ہجومی تشدد کے شکار اہل خانہ کے درمیان امارت شرعیہ نےکی امدادی رقومات کی تقسیم

 

امارت شرعیہ اور دیگر ملی تنظیمیں مظلوموں کو انصاف دلانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہیں : مفتی محمدسعیدالرحمٰن قاسمی

 

پٹنہ(پریس ریلز) ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈمولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے صوبہ وبیرون صوبہ میں ہورہے ہجومی تشدد وماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی واردات نے سماجی توازن اور جمہوری اقدار پر ایک سنگین سوالیہ نشان لگادیاہے جوکہ نہایت ہی شرمناک ہے ،حالیہ دنوں میں صرف بہارمیں ایسے شرمناک واقعات پیش آئے ،جس نے امن پسند شہریوں کواضطراب وکرب میں مبتلا کررکھاہے ،افسوسناک بات یہ ہے کہ جہان آباد کے کاکو میں ایک سبزی فروش محمد محسن کوپیٹ پیٹ کرماردیا،دوسری طرف بہارشریف کے باشندہ محمداطہرحسین کوکپڑے کی پھیری کے دوران نوادہ کے بھٹکاگاؤں کے چندغنڈوں نے اس قدروحشیانہ طریقے سے زدوکوب کیاکہ دوران علاج ان کی موت واقع ہوگئی،ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ ضلع مدھوبنی کے جھنجھاپور بلاک کے بتھی گاؤںمیں مزدورمسلمان محمدعبدالقیوم کوپیٹ پیٹ کرمارڈالا،مدھے پورہ کے مرلی گنج بھیروپٹی کی رہنے والی ایک غریب بیوہ خاتون حناپروین کوشرپسندوں نےبڑی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتاردیا،جھارکھنڈ کےضلع گڈاکے رانی پورمیں پپو انصاری کے سارتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ایک مسلمان کی مذہبی شناخت کے بعد مار دیا گیا ،یہ تمام واقعات سانحہ نہیں بلکہ دہشت گردی کی کھلی مثال ہے ؛چنانچہ اس دردناک سانحات کی خبرستےہی امیرشریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈمفکر ملت حضرت مولانااحمدولی فیصل رحمانی کے مشورہ سےناظم امارت شرعیہ نے موقع واردات پر امارت شرعیہ کےمتعدد وفود کو بھیجا،پھران کی رپوٹوں کی روشنی میں امداد ی وفود کوحضرت امیرشریعت کی ہدایت کے مطابق پانچوں مقامات پرارسال کیا،جہاں امارت شرعیہ کی علیحدہ علیحدہ امدادی ٹیموں نے امارت شرعیہ کی طرف سے ما ب لنچنگ کے شکارتمام لواحقین کے درمیان خطیر رقمیں بشکل چک تقسیم کیں،چونکہ متاثرین کوحکومتی سطح سے کسی طرح کی کوئی مالی مدد نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی تھی، اس لئے امارت شرعیہ کی طر ف سے کی جانے والی مالی امداد سے انہیں بڑی خوشی ومسرت ہوئی اوربڑی حدتک راحت اورسکون کی سانس لی مقامی ذمہ داروں نے امارت شرعیہ کی اس مالی پیش قدمی کی ستائش کی اور ادارہ کی ترقی واستحکام کے لئے دعائیں کیں،ناظم صاحب نے مزید کہاکہ ہجومی تشدد کے واقعات کوروکنے کے لئے سماجی کارکن اور نوجوان نسل کومل کرعام لوگوں میں انسانی بیداری اور مذہبی احترام کے جذبوں اور شعورکوبیدارکرناہوگا کہ انسانی جان سب سے زیادہ محترم ہےاور مذہب کے نام پرتشدد پھیلانادراصل مذھب کی توہیں کرناہے نیزحکومت کوچاہیے کہ اگر وہ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور مجرموںو ظالموں کے خلاف سخت فیصلہ لے کر انہیں کیفر کردارتک پہونچائے،امیدہے کہ وہ مجرموں کو گرفتارکرنے اور فسادیوں کے خلاف سخت اقدام اٹھائے گی اورایسے ظالموں اورغنڈوں کےخلاف فاسٹ ٹریک عدالت قائم کراکے سزادلوائے گی تاکہ ریاست میں امن وامان کی صورت حال برقرارہے ،اس سلسلہ میں امارت شرعیہ اور دیگر ملی تنظیموں نے حکومت بہارکوخط لکھ کرتوجہ دلائی اور صحیح صورتحال سے واقف کرایا، واضح ہوکہ امارت شرعیہ اس کے خلاف مسلسل جدوجہدکررہی ہے اور کرتی رہے گی جب تک کہ مظلوموں کو انصاف نہ مل جائے اور امن وامان کی فضاء قائم نہ ہوجائے۔

Comments are closed.