مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو میں تمل فکشن پر ساہتیہ اکادمی کے اشتراک سے ادبی مذاکرے کا اہتمام
علی گڑھ، 30 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ جدید ہندوستانی السنہ کے تمل سیکشن نے ساہتیہ اکادمی کے تعاون سے ”تمل فکشن: سرحدوں سے ماورا“کے عنوان پر ایک ادبی مذاکرہ کا اہتمام کیا۔
پروگرام کا آغاز اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آر تمل سیلون کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے بین ثقافتی ادبی مکالمے کو فروغ دینے میں ترجمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر تمل کے افسانوی ادب کے اُن تراجم پر تفصیلی گفتگو ہوئی جو چینی، مراٹھی، ہندی اور پنجابی میں کیے گئے ہیں، نیز ان زبانوں کے اہم افسانوی ادب کے تمل میں ہونے والے تراجم پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز ویتری سیلوی اے اور ایلاکیہ وی آر، اور اے ایم یو کے ورون کمار جی اور شیہاریتھا ایم نے لیکچرز دئے۔ انھوں نے تمل سے دیگر زبانوں میں ہونے والے تراجم کے سال وار شماریاتی تجزیے پیش کیے، ترجمے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا، مترجمین کے کردار پر بحث کی، اور تمل فکشن کے اُن اہم ادبی تخلیقات کی نشاندہی کی جو ترجمے کی مستحق ہیں۔
اپنے صدارتی خطاب میں شعبہ جدید ہندوستانی السنہ کے چیئرپرسن پروفیسر نجم اے نے کہا کہ کثیر لسانی ملک ہندوستان میں ترجمہ نہایت اہم ہے اور اسے فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمل فکشن میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی کے ساتھ تمل سیکشن کے اشتراک کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں ترجمہ جاتی مطالعات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گی۔
پروفیسر ایم اے زرگر کے ساتھ ساتھ پروفیسر کرانتی پال، ڈاکٹر طاہر ایچ پٹھان اور ڈاکٹر آمنہ خاتون نے اپنی تہنیتی تقاریر میں مقررین اور منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔ تمل سیکشن کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے علاوہ بنگالی، ملیالم، مراٹھی، پنجابی اور تمل پس منظر سے تعلق رکھنے والے پی ایچ ڈی اسکالرز نے پروگرام میں شرکت کی۔ آخر میں تمل کے ریسرچ اسکالر وگنیش ایس نے کلمات تشکر ادا کئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے آئی آئی ایس ای آر بھوپال میں الیکٹروکیمیکل بایوسینسرز پر لیکچر دیا
علی گڑھ، 30 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد زین خان نے شعبہ کیمسٹری، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی آئی ایس ای آر) بھوپال کی جانب سے منعقدہ دسویں سالانہ سمپوزیم میں ”الیکٹروکیمیکل بایوسینسرز“ کے موضوع پر لیکچر دیا جس میں انہوں نے دنیا بھر میں بالخصوص اعصابی امراض جیسے ڈیمینشیا، پارکنسنز ڈیزیز اور مرگی جیسی بڑھتی ہوئی بیماریوں کا ذکر کیا اور اس کے اسباب پر گفتگو کی۔ انہوں نے ان امراض میں اضافے کی وجوہات میں بڑھتی عمر کی آبادی، طرزِ زندگی سے متعلق عوامل اور سب سے بڑھ کر بھروسہ مند ابتدائی تشخیصی آلات کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے بتایا کہ اعصابی امراض عموماً دائمی، ترقی پذیر اور اکثر ناقابل علاج ہوتے ہیں، جس کے پیش نظر بروقت طبی مداخلت کے لیے کفایتی اور کم سے کم مداخلتی تشخیصی طریقوں کی فوری ضرورت ہے۔
اپنے لیکچر کے دوران ڈاکٹر خان نے الیکٹروکیمیکل بایوسینسرز کو ایک مؤثر ابتدائی تشخیصی ذریعہ قرار دیا جو اعصابی خطرات کے خلاف پہلی دفاعی لائن کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر خان کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی اسکالر محمد سہیل چودھری اور ایم ایس سی انڈسٹریل کیمسٹری کے طالب علم مسٹر حنان الٰہی کو بھی سمپوزیم میں شرکت اور اپنا تحقیقی کام پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میڈیکل کالج کی فیکلٹی ممبر نے نیٹ-ایس ایس میں کل ہند سطح پر چھٹی رینک حاصل کی
