مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
پروفیسر گلفشاں خان کی کتاب عالمی کتب نمائش 2026 میں شامل
علی گڑھ، 20 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی سبکدوش استاد پروفیسر گلفشاں خان کی انگریزی تصنیف ”اِنڈو پرشیئن ایلیٹ اِن دی لیٹ ایٹینتھ ٹو دی ارلی نائنٹینتھ سنچری“، جس میں پندرہ علمی و تحقیقی مضامین شامل ہیں، عالمی کتب نمائش 2026 میں پیش کی گئی ہے، جو بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ منوہر پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، نئی دہلی کی جانب سے شائع شدہ یہ کتاب ہال نمبر 5، اسٹال ای- 7 پر موجود ہے۔
اس کتاب کا باضابطہ تعارف پروفیسر خان نے انجمن مطالعات جوامع فارسی زبان (اے ایس پی ایس) کی دو سالہ کانفرنس کے تحت منعقدہ ایک مذاکرے کے دوران کرایا، جو تاشقند، ازبکستان میں منعقد ہوئی تھی۔عالمی کتب نمائش میں اس کتاب کی موجودگی اس کی علمی اہمیت اور بین الاقوامی پذیرائی کی عکاس ہے۔
٭٭٭٭٭٭
ریسرچ میتھڈلوجی ورکشاپ سے اے ایم یو کی پروفیسر کا خطاب
علی گڑھ، 20 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کی پروفیسر نشاط فاطمہ نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور میں واقع گورنمنٹ کالج کُنڈم میں منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ برائے ریسرچ میتھڈلوجی میں آن لائن افتتاحی لیکچر دیا، جس میں انھوں نے ریسرچ کے طریق ہائے عمل کے مبادیات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحقیق کو ایک منظم، معروضی اور سائنسی جستجو قرار دیا، جو علم کی تشکیل، موجودہ معلومات کی توثیق اور حقیقی سماجی مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے سماجی علوم میں تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انسانی رویوں، سماجی ڈھانچوں اور ثقافتی حرکیات کو سمجھنے میں اس کے کردار کو اجاگر کیا، نیز پالیسی سازی، سماجی منصوبہ بندی، علمی ترقی اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی میں تحقیق کی افادیت پر زور دیا۔ پروفیسر فاطمہ نے کہا کہ معیاری تحقیق مؤثر حکمرانی اور سماجی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
پروفیسر فاطمہ نے تحقیق کی مختلف اقسام، بنیادی اور اطلاقی تحقیق، مقداری اور معیاری طریق کار، نیز توصیفی اور تجرباتی طریقوں پر روشنی ڈالی اور انہیں مثالوں کے ذریعے واضح کیا۔ انہوں نے تحقیقی مسئلے کی شناخت، لٹریچر کا جائزہ، مقاصد اور مفروضات کی تشکیل، تحقیقی خاکہ، اعداد و شمار کا حصول، تجزیہ اور رپورٹ نویسی سمیت تحقیقی عمل کے اہم مراحل کا بھی خاکہ پیش کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے این سی سی کیڈٹس کی میرٹھ چھاؤنی میں آرمی اٹیچمنٹ کیمپ میں شرکت
علی گڑھ، 20 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وَن یو پی انجینئرنگ کمپنی، این سی سی نے 63 انجینئر رجمنٹ، میرٹھ چھاؤنی میں 4 تا 15 جنوری 2026 این سی سی آرمی اٹیچمنٹ کیمپ کا انعقاد کیا، جس میں اے ایم یو کے 18 کیڈٹس نے شرکت کی۔ کیمپ کے دوران کیڈٹس کو ہندوستانی فوج کے کور آف انجینئرز کے کام کاج، تربیتی معیارات اور عملی کردار کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔
وَن یو پی انجینئرنگ کمپنی، این سی سی کے کمانڈنگ آفیسر کرنل ڈی دھدھوال نے کیڈٹس سے تربیت کے دوران ملاقات کی اور آئندہ کیمپوں کو مزید معلوماتی اور مؤثر بنانے کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا۔ وَن یو پی انجینئرنگ کمپنی، این سی سی،اے ایم یو کے کیئر ٹیکنگ آفیسر جناب محمد عمران، اسسٹنٹ پروفیسر، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی اور جناب محمد دانش، اسسٹنٹ پروفیسر، یونیورسٹی پولی ٹیکنک، اے ایم یو نے پوری تربیت کے دوران کیڈٹس کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔
