جمہوریت -ایک سیاسی و اخلاقی کشمکش
محمد نفیس خان ندوی
جمہوریت (Democracy) کا لفظ بظاہر جدید سیاسی لغت کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک قدیم تصور ہے جس کی فکری جڑیں یونانی تہذیب میں پیوست ہیں۔ یہ اصطلاح یونانی لفظ Demokratia سے ماخوذ ہے، جو Demos (عوام) اور Kratos (حکمرانی یا اقتدار) سے مل کر بنی ہے، یعنی عوام کی حکمرانی۔ اگرچہ اس تصور کا ابتدائی ظہور قدیم یونان میں ہوا، تاہم جدید سیاسی معنی میں جمہوریت کا فروغ یورپ میں سولہویں صدی کے بعد ہوا، جب یہ انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں باقاعدہ مستعمل ہوئی۔
یورپ میں نشاۃِ ثانیہ کے بعد جو فکری انقلاب برپا ہوا، اس نے جمہوریت کے لیے فضا ہموار کی۔ اس دور میں بادشاہوں کے اس دعوے کو شدید چیلنج کیا گیا کہ وہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ حاکم ہیں اور ان کی حکمرانی مقدس ہے۔ عوام نے مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بغاوت کی اور ساتھ ہی کلیسا اور مذہبی طبقے کی سیاسی بالادستی کو بھی نشانہ بنایا۔ پادریوں کی اتھارٹی کمزور پڑی اور سیاست کو مذہبی تقدس سے الگ کر دینے کا تصور پروان چڑھا۔ نتیجتاً عوام کو اقتدار کا اصل سرچشمہ قرار دیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ انسان خود اپنی تقدیر کا معمار ہے۔ یوں مذہب، بادشاہت اور اخلاقی بالادستی سے آزاد ایک نیا سیاسی نظام وجود میں آیا جس کی بنیاد انسانی خواہش اور اجتماعی رائے پر رکھی گئی۔
مغربی جمہوریت کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہے اور حکومت اسی وقت جائز ہے جب وہ عوام کی مرضی اور ووٹ سے قائم ہو۔ اس نظام میں آزادی کو مرکزی قدر کا درجہ دیا گیا ہے، جس کے تحت مذہبی آزادی، آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت، انجمن سازی اور سیاسی شرکت جیسے حقوق کو بنیادی انسانی حقوق قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ سب تصورات نہایت دلکش اور انسان دوست محسوس ہوتے ہیں، مگر جب ان کے فکری اور عملی نتائج کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
جمہوریت کی فکری بنیاد مذہب اور سیاست کی مکمل علیحدگی کے تصور پر استوار ہے۔ اس علیحدگی کا لازمی اور ناگزیر نتیجہ یہ سامنے آیا کہ قانون اور اخلاقیات کا رشتہ مذہب ہی نہیں بلکہ کسی بھی مستقل اور آفاقی اخلاقی معیار سے منقطع ہو گیا۔
چنانچہ صحیح اور غلط، جائز اور ناجائز، خیر اور شر کے تعین کا اختیار کسی وحی الٰہی یا ثابت اخلاقی اصول کے بجائے عوامی رائے اور اکثریت کے بدلتے ہوئے رجحانات کے سپرد کر دیا گیا۔چونکہ عوامی رائے اپنی فطرت میں تغیر پذیر، وقتی اور حالات کی تابع ہوتی ہے، اس لیے قانون اور اخلاق بھی کسی استحکام پر قائم نہ رہ سکے، بلکہ مسلسل تبدیلی اور اضطراب کا شکار ہوتے چلے گئے۔ جو بات آج اکثریت کی نظر میں قابلِ قبول اور قانونی قرار پاتی ہے، وہی کل ناپسندیدہ اور ناجائز ٹھہر سکتی ہے، اور جو عمل ماضی میں جرم، فحاشی یا اخلاقی انحطاط کی علامت سمجھا جاتا تھا، وہ آج ’’آزادی‘‘ اور ’’انسانی حقوق‘‘ کے نام پر قانونی تحفظ حاصل کر لیتا ہے۔
