جھارکھنڈ میں ایس آئی آر مہم: بلا تفریقِ مذہب ہر شہری کی مدد کریں:مولانا قمر انیس قاسمی

 

امارتِ شرعیہ کے زیرِ اہتمام کیرو اور کوڑو میں ایس آئی آر و پیرنٹل میپنگ پر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد

(لوہردگا / 28 جنوری 2026) امیر شریعت بہار اڈیشہ وجھارکھنڈمولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی ہدایت پر امارتِ شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے زیرِ اہتمام جاری ایس آئی آر (Special Intensive Revision) اور پیرنٹل میپنگ سے متعلق ریاستی تربیتی مہم کے تحت ضلع لوہردگا کے کیرو (مسجد صدیق) اور کوڑو (مدینہ مسجد) میں ایک اہم اور مفید تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ان پروگراموں کی صدارت معاون ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ جناب مولانا قمر انیس قاسمی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض قاضیِ شریعت لوہردگا مولانا عمر فاروق مظاہری نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ابتدائی خطاب میں ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے ایس آئی آر کی اہمیت، اس کے مقاصد اور سماجی ضرورت پر روشنی ڈالی، نیز وقف کے تحفظ سے متعلق اہم تدابیر بھی بیان کیں۔ اس کے بعد مفتی اکرام الدین قاسمی نے ایس آئی آر کے سماجی اثرات، عوامی شمولیت کی ضرورت اور اس عمل میں پیش آنے والے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی، ساتھ ہی پروجیکٹر کے ذریعے اہم نکات شرکاء کے سامنے پیش کیے۔بعد ازاں امارتِ شرعیہ کی ریسرچ ٹیم کے رکن مفتی قیام الدین قاسمی نے پروجیکٹر اور پریزنٹیشن کے ذریعے شرکاء کو عملی تربیت دی۔ انہوں نے فارم 6، فارم 8 اور ایس آئی آر سے متعلق پیچیدہ امور کو نہایت سادہ، عام فہم اور عملی انداز میں واضح کیا۔ شرکاء نے دورانِ نشست ان امور کی عملی مشق بھی کی، جس سے تربیت مزید مؤثر ثابت ہوئی۔ریسرچ ٹیم کے اراکین نے شرکاء کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دیے، جس سے افہام و تفہیم میں خاطر خواہ مدد ملی۔ورکشاپ کے دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایس آئی آر کے مکمل ہونے تک اپنے اپنے علاقوں میں عوام کی رہنمائی اور عملی مدد کو یقینی بنائیں گے، جو امارتِ شرعیہ کے لیے نہایت خوش آئند امر ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں مولانا قمر انیس قاسمی نے فرمایا کہ ہمارے معاشرے میں، خواہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں یا آدی واسی سماج سے تعلق رکھتے ہوں، بڑی تعداد ایسے غریب اور ناخواندہ افراد کی ہے جن کے لیے ایس آئی آر ایک مشکل مرحلہ بن سکتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم بلا تفریقِ مذہب و ملت، مرد و خواتین سمیت ہر شہری کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔انہوں نے حدیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:“لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔”انہوں نے واضح کیا کہ امارتِ شرعیہ چاہتی ہے کہ مسلم نوجوان شہری مسائل کے حل میں مثبت، تعمیری اور فعال کردار ادا کریں۔ ریاستِ جھارکھنڈ میں جاری ایس آئی آر مہم کے سلسلے میں حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم اور ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی اس امر پر نہایت فکر مند ہیں کہ کوئی بھی شہری کسی بھی صورت میں اس عمل سے محروم نہ رہ جائے۔اس موقع پر مجلسِ شوریٰ امارتِ شرعیہ کے رکن مولانا اکرام الحق عینی نے حضرت امیرِ شریعت کے اس بروقت، عوامی مفاد پر مبنی اقدام کو سراہتے ہوئے اسے جھارکھنڈ کے تمام شہریوں کی ایک اہم ضرورت قرار دیا اور پروگرام کے کامیاب انعقاد پر امارتِ شرعیہ، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔قاضیِ شریعت لوہردگا مولانا عمر فاروق مظاہری اور ان کے رفقاء کی محنت، توجہ اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں ورکشاپ میں شرکاء کی قابلِ ذکر تعداد کی موجودگی نہایت حوصلہ افزا رہی۔ورکشاپ میں شہر کے عمائدین، سماجی کارکنان، دانشوران اور مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔واضح رہے کہ حضرت امیرِ شریعت کی ہدایت پر امارتِ شرعیہ کی جانب سے یہ تربیتی مہم اوائل جنوری سے پورے جھارکھنڈ میں مسلسل جاری ہے، جبکہ حضرت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی قاضیِ شریعت ،مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ سمیت مرکزی ذمہ داران تربیتی وفود کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں.

Comments are closed.