مسائل کےحل کےلیے مسلمان اپنے اندر قومی اور ملی شعور پیدا کریں: احمدحسین قاسمی

 

ضلع گریڈیہہ کے مختلف مقامات پر امارتِ شرعیہ کے علماء کا خطاب اور ایس آئی آر تربیتی کیمپ

 

(نمائندہ: گریڈیہہ17 جنوری 2026)

 

ریاست جھارکھنڈ میں امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے جاری ایس آئی آر بیداری و تربیتی مہم کے تحت مورخہ 16 اور 17 جنوری 2026 کو بروز جمعہ وسنیچرضلع گریڈیہہ کے مختلف مقامات پر ایس آئی آر سے متعلق تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ گزشتہ 20 دنوں سے پورے صوبے میں مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کی ہدایت پر SIR کے موضوع پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد جاری ہے۔گزشتہ شب جامع مسجد بھنڈاری ڈیہہ اور آج مورخہ 17؍جنوری کو دس بجے دن تیلو ڈیہہ اور بعد ظہر بلائی ڈیہہ ضلع گریڈیہہ میں بالترتیب پروگرام منعقد ہوئے۔ان پروگراموں کی صدارت اس وفد کے قائد معاون ناظمِ امارتِ شرعیہ جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے فرمائی۔اس موقع پر حضرت مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حالات سے مقابلہ اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے وہ اپنے اندر ملی اور اجتماعی شعور پیدا کریں۔ انہوں نے حاضرین کے سامنے امارت شرعیہ کا پیغام رکھتے ہوئے واضح کیا کہ اگر مسلمان اس وطن عزیز میں اجتماعی طور پر باشعور نہ ہوئے تو وہ اس ملک اور سماج کو اپنے وجود سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچا پائیں گے اور اپنے ملی وجود کی بقا و سالمیت میں انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا کرتے رہنا ہوگا۔ورکشاپ کے دوران ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ سے متعلق امور پر پروجیکٹر کے ذریعے تفصیلی اور عملی تربیت دی گئی اور شرکاء کو مرحلہ وار طریقۂ کار سے آگاہ کیا گیا۔ مفتی قیام الدین قاسمی نے ایس آئی آر کی تربیت دیتے ہوئے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ سرکاری کاغذات میں ناموں کی یکسانیت انتہائی ضروری ہے، تاکہ محض غفلت کی وجہ سے آئندہ نسلوں کو کسی بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسی سلسلے میں مولانا ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف اور دستاویزی امور پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دینی تعلیمات میں معاملات کو تحریری طور پر محفوظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے، لیکن یہ ہمارا ملی المیہ ہے کہ ہم کاغذات کے معاملے میں غفلت برتتے ہیں، جس کے نتیجے میں فتنہ انگیز عناصر کو موقع مل جاتا ہے اور ہم حق پر ہونے کے باوجود نقصان اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں کو تاکید کی کہ مکمل بیداری کے ساتھ اپنے کاغذات درست کرائیں اور انہیں محفوظ رکھیں۔مفتی قیام الدین قاسمی نے پروجیکٹر کے ذریعہ ایس آئی آر کی مرحلہ وار عملی تربیت دی اور نوجوانوں سے عملی مشق بھی کرائی۔ انہوں نے فارم 6 اور فارم 8 کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے وہ فارم 6 پُر کریں، اور اگر ووٹر لسٹ میں کسی قسم کی غلطی ہو تو اس کی تصحیح کے لیے فارم 8 استعمال کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے آن لائن طریقے سے یہ تمام امور انجام دینے کا عملی طریقہ بھی سمجھایا۔ان پروگراموں کے دوران قاضیٔ شریعت ضلع گریڈیہہ مولانا ابو صالح صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امارتِ شرعیہ نے ہمیشہ ملک و ملت کی بے لوث خدمت انجام دی ہے، اور جب بھی رہنمائی کی ضرورت پیش آئی، امارتِ شرعیہ صفِ اول میں نظر آئی۔ ایس آئی آر سے متعلق یہ عملی تربیت بھی انہی خدمات کا تسلسل ہے۔وہیں امارتِ شرعیہ تنظیم ضلع گریڈیہہ کے ذمہ دار حضرت مولانا صغیر عالم صاحب مظاہری نے کہا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ امارتِ شرعیہ کی جانب سے دی جانے والی رہنمائی کو سنجیدگی سے لیں اور موجودہ حالات میں عملی اقدامات کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔واضح رہے کہ ان ورکشاپس میں جناب مفتی ابوصالح قاسمی، قاضی شریعت ضلع گریڈیہہ، جناب مولانا صغیر عالم ندوی صدر تنظیم امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ ضلع گریڈیہہ، اور مولانا یعقوب صاحب مہتمم مدرسہ رشید العلوم کے بھرپور تعاون و کوششیں شامل رہیں۔اس کے علاوہ امارتِ شرعیہ کے وفد میں شامل علماء نے شہر کی تین مساجد: جامع مسجدبھنڈاری ڈیہہ شہرگریڈیہہ جامع مسجد پچمبہ شہرگریڈیہہ مسجد رشید مدرسہ رشید العلوم میں نمازِ جمعہ سے قبل خطابات فرمائے اور حضرات مصلیان تک امارتِ شرعیہ کا پیغام پہنچایا۔دوسری جانب اس پورے پروگرام کے دوران ناظمِ امارتِ شرعیہ جناب مولانامفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب ،قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء مفتی محمد انظار عالم قاسمی اور شعبۂ تنظیم کے ذمہ دار مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ اور جھارکھنڈ کے حضرات قضاۃ ودیگر ذمہ داران مسلسل رابطے میں ہیں اور پروگرام کی ترتیب و تنظیم میں اہم کردار ادا کررہےہیں۔

Comments are closed.