اسی اصول کے تحت یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ عناصر اور طرزِ عمل جو کسی معاشرہ میں فطری طور پر مجرمانہ یا اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت سمجھے جاتے ہیں، رفتہ رفتہ نظامِ حکومت اور ریاستی ڈھانچے کے مؤثر اور مضبوط حصے بن جائیں۔ مزید یہ کہ جن امور کو مذہبی نقطۂ نظر سے صریحاً غلط، ناپسندیدہ یا مفسد قرار دیا جاتا ہے، جمہوری نظام میں انہیں آزادیٔ اظہار کے دائرے میں شامل کر کے نہ صرف جائز بلکہ بنیادی شہری حق کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔
یہی وہ بنیادی پہلو ہیں جہاں مغربی جمہوریت کی سب سے بڑی فکری کمزوری نمایاں ہوتی ہے۔ اس نظام نے اگرچہ بعض تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں جیسے مطلق العنان بادشاہتوں کا خاتمہ اور شہری آزادیوں کا فروغ، لیکن اخلاقی بنیاد کے فقدان نے اسے شدید بحران سے دوچار کر دیا۔ جب اخلاق فیشن کی طرح بدلنے لگیں تو معاشرہ فکری اضطراب اور اقداری انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ مغربی معاشروں میں خاندان، جو انسانی تمدن کی بنیادی اکائی ہے، جمہوری آزادی کے نام پر کمزور پڑ گیا۔ نکاح، حیا، وفاداری اور والدین کے احترام جیسے تصورات فرسودہ قرار دیے جانے لگے، جس کے نتیجے میں خاندانی انتشار، ذہنی دباؤ اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا۔
جمہوریت کا ایک بنیادی اصول اکثریت کی حکمرانی ہے، مگر عملی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اکثریت ہمیشہ حق پر نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ حق اکثر اقلیت کے ساتھ رہا ہے، جب کہ اکثریت نے انبیاء اور مصلحین کی مخالفت کی۔ اس کے باوجود جمہوریت میں حق و باطل کا معیار محض عددی اکثریت بن جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر نے نہ صرف فکری سطح پر مغالطے کو جنم دیا بلکہ اقلیتوں کے حقوق کو بھی مستقل خطرے میں ڈال دیا۔ نسلی، لسانی اور مذہبی کشمکش میں اضافہ ہوا اور معاشرہ طبقات میں بٹتا چلا گیا۔
عملی سطح پر بھی عوامی اقتدار کا تصور زیادہ تر ایک نظریاتی دعویٰ ثابت ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید جمہوری ریاستوں میں اصل فیصلے عوام نہیں بلکہ وہ طاقتور طبقات کرتے ہیں جو سرمایہ، میڈیا، صنعت اور بیوروکریسی پر قابض ہوتے ہیں۔ عام شہری چند سال میں ایک بار ووٹ ڈال کر یہ گمان کرتا ہے کہ وہ اقتدار میں شریک ہو گیا ہے، حالانکہ اقتدار کے حقیقی مراکز اس کی پہنچ سے بہت دور ہوتے ہیں۔ یوں جمہوریت عوامی حاکمیت کے بجائے مخصوص گروہوں کی بالواسطہ حکمرانی میں بدل جاتی ہے، جسے’ عوامی تائید ‘کے نام پر’ قانونی جواز‘ فراہم کر دیا جاتا ہے۔
سوویت یونین اور اشتراکی نظام کے زوال کے بعد جمہوریت کو عالمی سطح پر بے پناہ فروغ ملا۔ مختلف ممالک میں جمہوریت کے قیام کے نام پر مداخلت کی گئی اور اسے ایک عالمی قدر کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم عملی طور پر یہ نظام مخصوص عالمی طاقتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا ذریعہ بنتا چلا گیا۔ یوں جمہوریت ایک آفاقی اخلاقی اصول کے بجائے ایک سیاسی ہتھیار کی صورت اختیار کر گئی۔
ہندوستان، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے، اس نظام کی عملی مثال پیش کرتا ہے۔ یہاں بظاہر عوامی حکومت قائم ہے، مگر انتخابی عمل کی حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں عوام ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیتی۔ ووٹ درجنوں جماعتوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور بالآخر ایسی حکومت وجود میں آتی ہے جسے مجموعی آبادی کے ایک محدود حصے کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اسے عوامی اور جمہوری حکومت کہا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں اکثریت کی رائے حکومت کی تشکیل میں شامل نہیں ہوتی۔
