سماجی انصاف سے ملک آگے بڑھے گا، منصفانہ جمہوری نظام وقت کی ضرورت، سیمینار سے دانشوران کا خطاب
ارریا 27 جنوری
برطانوی راج کے خلاف قوم کو جگانے کےلئے’انقلاب زندہ آباد’ کا نعرہ مولانا حسرت موہانی نے دیا تھا،اس کی اہمیت موجودہ دور میںبھی ہے ،جو ناانصافی، عدم مساوات اور ظلم کے خلاف بیداری اور جدوجہد کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک منصفانہ، جمہوری اور بااختیار معاشرے کے قیام کے لیے پرعزم تحریک کا عکاس ہے۔ان خیالات کا اظہار یہاں سیمینار میں محمد مرشدعالم رکن قانون ساز اسمبلی بہار نے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اتحاد ،بھائی چارہ اور انصاف کے ساتھ ترقی کیلئے اس کو پھر سے زندہ کر نے کی ضرورت ہے۔ دعوت القرآن ایجوکیشنل ٹرسٹ ارریاکے زیر اہتمام ’’انقلاب زندہ آباد: ہندوستان کی قومی شناخت میں مسلمانوں کا حصہ ‘‘ کے عنوان پر منعقدسیمینار میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے معروف اسلامی اسکالر مولانا شاہد عادل قاسمی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ نے کہا کہ بھارت کے قومی شناخت اور اس کی تعمیر کے لئے مسلمانوں نے جو کارنامے انجام دیئے ہیں ،وہ سنہرے حروف میں درج ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ انقلاب زندہ باد کا حقیقی مفہوم ، انصاف،مساوات، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہمیں آمادہ کر تا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ہمیں جمہوری دائرے میں آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کی معنویت :تعمیری تبدیلی اور ملک میں ایسا مثبت انقلاب لانا ہے جو ہر شہری کو وقار کے ساتھ جینے کا حق دے۔ماہر تعلیم ارشد انور الف استاذ آزاد اکیڈمی نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں نے تاریخی کردار ادا کیا ہے، جو ہر شعبے میں نمایاں ہے۔ مغلیہ دور کے تعمیراتی ورثے سے لے کر آزادی کی جدوجہد اور جدید ہندوستان کی صنعتی و علمی ترقی تک، مسلمانوں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ماسٹر صدام حسین استاذہائی اسکول تارن نے کہا کہ سیمینار کے تھیم کو سامنے رکھ کر اگر میں یہ کہوں کہ تعمیر وترقی میں آزادی سےاب تک مسلمانو ںنے کسی بھی میدان کو نہیں چھوڑا ؛ غلط نہ ہو گا۔ماہر تعلیم وسینئر صحافی عبد الواحد رحمانی نے کہا کہ اکثر ’مین اسٹریم‘ مباحث میں بھارتی مسلمانوں کو ایک ایسے طبقے کے طور پر پیش کیا جاتاہے جو سماج کے حاشیے پرموجود، مسلسل دباؤ کا شکار او رمحض مظلومیت کی علامت ہے۔ تاہم سامنے آنے والی متعدد مثالیں اس یک رخی بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، فنون، تجارت او رکھیل جیسے متنوع شعبوں میں بھارتی مسلمانوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں او رملک کی مجموعی ترقی میں فعال او ربامعنی کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی اسکالر مفتی غفران حیدر نے کہا کہ ہندوستان مسلمان اپنی محنت، صلاحیت سے اپنی دنیا بنانے کا ہنر خوب جانتے ہیں ،مولانا حسرت موہانی نے نعرہ کے ذریعہ جو راہ دکھائی ہے ،اس پر چل کر ہی سماجی انصاف کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے اورملک ترقی کر سکتا ہے۔ اس موقع پردعوت ٹرسٹ کے سربراہ مولانا محمد عارف قاسمی نے مولانا ڈاکٹر عبد القادر شمس کی ہمہ جہت خدمات کو یاد کیا گیا اور خراج عقیدت پیش کیا۔اس سے قبل ’’شمس پبلک اسکول ‘‘کے طلبا وطالبات نے ’ترنگا یاترا‘ نکالا اور ثقافتی جھانکیاں پیش کیں ۔
Comments are closed.