اسلام میں مساوات مردوزن کا تصور

 

مولانا منورسلطان ندوی

رفیق علمی مجلس تحقیقات شرعیہ،نائب مدیر سہ ماہی تحقیقات شرعیہ،ندوۃ العلماء

مغرب کے حوالے سے عورت کی آزادی ،مساوات اور انہیں خودمختاربنانے کی باتیں اتنی کثرت کی جاتی ہیں کہ بہت سے سادہ لوح اور عام ذہن کے مسلمان بھی اس بات کوعملاقبول کرچکے ہیںکہ عورتوں کویہ حقوق مغرب کی وجہ سے ملے ہیں،جبکہ حقیقت ہے کہ یہ دعوی تاریخی اور علمی لحاظ سےمحل نظر ہے، عورتوںکواس کاجائزحق مغرب نے نہیں اسلام نے دیاہے،مغرب کی نشاۃ ثانیہ سے بہت پہلے اسلام نے عورت کووہ مقام ومرتبہ عطاکیاجس کی وہ مستحق تھی،مسلم معاشرہ اس کابہترین عکاس اور مسلم خواتین کی دینی،علمی،تعلیمی،سماجی،معاشی اور سیاسی سرگرمیاں اس کے گواہ ہیں۔

اسلام میں عورتوں کو جوحقوق دئے گئے ہیں ان میں ایک مساوات کاحق بھی ہے ،یہاں مساوات سے مراد عورت کو مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا کرنانہیں ہے،بلکہ عورت کے حقوق کومحفوظ کرنااورانہیںان کی فطرت کے مطابق کارگاہ عمل میں اپناکرداراداکرنے کے لائق بناناہے،اسلام میں مردوعورت کے درمیان مساوات کی مضبوط اور مستحکم بنیادیںہیں،جن میں سے چنداس طرح ہیں:

۱۔انسانی حیثیت میں برابری

جس دور میں عورت کے بارے میں یہ بحث جاری تھی کہ عورت انسان ہے بھی یانہیں،اس دورمیں عورت کو انسانی حیثیت سے مردکے برابرہونے کا درجہ دیاگیا،جس کاواضح مطلب یہ ہے کہ انسان ہونے کی بنیادپر جوحقوق مردوں کو حاصل ہیںان حقوق کی حقدار عورت بھی ہیں،یہ ایک ایسا انقلابی تصورتھاجس نے عورت کے بارے میں غالب سماجی ذہنیت کو بدل کررکھ دیا،اب عورت ایک مستقل ہستی ہے،وہ قابل عزت اور قابل احترام ہے،میدان عمل میں مردوں سے پیچھے نہیں،بلکہ بساچیزوں میںمردوں سے آگے اور بہت آگے ہیں۔

قرآن کریم کی متعددآیات میں یہ بات کہی گئی ہے کہ مردوعورت دونوں ایک نفس سے پیدا کئے گئے :

یاایہاالناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجہا وبث منہا رجالا کثیرا۔(سورہ نساء:۱)

اس آیت میں یہ اشارہ واضح طورپرموجود ہے کہ مردوعورت دونوں کی اصل ایک ہی ہے،نہ مردکسی خاص جوہرسے بنے اور نہ عورت کسی دوسرے جوہرسے بنائی گئی،بلکہ دونوں ایک ہی اصل کی دوشاخیں ہیں،اور وہ اصل وبنیادمٹی ہے،لہذاجب دونوں ایک ہی اصل کی پیدوارہیں تودونوں میں امتیازکیسا؟

اسی طرح یہ بھی واضح کردیاگیاہے کہ امتیازاورفضیلت کی بنیاد جنس نہیں ہے،بلکہ تقوی ہے:ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم (سورہ حجرات :۱۳)

سورہ آل عمران میں مردوعورت کو ’’بعضکم من بعض‘‘کہاگیاہے،اس کی تفسیر میں مفسرین کہتے ہیں کہ مردکوعورت سے پیداکیاگیااور عورت مردسے پیداکی گئی،(تفسیرالمنار)

لہذادونوں یکساں مقام ومرتبہ کے حامل قرارپائے،دونوں میںکوئی فرق نہیں ہے،البتہ عمل کی بنیاد پر دونوں کامرتبہ ومقام الگ الگ ہوسکتاہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اسی مفہوم میں یہ بات بھی ارشادفرمائی:النساء شقائق الرجال (سنن ترمذی)