تربیتی پروگرام کے تحت کیڈٹس کو ملٹری پلوں کی مختلف اقسام سے متعارف کرایا گیا، جن میں ان کی تکنیکی خصوصیات، تعمیر کے مقاصد اور عملی اہمیت کی تفصیلی وضاحت کی گئی۔ کیڈٹس نے آئی ای ڈی ماڈل روم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں دھماکہ خیز ڈیوائس میں استعمال ہونے والے مختلف سینسرز کے بارے میں بتایا گیا۔ اس کے علاوہ بارودی سرنگوں کا تعارف کرایا گیا، جس میں مختلف اقسام کی بارودی سرنگوں کے تکنیکی کوائف کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کی تربیت دی گئی۔
کیمپ میں ڈرون ٹریننگ بھی شامل تھی، جس کے دوران کیڈٹس کو ڈرون ہینڈلنگ اور بنیادی عملی طریقہ کار سے واقف کرایا گیا۔ کیڈٹس کو اسلحہ کی تربیت بھی دی گئی، جس میں ایل ایم جی، انساس اور سی ایم جی جیسے ہتھیاروں کو کھولنے، جوڑنے، تکنیکی معلومات اور فائرنگ پوزیشن کے بارے میں بتایا گیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی پروفیسر نے ہیلتھ پروفیشنز ایجوکیشن میں باوقار فائیمر فیلوشپ مکمل کی
علی گڑھ، 20 جنوری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن سے وابستہ پروفیسر سائرہ مہناز نے فاؤنڈیشن فار ایڈوانسمنٹ آف انٹرنیشنل میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (فائیمر)، امریکہ کی جانب سے دو سالہ باوقار فیلوشپ برائے ہیلتھ پروفیشنز ایجوکیشن کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔
یہ فیلوشپ عین شمس یونیورسٹی، قاہرہ میں قائم عین شمس یونیورسٹی،مڈل ایسٹ نارتھ افریقہ،فائیمر ریجنل انسٹی ٹیوٹ کے توسط سے تھی جس کا محور تعلیمی قیادت، نصاب کی تیاری اور ہیلتھ پروفیشنز ایجوکیشن میں جدید تدریسی طریقہ کار رہا۔
پروفیسر مہناز کی یہ فیلوشپ جنوری 2024 سے جنوری 2026 تک جاری رہی۔ فیلوشپ کی تکمیل کے بعد پروفیسر مہناز کو پروگرام کے انسٹرکشن فیز کے دوران بطور شریک فیکلٹی اور مینٹور اپنی وابستگی برقرار رکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس حیثیت میں وہ میڈیکل ایجوکیشن ٹریننگ اور ویب پر مبنی تعلیمی سرگرمیوں میں خدمات انجام دیں گی۔
شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم نے پروفیسر مہناز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی شواہد پر مبنی اور اختراعی طبی تدریسی طریقوں کے فروغ میں بین الاقوامی تعلیمی اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور عالمی سطح پر اے ایم یو کے لیے اعزاز کا باعث ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ علاج بالتدبیر میں گردن کے اعصابی جال اور گردن کے درد پر لیکچر کا اہتمام
علی گڑھ، 20 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اجمل خاں طبیہ کالج کے شعبہ علاج بالتدبیر کے زیرِ اہتمام’سروائیکل نرو پلیکسیز اور گردن کے درد کی تشخیص میں ان کے طبی اطلاقات‘کے موضوع پر جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، اے ایم یو کے شعبہ اناٹومی کے چیئرپرسن پروفیسر فضل الرحمٰن نے لیکچر دیا۔ شعبہ علاج بالتدبیر کے چیئرمین پروفیسر محمد انور نے مہمان مقرر کا خیرمقدم کرتے ہوئے حاضرین سے ان کا تعارف کرایا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر فضل الرحمٰن نے گردن کے اعصابی جال کی بناوٹ (اناٹومی) پر روشنی ڈالی اور گردن کے درد کی وجوہات، تشخیص، علاج اور بچاؤ پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ گردن کے درد کا سامنا کرتا ہے، بالخصوص دفتری کام کرنے والے افراد اور خواتین۔ انہوں نے تشخیصی طریقوں میں طبی معائنہ اور ایکس رے، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین جیسی امیجنگ تکنیکوں کے ساتھ اعصابی ترسیلی مطالعات (نرو کنڈکشن اسٹڈیز) کا بھی ذکر کیا، نیز علاج کے لیے درست نشست و برخاست، ورزش اور معاون طریقہ علاج پر مبنی غیر جراحی طریقوں پر زور دیا، جبکہ پیچیدہ حالات میں جراحی کو آخری متبادل قرار دیا۔
