یو جی سی کا نیا قانون — ایک جائزہ
محمد نفیس خان ندوی
یو جی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) ایک ایسا سرکاری ادارہ ہے جو ملک کی تمام یونیورسٹیوں کی منظوری، نگرانی اور مالی تعاون کا اختیار رکھتا ہے، اور اس کے قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں مالی تعاون روکا جا سکتا ہے اور ادارے کی منظوری منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔
حال ہی میں یو جی سی نے UGC Equity Regulations 2026 کے نام سے ایک نیا قانون پیش کیا ہے، جسے عوام میں "یو جی سی ایکٹ 2026” بھی کہا جا رہا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں ذات پات، مذہب، علاقہ، معذوری یا سماجی شناخت کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک اور زیادتیوں کا خاتمہ ہے۔
اس قانون کے مطابق ہر یونیورسٹی کو درج ذیل امور کی پابندی کرنی ہوگی:
(1)- 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن قائم کرنا ہوگی.
(2)- آن لائن پورٹل بنانا ہوگا.
(3)- درخواست ملتے ہی 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی شروع کرنی ہوگی.
(4)- ہر ماہ یو جی سی کو رپورٹ بھیجنی ہوگی
(5) ایک ایکویٹی سیل قائم کرنا ہوگا جو طلبہ کی شکایات، آگہی اور ماحول کی مجموعی نگرانی کرے گا۔
اس قانون سے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی طلبہ کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا، کیونکہ ماضی میں ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا تھا یا دبا دیا جاتا تھا، لیکن اب ہر معاملہ ریکارڈ ہوگا اور کارروائی لازم ہوگی۔
شکایت پر فوری کارروائی نہ ہونے کی صورت میں انتظامیہ جواب دہ ہوگی.
آن لائن پورٹل اور ماہانہ رپورٹنگ کے ذریعے شفافیت بڑھے گی اور مجموعی طور پر یونیورسٹی کا ماحول زیادہ محفوظ اور شفاف بنے گا۔
اس قانون کے حامیوں کے مطابق یہ ملک کے تعلیمی نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ،اور دوستانہ بنانے کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔
دوسری طرف اس قانون کی سخت مخالفت بھی کی جارہی ہے، طلباء سڑکوں پر ہیں، جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں اور ٹی وی چینلز پر گرماگرم ڈیبیٹ بھی جاری ہے، مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کا غلط استعمال ممکن ہے:
کیونکہ صرف ایک آن لائن شکایت پر 24 گھنٹے میں کارروائی لازمی ہونے سے بے بنیاد، مبالغہ آرائی پر مبنی یا ذاتی نوعیت کی شکایات بھی مؤثر اور خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہیں۔
ہر استاد اور ملازم ہمیشہ شکایت کے خوف میں رہے گا، جس سے تدریسی آزادی متاثر ہوگی اور استاد پوری آزادی کے ساتھ نہ پڑھا سکے گا نہ نظم و ضبط قائم رکھ پائے گا، نیز اس قانون کے ذریعہ بلیک میل کرنا بھی آسان ہوگا.
چھوٹی یونیورسٹیوں کے لئے مستقل ہیلپ لائن، پورٹل، ایکویٹی سیل، ماہانہ رپورٹنگ اور ٹریننگ جیسے تقاضے بھی اضافی بوجھ بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ سب سے زیاده اعتراض یہ ہے کہ اس قانون میں جنرل کٹیگری کے طلبہ کو شامل نہیں کیا گیا، جس سے اس طبقے میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، اور یہی مخالفت کی اصل بنیاد بھی ہے۔
مزید براں، اس قانون میں ملزم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے، جس پر قانونی اصولوں کے لحاظ سے شدید اعتراض کیا جا رہا ہے۔
اگر اس قانون میں جنرل کٹیگری کو بھی شامل کر لیا جائے اور جھوٹی شکایت پر سخت کارروائی کا واضح نظام بنا دیا جائے تو یہ قانون تعلیمی نظام میں شفافیت، انصاف اور تحفظ کے حوالے سے ایک بہترین قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
*نوٹ:*
اس قانون اور اس کی حمایت و مخالفت کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ بل ہندو سماج میں موجود روایتی ذات پات اور طبقاتی امتیاز پر قدغن لگانے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اسی لیے سماج کا نچلا طبقہ اسے تحفظ اور انصاف کی سمت ایک مثبت قدم سمجھ کر اس کا خیر مقدم کر رہا ہے، جبکہ بعض اعلی طبقات اسے اپنے سماجی مقام کے لیے چیلنج محسوس کرتے ہوئے مخالفت کررہے ہیں۔ اس طرح یہ بل تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سماجی ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی ایک علامت بن کر سامنے آیا ہے۔
Comments are closed.