ان تمام حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مغربی جمہوریت دراصل شخصی یا جماعتی آمریت کی ایک مہذب اور خوش نما صورت ہے۔ یہ نظام انسان کو وقتی سیاسی شرکت کا احساس تو دیتا ہے، مگر اسے اخلاقی استحکام، فکری سکون اور تہذیبی توازن فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ آزادی، مساوات اور انصاف کے بلند بانگ دعووں کے باوجود یہ نظام خود اپنے اندر شدید تضادات رکھتا ہے اور انہی تضادات کے بوجھ تلے لڑکھڑاتا رہتا ہے۔
اس کے برعکس اسلام نے اقتدار کو نہ کسی فرد کا پیدائشی حق قرار دیا ہے اور نہ کسی طبقے یا جماعت کی ملکیت، بلکہ اسے ایک عظیم الٰہی امانت کے طور پر متعارف کرایا ہے، جس کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اسلامی تصورِ سیاست کی اساس یہی ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ رب العزت کے لیے خاص ہے، اور انسان محض اس کا نائب اور امانت دار ہے، جو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں بلکہ الٰہی ہدایات اور مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے نظمِ اجتماعی قائم کرنے کا مکلف ہے۔ اس تصور میں حکمرانی اختیار نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، اور اقتدار استحقاق نہیں بلکہ جواب دہی کا نام ہے۔
اسلامی نظام میں حکمران کی حیثیت ایک مطلق العنان فرمانروا کی نہیں ہوتی، بلکہ وہ شریعتِ الٰہی کا پابند، قانون کے سامنے جواب دہ اور عوام کے حقوق کا محافظ ہوتا ہے۔ یہاں قانون سازی انسانی خواہشات یا اکثریتی رجحانات کے تابع نہیں، بلکہ وحی کی روشنی میں، عدل و مصلحت کے اصولوں کے تحت انجام پاتی ہے۔ چنانچہ اسلام میں قانون، اخلاق اور سیاست الگ الگ دائروں میں بٹے ہوئے نہیں بلکہ ایک ہی اخلاقی مرکز سے جڑے ہوتے ہیں، جس کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔
اسی توازن کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام میں آزادی، انصاف اور مساوات محض سیاسی نعروں کی صورت میں نہیں رہتیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہیں۔ حکمران کو یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف عوام بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جواب دہ ہے، اور یہی احساس اسے ظلم، خود سری اور استبداد سے روکتا ہے۔ عوام کے حقوق محض قانونی دفعات نہیں بنتے بلکہ دینی فریضہ اور اخلاقی تقاضا قرار پاتے ہیں۔
حقیقت میں مغربی جمہوریت انسانیت کے مسائل کا حتمی حل نہیں۔ یہ نظام محض انسانی عقل، خواہش اور عددی طاقت پر قائم ہے، اور اسی وجہ سے دیرپا عدل اور حقیقی فلاح پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ انسانیت نے جب بھی وحی سے منہ موڑا، اسے تجربات کے نام پر ناکامی اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر دنیا واقعی امن، انصاف اور اخلاقی بقا کی متلاشی ہے تو اسے بالآخر اس نظام کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو وحی کی رہنمائی، شورائی مشاورت اور اخلاقی ذمہ داری کو یکجا کرتا ہے، ورنہ تاریخ کا سفر یونہی آزمائشوں، انتشار اور پچھتاوؤں کے دائرے میں گردش کرتا رہے گا۔
Comments are closed.