۲۔ایمان وعمل میں مساوات

خلقت میں مساوات کالازمی نتیجہ ہے کہ ایمان اور عمل دونوںمیں مردوعورت یکساں ہیں،اور دونوں کویکساں بدلہ ملے گا،ایسانہیں ہوسکتاہے کہ ایک ہی عمل کو اگر مردکرے توثواب الگ اور عورت کرے توثواب الگ،بلکہ دونوں کاثواب یکساں ہوگا،قرآن کریم میں متعدد آیات میں مردوعورت کوایک ساتھ اور ہم مرتبہ پیش کیاگیاہے ،سورہ احزاب میں ہے:

‌إِنَّ ‌ٱلمُسلِمِينَ وَٱلمُسلِمَٰتِ وَٱلمُؤمِنِينَ وَٱلمُؤمِنَٰتِ وَٱلقَٰنِتِينَ وَٱلقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلخَٰشِعِينَ وَٱلخَٰشِعَٰتِ وَٱلمُتَصَدِّقِينَ وَٱلمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُم وَٱلحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغفِرَةٗ وَأَجرًا عَظِيمٗا(احزاب:۳۵)

اسی طرح سورہ نحل میں ہے:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً۔(سورہ نحل :۹۷)

ان آیات سے واضح ہوتاہے کہ مردوعورت دونوں اللہ کے سامنے یکساں جواب دہ ہیں، دونوں کواپنےاپنے عمل کاجواب دیناہوگا۔

۳۔دینی ذمہ داری میں مساوات

دینی احکام کی ادائیگی ،شریعت پرعمل ،عمل کے نتیجہ میں جزاوسزااورتمام دینی ذمہ داریوں میں مردوعورت دونوں برابرہیں،سورہ توبہ میں ہے:

‌وَٱلمُؤمِنُونَ وَٱلمُؤمِنَٰتُ بَعضُهُم أَولِيَآءُ بَعضٖ أمُرُونَ بِٱلمَعرُوفِ وَيَنهَونَ عَنِ ٱلمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَٰٓئِكَ سَيَرحَمُهُمُ ٱللَّهُ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيم ۔(سورہ توبہ:۷۱)

اسی سے متصل دوسری آیت میں نیک عمل کے نتیجہ میں دونوں کے لئے ’’جنت عدن‘‘ اور’’ رضوان‘‘ کی بشارت سنائی گئی ہے۔

یہ مساوات کانتیجہ ہے کہ ہم جنگ کے میدان میں بھی صحابہ کے شانہ بہ شانہ صحابیات کو دیکھتے ہیں،اصولی طورپرصحابہ کو جنگ میں شریک ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کاحکم نہیں دیاگیاہے،لیکن انہیںاس بات سے منع بھی نہیں کیاگیاہے۔

بعض دینی احکام میں عورتوں کے ساتھ رخصت کامعاملہ کیاگیاہے،وہ ان کی صنفی اور طبیعی تقاضوں کی بنیاد پر ہے ۔

۴۔دونوں کے حقوق کی تعیین

اسلام میں مرداور عورت دونوں کے حقوق کو اس طرح محفوظ کیاگیاکہ دونوںکے فرائض اور ایک دوسرے کے تئیں حقوق بھی متعین کے گئے ،جس طرح عورت پرمردکے حقوق ہیں اسی طرح مردپربھی عورت کے حقوق عائد کئے گئے ہیں،کمزورصنف کے حقوق کے تحفظ کی اس سے بہتر کوئی شکل نہیں ہوسکتی تھی،سورہ بقرہ میں ہے:ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف ۔(سورہ بقرہ:۲۲۸)

اسی کے ساتھ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی بھی تاکیدکی گئی :

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوف۔(سورہ نساء: ۱۹ )

اور ان (بیویوں) کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو

احادیث میں کثرت سے عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید آئی ہے،رسول اللہ ﷺ نے مردکی اچھائی کامعیارہی عورت کے ساتھ حسن سلوک کوقراردیاہے،آپ نے فرمایا:خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي۔(سنن ترمذی)

تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں (خصوصاً بیوی) کے ساتھ بہتر ہو۔

۵۔انسانی حقوق میں مساوات

عام انسانی زندگی کے حقوق مثلا حق زندگی،حق عزت،حق ملکیت ،خریدوفروخت کاحق ،ملکیت کاحق ،تعلیم کاحق،سمامی حقوق مثلا رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا،ہبہ کرنا،صدقہ وخیرات کرنااس طرح کے بے شمارحقوق ہیں جن میں مردوعورت دونوں برابر ہیں۔

