مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے ایس این ہال میں طالبات کے لئے جذباتی صحت پر مبنی خصوصی سیشن کا اہتمام
علی گڑھ، 19 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سروجنی نائیڈو ہال نے طلبہ کاؤنسلنگ سینٹر (ایس سی سی) کے اشتراک سے طالبات کی جذباتی و ذہنی صحت کے لئے”آپ اکیلے نہیں ہیں“کے عنوان سے ایک انٹرایکٹیو سیشن کا اہتمام کیا، جس کا ہدف جذباتی فلاح و بہبود کے بارے میں آگہی پیدا کرنا، مدد حاصل کرنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرنا اور طالبات کو یہ یقین دلانا تھا کہ اے ایم یو میں دستیاب نفسیاتی معاونتی نظام قابل رسائی اور طلبہ پر مرکوز ہے۔
پروفیسر عروس الیاس، پرووسٹ، سروجنی نائیڈو ہال نے اپنے خطاب میں طالبات کی ہمہ جہت نشوونما کے تئیں ہال کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ جذباتی طور پر باخبر رہیں، اپنی ذات سے ہمدردی کا رویہ رکھیں اور خصوصاً دباؤ اور کمزوری کے وقت دوسروں کے تئیں بھی ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔
طلبہ کاؤنسلنگ سینٹر کی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر نشید امتیاز نے تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت سے متعلق بیداری کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نفسیاتی دباؤ کی بروقت شناخت کو اہم قرار دیا اور کاؤنسلنگ کے سلسلہ میں شرمندگی کے رویے کے خاتمے پر زور دیا، ساتھ ہی طالبات کو دستیاب پیشہ ورانہ معاونت کا یقین دلایا۔ مکالمے میں طالبات نے کثیر تعداد میں حصہ لیا۔ اس دوران ڈاکٹر ایشا رحمان نے کاؤنسلنگ کو ایک محفوظ، غیر جانبدار اور باہمی تعاون پر مبنی عمل قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر حنا پروین نے ادراکی تنظیم نو اور منفی خیالات کو سنبھالنے کے مختلف جہات پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر سلمیٰ کنیز نے مشکل مراحل میں زندگی کی حرمت، خودی کی قدر اور ثابت قدمی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اختتامی نشست میں ڈاکٹر ایشا رحمان اور ڈاکٹر سارہ جاوید نے مائنڈفل نیس، گراؤنڈنگ تکنیک اور گبرش میڈیٹیشن جیسے تصورات کی وضاحت کی، جس سے شرکاء خود کو پرسکون اور جذباتی طور پر مستحکم کرنے کے بارے میں سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ بعد ازاں کئی طالبات نے انفرادی کاؤنسلنگ سیشنز کے لیے بھی رجوع کیا۔ پروگرام میں ہال کے وارڈنز ڈاکٹر کلیم، مس ایمن، مس وریشہ اور مس نازیہ سمیت عملے کے دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام سوشل سائنسز کے اردو میڈیم کے اساتذہ کے لئے تربیتی ورکشاپ 20جنوری سے
علی گڑھ، 19 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا شعبہ تعلیم، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل)، نئی دہلی کے اشتراک سے سماجی علوم کے اردو میڈیم کے اساتذہ کے لیے ایک چار روزہ تربیتی پروگرام بعنوان ”تعلیم کے مستقبل کی تشکیل؛ ٹیچر ٹریننگ ورکشاپ 2026“ 20 جنوری تا 23 جنوری، شعبہ تعلیم کے کانفرنس ہال میں منعقد کرے گا۔
شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن پروفیسر نکہت نسرین نے کہا کہ این سی پی یو ایل کے ساتھ یہ اشتراک ملک بھر کے اردو میڈیم تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار کو بہتر بنانے اور پیشہ ورانہ ترقی کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ورکشاپ میں ماہرین کے لیکچرز، انٹرایکٹیو مباحثے اور عملی مظاہرے شامل ہوں گے۔افتتاحی نشست 20 جنوری کو صبح 11بجے منعقد ہوگی، جس کی صدارت سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز کریں گے، جبکہ ڈاکٹر شمس اقبال، ڈائریکٹر، این سی پی یو ایل، مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ اختتامی نشست 23 جنوری کو سہ پہر 3:30بجے منعقد ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو گرلز اسکول کی نویں جماعت کی طالبات نے 19ویں نیشنل والی بال چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا
علی گڑھ، 19 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گرلز اسکول کی طالبات نے قومی سطح پر اپنے ادارے کا نام روشن کرتے ہوئے نیشنل اسپورٹس فیڈریشن آف انڈیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ انیسویں قومی والی بال چیمپئن شپ (جونیئر گروپ) میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ چیمپئن شپ 27 تا 28 دسمبر 2025 پرکاش اسپورٹس اکیڈمی، ہری دوار، اتراکھنڈ میں منعقد ہوئی۔
