معہدالصفہ حیدرآبادکے زیراہتمام پہلاآل میڑچل مسابقۃ القرآن الکریم بحسن وخوبی اختتام پذیر
ضلع میڑچل تلنگانہ کے ۸؍مدارس کے طلبہ کی شرکت،کامیاب ہونے والوں کوگراں قدرانعامات سے نوازاگیا
حیدرآباد(پریس نوٹ)معہدالصفہ حیدرآبادکے زیراہتمام پہلاآل میڑچل ملکاجگیری مسابقۃ القرآن الکریم بحسن وخوبی اختتام کوپہونچا،اس ضلعی مسابقہ میں ضلع میڑچل ملکاجگیری کے ۸؍مدارس کے طلبہ نے شرکت کی اوراپنےحفظ قرآن کامظاہرہ کیا۔ضلع میڑچل تلنگانہ کایہ پہلامسابقہ تھا،یہ مسابقہ بھگت سنگھ نگرچنتل قطب اللہ پورکے این آرپیالیس فنکشن ہال میں منعقدہوا۔اس مسابقہ میں پہلی اوردوسری پوزیشن معہدالصفہ حیدرآبادکے طلبہ نے حاصل کی جب کہ سوم پوزیشن مدرسۃ الانصارشاہ پورنگرکے طلبہ نے حاصل کی جب کہ پانچ بہترین پڑھنے والے طلبہ کوترغیبی وتشجیعی انعامات سے بھی نوازاگیا۔پہلی پوزیشن محمدابوشحمہ ولدغیاث الدین ،دوسری پوزیشن محمدعلقمہ ولدغیاث الدین معہدالصفہ حیدرآباداورتیسری پوزیشن محمدجعفرولدمحمدنظیرمدرسۃ الانصارشاہ پورنگر نے حاصل کی۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو۵۰۰۰روپے نقدانعام وتوصیفی سند،دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو۳۰۰۰روپے نقدمع توصیفی سنداورتیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو۲۰۰۰روپے نقدمع توصیفی سندسے نوازاگیا۔اس کے علاوہ پانچ بہترین پڑھنے والے طلبہ کو۱۰۰۰روپے کے ترغیبی انعامات سے نوازاگیا۔
مسابقۃ القرآن الکریم کے کنوینراورروح رواں مفتی محمدساجدناصری نے استقبالیہ کلمات میں معززمہمانان کرام کااستقبال کرتے ہوئے کہاکہ آج جومسابقہ منعقدہوایہ ہماری پہلی کوشش ہے،ہم نے ابھی صرف تجربہ کیاہےان شاء اللہ ہماری خواہش ہے کہ آئندہ ہم پورے تلنگانہ اسٹیٹ سطح پرمسابقہ منعقدکریں،میں اس موقع پراپنے تمام معاونین ومہمانان کرام اورشہروبیرون شہرسے تشریف لائے ہوئے علمائے کرام کادل کی گہرائیوں سے استقبال کرتاہوں۔اس موقع پرگجرات سے تشریف لائے ہوئے مسابقہ کے مہمان خصوصی مولانامحمدنعیم قاسمی امام وخطیب جامع مسجدداتا پالنپورگجرات نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں خطاب کرتے ہوئے مسابقہ کے کامیاب انعقادپرمفتی محمدساجدناصری کومبارکبادپیش کی اورقرآن کی فضیلت واہمیت پرپرمغزخطاب فرمایا۔انہوں نے کہاکہ دنیاوآخرت میں کامیاب اورسرخروہونے کے لئے قرآن کے احکام پرعمل کرنااورقرآن کواپنارہنمابنانالازمی ہے۔قرآن کوپڑھنااورسننادونوں ہی ہمارے لئے اجروثواب کاباعث ہے۔اس موقع پردارالعلوم سبیل السلام حیدرآبادکے استاذحدیث وفقہ اورمعروف عالم دین مولانامفتی محمدسراج الہدیٰ ندوی ازہری نے اپنے خطاب میں فرمایاکہ قرآن کتاب ہدایت ہے،قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔قرآن صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیاکے لئے رہنماکتاب ہے۔قرآن پڑھنے اورعمل کرنے کی کتاب ہے،قرآن طاقوں میں سجانے کے لئے نہیں نازل کی گئی ہے بلکہ قرآن پڑھنے،سمجھنے اوراس پرعمل کرنے کے لئے نازل کی گئی ہے۔جولوگ قرآن کواپنارہبرورہنمابناتے ہیں وہ دونوں جہاں میں سرخروہوتے ہیں۔