مسلمان اپنی شریعت اور شہریت پر توجہ دیں: مفتی سہراب ندوی قاسمی
ضلع رام گڑھ اور جام تاڑا میں ایس آئی آرتربیتی کیمپ کا انعقاد
(نمائندہ: رام گڑھ| 20 جنوری 2026) امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے جاری ایس آئی آر بیداری و تربیتی مہم کے تحت مورخہ 20 جنوری 2026کو ضلع رام گڑھ کی مسجد صبح دس بجےاور مورخہ 19 جنوری کو مدرسہ ندوۃ الاصلاح، عبد اللہ نگر پھک بندی میں بعد مغرب اہم تربیتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں امارتِ شرعیہ کے علماء کرام نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ سے متعلق امور پر پروجیکٹر کے ذریعہ تفصیلی اور عملی تربیت دی گئی اور لوگوں کو ایس آئی آر کے متعلق سمجھایا گیا۔واضح ہو کہ اس ورکشاپ کی صدارت قائد وفد جناب مولانا مفتی محمدسہراب ندوی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ نے فرمائی۔ انہوں نے اپنے صدارتی بیان کے دوران حاضرین سے وفد کی آمد کا مقصد واضح کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری مستعدی اور سنجیدگی کے ساتھ ایس آئی آر کے عمل میں حصہ لے اور امیر و غریب، پڑھے لکھے اور ان پڑھ سب کے لیے سہارا بنے، تاکہ کسی بھی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر مسلمان آدی واسی قبائل اوربرادران وطن کا تعاون ضرور کریں کہ یہی ہمارے دین کی تعلیم اور وطن دوستی کا تقاضا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے دل لگانا چاہیے، ہماری زندگیوں میں مسائل اس لیے بڑھ گئے ہیں کہ ہم من چاہی زندگی گزار رہے ہیں، اگر ہم رب چاہی زندگی اختیار کرلیں تو گھٹائیں خود بخود چھٹ جائیں گی۔اس موقع پر وفد کے رکن مولانا ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمینوں کی حفاظت کے لئے ضرورت کے مطابق اس کے کاغذات کی تصحیح اور اپنے پاس اس کا رکارڈ رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے آپ ان زمینوں کا خسرہ نمبر معلوم کیجئے۔ نیٹ پر جاکر ان کا اسٹیٹس معلوم کیجئے اور ضرورت پڑے تو کیڈسٹرل سروے کی طرف رجوع کیجئے ۔ لیکن کاغذات کی تصحیح ضرور کرائیے اور اس کو حاصل کرکے اپنے پاس رکھئے کہ یہ وقت کا تقاضا ہے۔ ایمرجنسی کے حالات میں غفلت نہیں برتی جاتی ورنہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یاد رکھیں ان کی حفاظت اور درست مصرف ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی ہے ۔جناب مفتی اکرام الدین قاسمی اور مفتی قیام الدین قاسمی نے پروجیکٹر کے ذریعہ ایس آئی آر کی مرحلہ وار عملی تربیت دی اور نوجوانوں سے عملی مشق بھی کرائی۔ انہوں فارم 6اور فارم 8 کی اہمیت سمجھاتے ہوئے کہا کہ جن کا اندراج ووٹر لسٹ میں نہیں ہے انہیں فارم 6 پر کردینا چاہئے اور اگر کوئی گڑبڑی پاتے ہیں تو فارم 8 پر کیجئے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ آن لائن یہ سارے کام کیسے انجام دئے جا سکتےہیں۔اپنی ٹریننگ کے درمیان موصوف نےکہاکہ جن افراد کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں موجود ہے، انہیں پیرنٹل میپنگ کرانی ہوگی۔جن کا نام 2003 کی فہرست میں شامل نہیں اور جن کی پیدائش 1987 سے قبل ہوئی ہے، انہیں صرف اپنے دستاویزات میں سے کوئی ایک جمع کرنا ہو گا۔جن کی پیدائش یکم جنوری 1987 سے 31 مارچ 2004 کے درمیان ہوئی ہے، انہیں دو دستاویزات (ایک اپنا اور ایک والد یا والدہ کا) دینا ہوں گے۔جبکہ یکم اپریل 2004 کے بعد پیدا ہونے والوں کو تین دستاویزات اپنا اور والدین کاجمع کرانے ہوں گے۔اس پروگرام کی ابتدا میں بوکارو ضلع کے قاضی شریعت جناب مولانا کلیم اللہ مظہری نے کہاکہ امارت شرعیہ نے ہمیشہ ملک و ملت کی خدمات انجام دی ہیں اور جب بھی کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس میں رہنمائی کی ضرورت محسوس کی گئی تو امارت شرعیہ میدان عمل میں پیش پیش رہی ہے ایس آئی آر کی یہ عملی تربیت انہی خدمات کی ایک کڑی ہے دوسری جانب رکن شورٰی امارت شرعیہ جناب محترم مولانا عبد المعید صاحب نے اپنے تاثرات میں یہ کہا کہ ہم لوگوں پر لازم ہے کہ امارت شرعیہ جن باتوں کی جانب ہمارے درمیان پہنچ کررہنمائی کر رہی ہے ان پر توجہ دیں اور موجودہ حالات میں عملی کاموں کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔قابل ذکر ہے کہ اس وفد سے حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم، ناظم امارتِ شرعیہ جناب مولانامفتی محمد سعید الرحمن قاسمی اور قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء قاضی انظار عالم قاسمی مسلسل رابطے میں ہیں اور پروگرام کی نظم و ترتیب میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
Comments are closed.