لو اپنے ہی دام میں صیاد آ گیا!

 

نوراللہ نور

شکاری کا ہر وار لازماً درست نشانے پر لگے، یہ ضروری نہیں۔ بعض اوقات جب شامت آتی ہے تو شکاری خود ہی شکار بن جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی ہراسانی کوئی پوشیدہ امر نہیں رہا، بلکہ عالمی میڈیا تک اسے رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گھروں کے انہدام سے لے کر بے جا گرفتاریوں تک، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو بے شمار زخم دیے گئے ہیں۔ ہر ممکن طریقے سے نفرت اور عصبیت کو ہوا دی گئی۔

مگر اسے شومئی قسمت کہیں یا شامتِ اعمال، اس مرتبہ موجودہ حکومت کا داؤ الٹا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بار شکاری خود پیچ و تاب میں مبتلا ہے۔ اس کے اپنے ہی لوگ اس کے خلاف کھڑے نظر آ رہے ہیں اور اس کی صفوں سے مستعفی ہو کر نکل رہے ہیں۔

حال ہی میں مودی حکومت نے اعلیٰ طبقے کو اپنی جانب مائل کرنے کے بعد باقی ماندہ پسماندہ اور پچھڑے ذات کے طبقات کو لبھانے کے لیے ایک بل متعارف کرایا ہے، مگر معاملہ یہاں بھی الٹا پڑ گیا۔ مجوزہ قانون کے مطابق، اگر پسماندہ اور پچھڑی ذات کے طلبہ کو سرکاری یا کسی بھی تعلیمی ادارے میں نسلی امتیاز کا سامنا ہو تو انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔ ذات، پیشہ یا طبقاتی برتری و کم تری کا طعنہ دینے کی صورت میں، تشکیل شدہ کمیٹی تحقیقات کے بعد مجرم کو سزا دے سکے گی، خواہ وہ اسکول یا کالج کی اتھارٹی ہی کیوں نہ ہو۔

نچلی ذات اور اقلیتی طبقات کو دی جانے والی ان مراعات پر اعلیٰ طبقہ نالاں اور خفا ہے، کیونکہ ان مراعات سے انہیں مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اسی بنا پر اعلیٰ ذات کے لوگوں نے ناراضگی اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ممکنہ تحفظات کے پیش نظر، انہوں نے اس قانون کی مخالفت شروع کر دی ہے اور عدلیہ کے دروازے پر دستک دی ہے۔

یوں موجودہ حکومت نے پسماندہ طبقات کو مائل کرنے کی کوشش میں اپنے ہی لوگوں کی مخالفت مول لے لی ہے۔ خبروں کے مطابق پارٹی کے کئی کارکنان حکومت کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں رکھتے اور پارٹی رکنیت سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی بی جے پی کے حامی اپنی ہی پارٹی کے اس اقدام پر شکوہ کناں ہیں اور سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جو لوگ کل تک مودی جی کے گُن گا رہے تھے، آج انہی کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ مودی حکومت کو خلافِ توقع اندرونی بغاوت کا سامنا ہے۔ مزید یہ کہ غیر منصفانہ بل اور قراردادوں کی حمایت کرنے والے متعصب عناصر ہی اب اس حکمتِ عملی کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور حواس باختہ نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں یوگی حکومت کی جانب سے مبینہ توہین پر سادھوؤں نے اتر پردیش میں بی جے پی کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے۔ یہاں بھی حکومت کو اپنے ہی لوگوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان دونوں واقعات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شکاری کا نشانہ اس بار خطا ہو گیا ہے اور وہ خود ہی اپنے بچھائے ہوئے دام میں الجھ گیا ہے۔ تاہم، حالیہ انکار اور تنفر کی بنیاد پر مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔

Comments are closed.