معروف داعی اسلام مولاناسعیداحمدخان نے فرمایاکہ آج ہم قرآن سے دورہوچکے ہیں۔ہم نے قرآن کوصرف رمضان کی کتاب بناکررکھ دیاہے۔رمضان آتاہے توقرآن کھل جاتاہے اوررمضان چلاجاتاہے توقرآن بندہوجاتاہے۔دنیا نے قرآن کوختم کرنے کی بڑی کوششیں کی لیکن ختم نہیں کرسکے۔کیوں کہ قرآن کی حفاظت کاوعدہ خوداللہ نےکیاہے اورحافظ قرآن اس کی زندہ جاویدمثال ہے۔یادرکھیںعالم بننافرض نہیں ہے لیکن دینداربننافرض ہے۔عاقل ثانی مولانابشیراشرف حسامی نے اپنے مخصوص اندازبیان میں فرمایاکہ مدارس دینیہ میں چھٹے ہوئے بچے اورچندے میں پھٹے ہوئے نوٹ دیئے جاتے ہیں،لیکن انہی مدارس دینیہ کاکمال ہے کہ وہ ایسے ہی بچوں کواتناقابل بناتے ہیں کہ وہ قوم کے امام اورقائدبن جاتے ہیں،نئے دورمیں مدارس کوبدنام کرنے کی سازشیں بھی نئی نئی ہورہی ہیں،مدارس کے طلبہ واساتذہ کو ان سازشوں کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔قرآن مجیدکی تاثیرہے کہ جوشخص قرآن کوپڑھے گاوہ کامیاب ہوگا،یہ اللہ کی کتاب ہے۔اللہ کی کتاب کوجوپڑھتاہے اللہ اسے بلندمقام عطافرماتاہے۔مولاناامتیازالدین قاسمی امام وخطیب جامع مسجدنورگرومورتی نگرنے اپنے مختصرخطاب میں فرمایاکہ آج کایہ مسابقۃ القرآن الکریم پہلاتجربہ ہے،اوریہ صرف ایک ضلع پرمشتمل ہے،ابھی توآغازہے انشاء اللہ آئندہ اس سے بڑے پیمانے پرمنعقدکیاجائے گا۔اورہماری کوشش ہوگی کہ ہم اسے آل تلنگانہ پیمانے پرکریں۔انہوں نے کہاکہ قرآن کے مسابقہ کامقصدلوگوں کے اندرقرآن فہمی اورقرآن کاذوق وشوق پیداکرناہے۔اورطلبہ مدارس کوقرآن بہترین پڑھنے کے مواقع فراہم کرناہے۔واضح رہے کہ مسابقہ کی اختتامی نشست کاآغازقاری محمدیونس امام مسجدجلال روڈ مستری نگرکی تلاوت کلام اللہ سے ہوا،نعت نبی کانذرانہ حافظ محمدابراراورقاری صفی اللہ صفی جمشیدپورجھارکھنڈنے پیش کیا۔مسابقہ کی سیادت محبوب العلماساجدنواب نے کی،جب کہ صدارت مولاناامتیازالدین قاسمی امام وخطیب جامع مسجدنورگرومورتی نگرنے کی۔مسابقہ کی سرپرستی فقیہ العصرحضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی صدرآل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ نےفرمائی۔مسابقہ کی حمایت مخدوم علی ریٹائرپولس آفیسرقطب اللہ پورنے کی۔نظامت کےفرائض مولاناعقیل ندوی استاذحدیث مدرسہ سودہ نسواں بورہ بنڈہ نے انجام دیئے۔اس موقع پرمہمانان خصوصی کی حیثیت سے مولاناغفران ساجدقاسمی چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن،مفتی محمودعالم قاسمی،مفتی زاہدناصری ،مولاناحنیف خان قاسمی،مولانادیانت حسین قاسمی،مفتی ولی اللہ قاسمی،مولانامحمودعالم حسامی،جناب سبحانی،سیدافتخارالدین نظامی قاسمی،مفتی توحیدعالم قاسمی،مولاناحکیم الدین قاسمی،مولاناعبدالصمدقاسمی،مفتی صابرقاسمی ودیگرعلمائے کرام ودانشوران عظام موجودتھے۔پروگرام کوکامیاب بنانے میں مدرسہ کے ذمہ داران بالخصوص مولانامسرورندوی،حافظ قسیم اختر،مولانارضوان ندوی،حافظ محمدجعفر،محمدمقصودعلی معراج،محمدمنظورعلی مجازاورمحمدمظفرعلی منہاج پیش پیش تھے۔
Comments are closed.