جماعت نہم کی طالبات حبیبہ چوہان، عفیفہ، علمہ خان اور آشی گل نے جونیئر زمرہ کے والی بال مقابلے میں حصہ لیا تھا جہاں انہوں نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران غیر معمولی مہارت، ٹیم ورک اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور وائس پرنسپل محترمہ الکا اگروال نے ان کی نمایاں کامیابی کو سراہا۔ انہوں نے گیمز اِنچارج محمد وسیم احمد اور گیمز ٹیچرز محترمہ شالنی چوہان اور محترمہ سیما زیتون کی بھی تعریف کی جن کی کوچنگ، حوصلہ افزائی اور مسلسل تعاون نے طالبات کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں قومی یومِ نوجوانان کی تقریبات، جے این میڈیکل کالج میں بامقصد اور دلچسپ پروگراموں کا انعقاد
علی گڑھ، 19 جنوری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے قومی یومِ نوجوانان کے موقع پر نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ٹکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور نسلوں کے مابین مکالمے پر مرکوز متنوع پروگراموں کا اہتمام کیا۔
شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے سیمینار روم اور جے این ایم سی آڈیٹوریم میں منعقدہ ان تقریبات میں سینئر و جونیئر ریزیڈنٹس، انڈرگریجویٹ طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پہلے دن، شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم اور آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر محمد سلمان شاہ کی رہنمائی میں شعبے نے عدالت کے طرز پر ایک منفرد رول پلے ”نوجوانوں کی عدالت“ کے عنوان سے پیش کیا، جس میں نوجوانوں پر سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کو تخلیقی انداز میں اجاگر کیا گیا۔ اس میں طلبہ نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور متاثرہ افراد کاکردار نبھایا اور ذہنی صحت، جسمانی تندرستی اور فکر پر حد سے زیادہ ڈیجیٹل استعمال کے منفی اثرات کو اجاگر کیا، ساتھ ہی ٹکنالوجی کے تعلیمی، سماجی اور پیشہ ورانہ فوائد بھی نمایاں کئے۔ اس طرح ٹکنالوجی کے محتاط اور متوازن استعمال کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔
اس موقع پر پروفیسر محمد خالد، ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن سمیت پروفیسر سنگیتا سنگھل، پروفیسر اطہر انصاری، ڈاکٹر تبسم نواب، ڈاکٹر عرفی، ڈاکٹر صبوحی افضل اور ڈاکٹر نیما عثمان موجود تھے۔
دوسرے دن ”سوچناجے این ایم سی میں جاری”کے عنوان پر ایک انٹرایکٹیو سیشن منعقد ہوا۔ اس کا آغاز پروفیسر عظمیٰ ارم کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے قومی یومِ نوجوانان کی اہمیت اور ذمہ دار اور سماجی طور پر باخبر نوجوانوں کی تشکیل میں تعلیمی اداروں کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر ”فائنڈ یور اِنّر کرشنا“ کی مصنفہ محترمہ پرگیہ سنگھل مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود رہیں۔ اپنے حوصلہ افزا خطاب میں انہوں نے طلبہ کو داخلی طور سے خود کو مضبوط کرنے، مثبت سوچ اپنانے اور ذاتی و پیشہ ورانہ چیلنجوں کاہمت و حوصلہ سے سامنا کرنے کی ترغیب دی۔
طلبہ کے لیے ریل میکنگ اور پوسٹر میکنگ مقابلے بھی منعقد کیے گئے، جن کے ذریعے شرکاء کو سماجی پیغامات کے اظہار کا موقع ملا۔
پیروڈی نیوز چینل کے انداز میں ”علاج تک“ کے عنوان سے ایک پینل مباحثہ بھی ہوا جس کی نظامت مسٹر آرین پرتاپ نے کی۔ پینل میں ڈاکٹر محمد یاسر زبیر، پروفیسر ایس ایم عباس وسیم، محترمہ پرگیہ سنگھل اور ڈاکٹر نیما عثمان شامل تھے، جنہوں نے موجودہ دور کے نوجوانوں کے مسائل اور مختلف نسلوں کے مابین فرق پر بصیرت افروز گفتگو کی۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد بلال نے کی جبکہ اظہارتشکر ڈاکٹر ارم عابد نے کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں نادر تاریخی نقشوں اور مخطوطات کی بحالی پر پانچ روزہ ورکشاپ کا آغاز
علی گڑھ، 19 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ہیریٹیج سیل اور مولانا آزاد لائبریری کے اشتراک سے تاریخی نقشوں اور مخطوطات کی حفاظت و بحالی سے متعلق پانچ روزہ ورکشاپ مولانا آزاد لائبریری میں شروع ہوئی۔
اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے بحیثیت مہمانِ خصوصی ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اے ایم یو کی تاریخی عمارتیں ادارے کے شاندار ورثے کی زندہ علامت ہیں۔ انہوں نے نہ صرف قدیم عمارتوں کے تحفظ بلکہ مولانا آزاد لائبریری میں محفوظ نادر تاریخی نقشوں، بالخصوص اے ایم یو سے متعلق نقشوں کی حفاظت و مرمت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی تاریخ سے متعلق بہتر آگہی کے لیے ایک ڈیجیٹل تصویری گیلری قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