علی گڑھ، 30 جنوری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ای این ٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ اسلام نے نیٹ سپر اسپیشلٹی امتحان (نیٹ -ایس ایس) میں چھٹی آل انڈیا رینک حاصل کی ہے۔
نیٹ-ایس ایس ایک نہایت مسابقتی قومی سطح کا داخلہ امتحان ہے جو ماسٹر ز (ایم سی ایچ) پروگرام میں داخلے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ڈاکٹروں کو ہیڈ اینڈ نیک آنکولوجی جیسے شعبوں میں سپر اسپیشلائزڈ سرجن کے طور پر تربیت دی جاتی ہے۔ یہ امتحان 26 دسمبر 2025 کو منعقد ہوا تھا، جس میں ملک بھر سے تقریباً 600 امیدواروں نے شرکت کی، جبکہ پورے ملک میں صرف 20 سے 30 نشستیں دستیاب تھیں۔
ڈاکٹر سعدیہ اسلام نے جے این ایم سی سے ہی ایم بی بی ایس اور بعد ازاں شعبہ ای این ٹی میں ماسٹر آف سرجری (ایم ایس) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نومبر 2021 میں جے این ایم سی کے شعبہ ای این ٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئیں۔ انہوں نے 2023 میں رائل کالج آف سرجنز، انگلینڈ کی رکنیت (ایم آر سی ایس) بھی حاصل کی، جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا۔
ان کی اس نمایاں کامیابی نے جے این ایم سی اور اے ایم یو کا نام روشن کیا ہے اور میڈیکل تعلیم اور خصوصی طبی خدمات کے میدان میں ادارے کی مسلسل خدمات کو اجاگر کیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
انٹر ڈسپلینر ی سینٹر فار آرٹیفیشیئل انٹیلیجنس، اے ایم یو میں فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 30 جنوری: انٹر ڈسپلنری سینٹر فار آرٹیفیشیئل انٹیلیجنس (آئی سی اے آئی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے”اے آئی سبھی کے لئے: پائیدار ترقی کی خاطر عالمی مسائل کے انٹرڈسپلینری حل“ عنوان پر دو ہفتے پر مشتمل فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے، جو10 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام انڈیا اے آئی مشن 2026 کے تحت انڈیا اے آئی امپیکٹ سمّٹ 2026 کے پری ایونٹ کے طور پر منعقد کیا گیاہے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر نثار احمد، ڈین، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے تعلیمی اداروں، صنعت، حکمرانی اور معاشرے میں مصنوعی ذہانت کے انقلابی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بالخصوص قومی اقدامات جیسے انڈیا اے آئی مشن سے ہم آہنگ پروگراموں کے ذریعے فیکلٹی ممبران اور محققین میں مسلسل صلاحیت سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
پروفیسر محمد مزمل، پرنسپل،ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی نے اپنے افتتاحی خطاب میں تیز رفتار تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے بین شعبہ جاتی اور مہارت پر مبنی تعلیمی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مختلف شعبوں میں جدت طرازی اور مسائل کے حل کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر ابھری ہے۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر راشد علی، پروفیسر، شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ، پروگرام چیئر اور کوآرڈینیٹر، آئی سی اے آئی نے انٹر ڈسپلنری سینٹر فار آرٹیفیشیئل انٹیلیجنس کا تعارف کراتے ہوئے اس کی تعلیمی، تحقیقی اور آؤٹ ریچ سرگرمیوں کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد اے آئی خواندگی کو فروغ دینا، بین شعبہ جاتی اشتراک کو مضبوط کرنا اور سماجی مسائل کے لیے اے آئی پر مبنی عملی حل کی سمجھ پیدا کرنا ہے۔
