرٹیفکیٹ ہے۔
یہ انصاف کا نہیں، استعمار کی مہر ہے۔
یہ دہشت گردی کے خلاف نہیں، بلکہ اسلام کے خلاف ایک سیاسی کارروائی ہے۔
امریکہ کو اخوان سے خطرہ بندوق سے نہیں، قلم سے ہے۔
نعرے سے نہیں، نظریے سے ہے۔
وہ نظریہ جو کہتا ہے کہ مسلمان صرف عبادت گزار نہیں بلکہ حکمرانی کا حق رکھنے والی امت ہے۔۔۔
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر وہ تحریک جو استعمار کے خلاف اٹھی، پہلے دہشت گرد کہلائی۔
نیلسن منڈیلا اور افریقی نیشنل کانگریس برسوں تک دہشت گرد کہلائے۔
الجزائر کی آزادی کی تحریک دہشت گرد کہلائی۔
ویتنام کی مزاحمتی تحریک دہشت گرد کہلائی۔
مگر ہر بار وقت نے ثابت کیا کہ وہ دہشت گرد نہیں تھے، وہ آزادی کے علمبردار تھے۔۔۔
آج امریکہ خود اس مقام پر کھڑا ہے جس کے ہاتھ عراق، افغانستان، فلسطین، لیبیا اور شام کے بچوں کے خون سے رنگے ہیں، مگر وہی خون آلود ہاتھ اخوان پر “دہشت گرد” کا لیبل چسپاں کر رہے ہیں۔
یہ انصاف نہیں، یہ سفاک مذاق ہے۔
اخوان المسلمون پر پابندی دراصل طاغوتی قوتوں کا کھلا اعلان ہے کہ اسلام کو زندہ مت رہنے دو، اسے صرف قبرستانوں، مسجدوں اور رسومات تک محدود رکھو۔
جو اسلام سیاست سے جڑا ہو وہ امریکہ کے لئے خطرہ ہے،
جو اسلام نظام بنے وہ مغرب کے لئے ناقابل برداشت ہے۔
یہی کھیل فلسطین کے ساتھ کھیلا گیا،
یہی کھیل جنوبی افریقہ کے سیاہ فاموں کے ساتھ کھیلا گیا،
یہی کھیل ہر اس قوم کے ساتھ کھیلا گیا جس نے خود کو غلام ماننے سے انکار کر دیا۔
طاغوتی قوتیں ہمیشہ سچ کو دہشت گرد کہتی ہیں، مگر تاریخ ہمیشہ انہیں ہی مجرم ثابت کرتی ہے۔
یہ فیصلہ اخوان کو کمزور نہیں کرے گا، بلکہ امریکہ کی اخلاقی اور ذہنی دیوالیہ پن کو مزید بے نقاب کرے گا۔
کیونکہ طاقتور ہمیشہ بندوق سے ڈراتا ہے،
مگر کمزور ہمیشہ لیبل سے۔
دہشت گرد وہ نہیں جو حق مانگے،
دہشت گرد وہ ہے جو حق دبائے۔
دہشت گرد وہ نہیں جو نظام بدلے،
دہشت گرد وہ ہے جو ظلم کو نظام بنائے۔
اگر اخوان واقعی دہشت گرد ہوتی تو امریکہ کو اسے نظریاتی طور پر شکست دینی چاہیے تھی ۔۔۔۔ دلیل سے، مکالمے سے، انصاف سے۔
لیکن جب دلیل کمزور ہو تو لیبل لگایا جاتا ہے، اور جب ظلم ننگا ہو تو اسے قانون کا نام دے دیا جاتا ہے۔
آج بھی عراق سے لے کر شام تک لاکھوں ماؤں کے آنسو، بچوں کی لاشیں اور ان شہروں کی راکھ امریکی جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبے ہیں ۔
مگر افسوس قاتل جج بن بیٹھا ہے اور مظلوم کو مجرم قرار دے رہا ہے۔۔۔۔
دراصل ان طاغوتی طاقتوں کو اصل خوف دہشت گردی سے نہیں،
اصل خوف اس امت کے جاگنے سے ہے۔
اصل خوف اس دن سے ہے جب مسلمان یہ سمجھ لے کہ وہ صرف عبادت گزار نہیں، وارثِ زمین ہے۔
اخوان کا جرم یہی ہے کہ وہ کہتی ہے
اسلام عبادت بھی ہے، نظام بھی ہے۔
اسلام دعا بھی ہے، دستور بھی ہے۔
اسلام سجدہ بھی ہے، قیادت بھی ہے۔
اور یہی بات مغرب کو سب سے زیادہ چبھتی ہے۔
اسلام کبھی فائلوں میں بند نہیں ہوا،
اسلام کبھی پابندیوں سے مرا نہیں،
اسلام کبھی امریکی فہرستوں سے ختم نہیں ہوا۔
اخوان کے نام پر پابندی لگ سکتی ہے،
مگر اخوان کے نظریے پر نہیں۔
اخوان کے کارکن قید ہو سکتے ہیں،
مگر اخوان کا خواب قید نہیں ہو سکتا۔
کیونکہ خواب وہی ہوتے ہیں جو ظالموں کی نیندیں اڑا دیں،
اور جو نیندیں اڑا دے… وہ کبھی دہشت گرد نہیں ہوتا۔
فیصلے بھلے طاقتور کریں،
مگر اصل فیصلہ تو وقت کرے گا۔ اور وقت ہمیشہ مظلوم کے حق میں فیصلہ لکھتا ہے۔۔۔۔
وہ جو حق بولے، اُسے دہشت کا نام دے کر چپ کرایا گیا،
اور جو شہر جلائے، وہی منصف کہلایا گیا۔
قلم کو مجرم کہا گیا، خون کو جواز ملا،
یہ کیسا انصاف ہے جہاں قاتل کو اعزاز ملا۔
سچ نے جب آنکھ اٹھائی تو زنجیر پہنا دی گئی،
اور جھوٹ کے ہاتھ میں دنیا کی تقدیر تھما دی گئی،
اور پھر، ایک لمحہ آیا جب خاموشی کے پردے پھٹ گئے،
خواب زمین پر اتر آئے،
اور سچ کے پرندے زنجیروں سے آزاد ہو کر اڑ گئے۔
ہر آنکھ جو اشک سے تر تھی، وہ روشن ہوئی،
ہر دل جو دبایا گیا تھا، وہ دھڑکنے لگا،
اور ہر قلم جو دبا تھا، وہ صفحہ بدلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
کیونکہ تاریخ کے سینے میں وہیں لکھا ہے،
دہشت گرد وہ نہیں جو سچ بولے،
دہشت گرد وہ ہے جو ظلم کی چھاؤں میں زندگی گزارے۔۔۔۔
اور جو خواب آزادی کے ہیں،
وہ کبھی فہرستوں، لیبلز یا قید میں مر نہیں سکتے۔
یہ خواب وہی ہیں جو رات کی تاریکی میں بھی روشنی کے مینار جلاتے ہیں،
اور جو روشنی پھیلائیں، وہ کبھی خوف کے سائے میں ڈھل نہیں سکتے۔۔۔۔
Comments are closed.