اس موقع پر پروفیسر محمد انور، ڈاکٹر محمد سعد احمد خان، ڈاکٹر محمد محسن، چیئرمین شعبہ امراضِ جلد و زہراویہ سمیت مختلف کلینیکل شعبہ جات کے پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور انٹرن موجود رہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں سماجی علوم کے اُردو میڈیم اساتذہ کے لیے تربیتی پروگرام کا آغاز
علی گڑھ، 20 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے اشتراک سے سماجی علوم کے اُردو میڈیم کے اساتذہ کے لیے ”تعلیم کے مستقبل کی تشکیل“ موضوع پر چار روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس کا ہدف اردو میڈیم اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور کلاس روم تدریس کو بہتر بنانا ہے۔
افتتاحی تقریب کی صدارت سابق وائس چانسلر اے ایم یو پروفیسر محمد گلریز نے کی، جبکہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی مہمانِ خصوصی تھیں۔کے اے نظامی مرکز برائے قرآنی مطالعات کے ڈائریکٹر پروفیسر اے آر قدوائی مہمانِ اعزازی تھے۔ پروگرام کی کنوینر شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن پروفیسر نکہت نسرین اور شریک کنوینر پروفیسر ساجد جمال ہیں۔
ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے اردو تعلیم کے فروغ اور اردو میں تعلیمی مواد کی تیاری کے لیے این سی پی یو ایل کی کوششوں پر روشنی ڈالی، جبکہ پروفیسر اے آر قدوائی نے سماجی علوم کی تعلیم میں وضاحت، موزوں زبان کے استعمال اور تنقیدی سوچ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد گلریز نے فکری نشوونما میں مطالعے کی عادت اور زبانوں کے کردار پر زور دیا۔
اس سے قبل مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر نکہت نسرین نے کہا کہ یہ پروگرام اردو میڈیم سماجی علوم کے اساتذہ کو درپیش تدریسی مسائل اور پیشہ ورانہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ پروفیسر ساجد جمال نے شرکاء کو پروگرام کے مقاصد اور ساخت سے آگاہ کیا۔
مقررین نے سماجی علوم کی تدریس کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چار روزہ یہ پروگرام 23 جنوری تک جاری رہے گا، جس میں 16 سیشن ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭
این ایس ایس، اے ایم یو نے رضا نگر اور ذاکر نگر میں خصوصی کیمپ کا اہتمام کیا
علی گڑھ، 20 جنوری: نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے رضا نگر اور ذاکر نگر میں ہفت روزہ خصوصی کیمپوں کا اہتمام کیا ہے۔ این ایس ایس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد محسن خان اور پروگرام آفیسر ڈاکٹر عبدالجبار کی قیادت میں منعقدہ اس کیمپ کا مقصد سماجی خدمت کو فروغ دینا، سماجی بیداری پیدا کرنا اور طلبہ رضاکاروں کی ہمہ جہت نشوونما ہے۔
این ایس ایس دفتر، اے ایم یو سے ڈاکٹر محمد محسن خان نے باضابطہ طور پر آگہی ریلی کا آغاز کیا جس میں تقریباً 200 این ایس ایس رضاکاروں نے شرکت کی اور بے لوث خدمت کے اس جذبے کی مثال پیش کی جو اس اسکیم کا بنیادی جوہر ہے۔ افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر منصور عالم صدیقی، ڈاکٹر ناہید اکبری اور ڈاکٹر ندا نے رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور این ایس ایس اے ایم یو ٹیم کے فعال اقدامات کو سراہا۔
اس موقع پر خصوصی کیمپ کے کنوینر جناب نعیم احمد نے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کے مقاصد، مجوزہ سرگرمیوں اور اس کی سماجی اہمیت پر روشنی ڈالی اور رضاکاروں کو سماجی فلاح و بہبود میں سرگرم کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
سماجی رابطہ کاری کے تحت این ایس ایس رضاکاروں نے بیداری ریلیاں نکالیں اور رضا نگر و ذاکر نگر کے مکینوں سے براہِ راست رابطہ قائم کیا، اہم سماجی مسائل پر بیداری پیدا کی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دیا۔ این ایس ایس دفتر واپسی پر رضاکاروں نے جناب نعیم احمد کے ساتھ ڈاکٹر ظفر، ڈاکٹر نوشاد نجیب، ڈاکٹر شعیب احمد، ڈاکٹر نازیہ اور ڈاکٹر فوزیہ فریدی کو دن بھر کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