اسلام میں عورت مرد کے تابع نہیں ہے،بلکہ وہ ایک مستقل وجودرکھتی ہے،اس کی اپنی ذات ہے،جووالدین،شوہریااولادکے تابع نہیں ہے،عورت اپنی ملکیت کو جس طرح چاہے صرف کرسکتی ہے،یہ اختیاراور اس طرح کے تمام تراختیارات صرف اسلام میں دئے گئے ہیں۔

۶۔تعلیم وتدریس میں مساوات

اسلام میں پہلے دن سے تعلیم پرتوجہ دی گئی ہے،علم اور تعلیم کی اہمیت کایہ حال ہے کہ پہلی وحی میں ہی اس کاحکم نازل ہوا،چنانچہ علم کے حصول اور علم کی خدمت میں دونوں برابرہیں،یہی وجہ ہے کہ دورصحابہ سے ہی مردوں کے ساتھ ایسی خواتین کے نام ملتے ہیں جو علم کی خدمت میںمعروف تھیں۔

۷۔نکاح کے لئے رضامندی میں مساوات

جس طرح مرد کو اپنی پسند سے نکاح کرنے کا حق ہے، اسی طرح عورت کو بھی اپنے شریکِ حیات کے انتخاب کا مکمل حق دیا گیا ہے،یہ اخلاقی اور قانونی دونوں سطحوں پر مساوات کی بہترین مثال ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لا تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ۔(بخاری و مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ عورت کی آزاداورواضح رضامندی کے بغیر اس کانکاح درست نہیں ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ازدواجی رشتے کے قیام میں عورت کو مرد کے برابر فیصلہ سازی کا حق حاصل ہے۔

۸۔رشتہ نکاح ختم کرنے کے حقوق

نکاح کے بعد شوہروبیوی کے درمیان اگرکسی وجہ سے ہم آہنگی نہ ہوسکے اوردونوں ایک ساتھ زندگی گزارنے میں دشواری محسوس کریں تو ایسی صورت میں جہاں مردکوطلاق کااختیاردیاگیاہے وہیں عورت کو خلع اور بعض حالات میں فسخ وتفریق کابھی حق دیاگیاہے۔

۹۔معاشی حقوق میں برابری

اسلام میں عورت کوشرعی حدودمیں رہ کرکمانے،اپنی کمائی پرمکمل اختیاررکھنے اور اپنی مرضی سے خرچ کرنے کاحق ہے،مردکی طرح عورت بھی معاشی سرگرمیاں انجام دینے کااختیاررکھتی ہیں،اسلام نے عورت کی ملکیت کو تسلیم کرکے عورت کی عزت کومستحکم کیاہے:

لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ“(سورہ نساء:۳۲)

مردوں کے لیے ان کی کمائی میں حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی میں حصہ ہے۔

اسلام کی پہلی خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہااپنے دورکی مشہور تاجرتھیں،متعددصحابیات کے حوالے سے ان کی معاشی سرگرمیوں کاذکراحادیث اور سیرت کی کتابوں میںملتاہے۔

۱۰۔سماجی او رخاندانی دائرہ

مساوات کاایک مظہریہ بھی ہے حقوق کی تعیین کے بعد دونوں کادائرہ عمل بھی متعین کردیاگیا،مردکے لئے معاشی جدوجہداور خاندان کی سربراہی کامیدان ہے کہ وہ اس جہت میں عورت سے بہترکارکردگی کامظاہرہ کرسکتاہے،جبکہ عورت کے لئے گھر،بچوں کی پرورش اور اندرون خانہ انتظام وانصرام کامیدان ہے ،یہ کام عورت جس طرح انجام دے سکتی ہے مرد نہیں۔

ان تفصیلات سے واضح ہوتاہے کہ اسلام میں مساوات کامطلب دونوں کوایک ڈنڈے سے ہانکنانہیں بلکہ دونوں کوان کی فطرت اور صنفی رجحان کے مطابق میدان فراہم کرناہے ،یہاں مساوات کامطلب عدل ہے،مردوعورت دونوں ایک دوسرے کے لئے تکمیلی کرداراداکرتے ہیں ،اس کے برعکس مغرب میں عددی مساوات یامکمل مشابہت کانظریہ رائج ہے،اور اس نظریہ کانتیجہ خاندان کے بکھرائو،طلاق کی کثرت اور بغیر باپ کے اولاد عنوان سے دیکھا ،سمجھا اورمحسوس کیا جاسکتا ہے۔

Comments are closed.