مولانا آزاد لائبریری کی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ نے کہا کہ لائبریری میں مخطوطات اور نقشوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، جن میں سے متعدد کو پہلے ہی محفوظ کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کی حفاظت و بحالی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ورکشاپ شرکاء کے لیے مفید ثابت ہوگی اور قیمتی تعلیمی مواقع فراہم کرے گی۔
اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے کوآرڈینیٹر اور شعبہ سول انجینئرنگ کے استاد پروفیسر صبیح اختر نے ہیریٹیج سیل کی دستیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نے جامع مسجد، سر سید ہال، اسٹریچی ہال اور یونین ہال سمیت یونیورسٹی کی متعدد تاریخی عمارتوں کی کامیاب مرمت اور بحالی کا کام بخوبی کیا ہے۔
ہیریٹیج سیل کے کنوینر پروفیسر ایم فرحان فاضلی نے کہا کہ یہ سیل یونیورسٹی کے ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کے دور سے تعلق رکھنے والے تاریخی نقشوں کی حفاظت میں بھی سرگرم عمل ہے۔
شرکاء کا خیرمقدم اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے دیگر کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد خالد حسن نے کیا، جبکہ ڈاکٹر ایس ایم نعمان طارق نے اظہار تشکر کیا۔ افتتاحی پروگرام کی نظامت بی آرک، سالِ اوّل کی طالبہ فاطمہ سعد نے کی۔
٭٭٭٭٭٭
یومِ جمہوریہ تقریبات: اے ایم یو اور ضلع پولیس انتظامیہ کے درمیان دوستانہ کرکٹ میچ کھیلا گیا
علی گڑھ، 19 جنوری: 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے سلسلے میں علی گڑھ پولیس انتظامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) انتظامیہ کے درمیان ایک دوستانہ کرکٹ میچ کرکٹ کلب، یونیورسٹی گیمز کمیٹی، اے ایم یو کے زیر اہتمام یونیورسٹی کے ولنگڈن کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلا گیا۔
علی گڑھ پولیس ٹیم کے کپتان سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسٹر نیرج کمار جادون آئی پی ایس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے اے ایم یو انتظامیہ کی ٹیم مشکلات کا شکار رہی اور مقررہ 20 اووروں میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 94 رن ہی بنا سکی۔ ٹیبل ٹینس کوچ مسٹر نوید 11 رن کے ساتھ سب سے زیادہ اسکور کرنے والے بلے باز رہے، جبکہ پروفیسر ارشد نے 10 رن بنائے۔
علی گڑھ پولیس کی جانب سے پنکج شرما سب سے کامیاب گیند باز ثابت ہوئے جنہوں نے اپنے چار اوور میں 14 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔
ہدف کا تعاقب کرنے اتری علی گڑھ پولیس ٹیم نے 12.4 اووروں میں صرف تین وکٹوں کے نقصان پر آسانی سے ہدف حاصل کر لیا۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسٹر مینک پاٹھک آئی پی ایس نے ناٹ آؤٹ شاندار 62 رن کی اننگ کھیلی، جس میں آٹھ چوکے شامل تھے۔ انھوں نے ٹیم کے لئے فتح یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرکل آفیسر مہیش کمار نے ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے 19 رن بنائے۔
اے ایم یو انتظامیہ کی جانب سے ریاض، لمے اور نوید نے ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔
اے ایم یو انتظامیہ ٹیم کی قیادت پروفیسر یوسف الزماں خاں نے کی، جبکہ میچ کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کیا۔ اس موقع پر زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور کھیل کے جذبہ، ہم آہنگی اور یوم جمہوریہ کی خوشگوار فضا کا عکس نظر آیا۔
تقسیم انعامات تقریب میں اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور بحیثیت مہمانِ خصوصی شریک ہوئے جب کہ پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان مہمانِ اعزازی تھے۔ اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر اور پراکٹر پروفیسر ایم وسیم علی بھی بطور خاص موجود تھے۔
مسٹر مینک پاٹھک آئی پی ایس کو ان کی شاندار اننگ کے لئے مین آف دی میچ اور بہترین بلے باز قرار دیا گیا، جبکہ چار وکٹیں حاصل کرنے والے پنکج شرما کو عمدہ ترین بالر قرار دیا گیا۔ بہترین فیلڈر کا ایوارڈ مہیش کمار اور دیپک کمار کو مشترکہ طور سے دیا گیا۔
Comments are closed.