دن کا اختتام رنگا رنگ ثقافتی سرگرمیوں پر ہوا۔ اس میں پروفیسر شاداب خورشید، ڈاکٹر جمیل، ڈاکٹر فضل الرحمٰن، محترمہ افشاں (سابق اسپورٹس ٹیچر، اے ایم یو)، جناب عمر پیرزادہ اور ڈاکٹر ظفر افتخار نے شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ویسٹ مینجمنٹ کے ابھرتے رجحانات پر فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا افتتاح
علی گڑھ، 20 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سول انجینئرنگ نے ”ویسٹ مینجمنٹ میں ابھرتے رجحانات“کے موضوع پر ہفت روزہ فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام (ایف ڈی پی) کا اہتمام کیا جو 24 جنوری تک جاری رہے گا۔ اس میں ماہرین، محققین اور پیشہ ور افراد فضلہ کے بندوبست کے شعبے کے موجودہ چیلنجوں اور پائیدار حل پر غور و خوض کریں گے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے ماحولیاتی پائیداری کے فروغ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق، اختراع اور صلاحیت سازی کے ذریعے اس سمت میں مؤثر پیش رفت ممکن ہے۔ فیکلٹی آف انجینئرنگ کے ڈین پروفیسر نثار احمد نے تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور صنعتی ترقی کے تناظر میں جدید ویسٹ مینجمنٹ حکمت عملیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈتکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے کہا کہ اس نوعیت کے فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام اساتذہ کو نئی ٹکنالوجیز اور فریم ورک سے باخبر رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس سے قبل شعبہ سول انجینئرنگ کے چیئرپرسن پروفیسر اظہار الحق فاروقی نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور پروگرام کے مقاصد، علمی دائرہ کار اور تکنیکی سیشن کی وضاحت کی، جن میں ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ اور لینڈفل سائٹ کے دورے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر فرخ بشیر نے پروگرام کی ساخت کا اجمالی خاکہ پیش کیا، جبکہ شریک آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر سیف اللہ خان نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، یونیورسٹی انتظامیہ اور مدعو ایکسپرٹ پروفیسر پورنیندو بوس (آئی آئی ٹی کانپور) سمیت دیگر معاونین کا شکریہ ادا کیا۔
نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشد حسین، ایسوسی ایٹ پروفیسر، سول انجینئرنگ سیکشن، یونیورسٹی پولی ٹیکنک نے انجام دئے۔
٭٭٭٭٭٭
علی سوسائٹی، اے ایم یو کی جانب سے حضرت علیؓ کے یومِ پیدائش پر مقابلہ جاتی پروگراموں کا اعلان
علی گڑھ، 20 جنوری: علی سوسائٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے حضرت علیؓ کے یومِ پیدائش کے موقع پر طلبہ میں ان کی حیات، تعلیمات اور اعلیٰ اقدار سے آگہی پیدا کرنے کے لیے مختلف مقابلہ جاتی پروگراموں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں مضمون نویسی کا مقابلہ جمعہ، 23 جنوری 2026 کو صبح 10 بجے فیکلٹی آف تھیالوجی میں منعقد ہوگا، جبکہ اسی وقت پوسٹر سازی کا مقابلہ سی ای سی کمپلیکس، اے ایم یو میں ہوگا۔
دونوں مقابلوں میں انڈرگریجویٹ اور اس سے اعلیٰ درجے کے طلبہ شریک ہوسکتے ہیں۔
مضمون نویسی کے مقابلے کا موضوع ”نہج البلاغہ کی روشنی میں خود احتسابی“ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پوسٹر سازی کا مقابلہ ”حضرت علیؓ: اسلام کے بہادر جانباز“کے عنوان پر منعقد ہوگا۔ اس کے بعد تقریری مقابلہ ہفتہ، 24 جنوری کو دوپہر 2 بجے مولانا آزاد لائبریری، اے ایم یو کے کلچرل ہال میں منعقد کیا جائے گا، جس کا موضوع ”حضرت علیؓ کا گھرانہ: ایک مثالی کنبہ“ رکھا گیا ہے۔ یہ مقابلہ جماعت نہم اور اس سے اعلیٰ درجے کے طلبہ کے لیے ہے۔ ہر مقابلے میں کامیاب شرکاء کو نقد انعامات دیے جائیں گے۔ علی سوسائٹی نے تمام طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
Comments are closed.