ڈاکٹر ندیم اختر، کنوینر اور ڈپٹی کوآرڈینیٹر، آئی سی اے آئی نے پروگرام کے مقاصد، ساخت اور موضوعاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام فیکلٹی ممبران اور ریسرچ اسکالرز کو پائیدار ترقی اور حقیقی دنیا کے مسائل کے حل کے لیے اے آئی ایپلیکیشنز سے متعلق نظریاتی بنیادوں اور عملی بصیرت سے آراستہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ پروفیسر محترمہ نادیہ صدیقی نے نظامت کے فرائض انجام دئے، جبکہ کلماتِ تشکر ڈاکٹر جنید علی ریشی نے ادا کیے۔
پروگرام کے پہلے دن پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ، شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ نے کلیدی خطبہ دیا اور آرٹیفیشیئل انٹلی جنس کا تعارف اور اس کا اطلاق موضوع پر سیشن منعقد کئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں پروستھوڈانٹکس میں کلینیکل ٹریننگ پروگرام کے لیے درخواستیں طلب
علی گڑھ، 30 جنوری: ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پروستھوڈانٹکس نے پروستھوڈانٹکس میں تین ماہ کے سیلف فائننس، مشاہدہ پر مبنی کلینیکل ٹریننگ پروگرام کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں، جو 9 فروری 2026 سے شروع ہوگا۔
شعبہ کے چیئرپرسن پروفیسر ابھینو گپتا نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد شرکاء کو جزوی یا مکمل طور سے دانتوں سے محروم مریضوں کے لیے پروستھوڈانٹک بحالی کی جامع طبی منصوبہ بندی اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق کلینیکل تجربہ فراہم کرنا ہے۔
ڈینٹل کونسل آف انڈیا سے منظور شدہ اداروں سے انٹرن شپ مکمل کرنے والے بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) پاس امیدوار اس پروگرام کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔ کل تین نشستیں دستیاب ہیں اور داخلہ پہلے آؤ، پہلے پاؤ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ منتخب امیدواروں کو داخلے کے وقت 50,000 روپے بطور فیس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فنانس آفیسر کے نام ڈیمانڈ ڈرافٹ کی شکل میں جمع کرنے ہوں گے۔
پروگرام کی مدت 9 فروری سے 8 مئی 2026 تک ہوگی۔ درخواست فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 7 فروری 2026 ہے۔ شعبہ کی ویب سائٹ https://www.amu.ac.in/department/prosthodontics-and-dental-material/useful-downloadand پر درخواست فارم موجود ہے، جسے ڈاؤن لوڈ کرکے اور مکمل طور سے پُر کرکے ای میل آئی ڈی prosthodontics6zadc@gmail.com یا chairperson.pv@amu.ac.in پر ارسال کیا جاسکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج میں ڈاکٹروں نے مثانے کے کینسر کی پیچیدہ سرجری کامیابی کے ساتھ انجام دی
علی گڑھ، 30 جنوری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (جے این ایم سی ایچ)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ڈاکٹروں نے ادارے میں پہلی مرتبہ مثانے کے کینسر کی ایک نہایت پیچیدہ سرجری کامیابی کے ساتھ انجام دی جو ایک بڑی طبی دستیابی ہے۔
علی گڑھ ضلع سے تعلق رکھنے والے 76 سالہ مریض کا علاج شعبہ سرجری کے ڈاکٹر پرویز عالم اور ان کی سرجری ٹیم نے کیا۔ یہ مریض پیشاب میں خون آنے کی شکایت کے ساتھ اسپتال پہنچے تھے۔ کلینیکل جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر ٹرانس یوریتھرل ریسیکشن آف بلیڈر ٹیومر کیا، جو ایک کم از کم مداخلتی طریقہ علاج ہے، جس میں کوئی بیرونی چیرا لگائے بغیر پیشاب کی نالی کے راستے مثانے کے ٹیومر کو نکالا جاتا ہے۔
مریض کی بایوپسی رپورٹ میں مسل اِنویزیو بلیڈر کینسر (ایم آئی بی سی) کی تصدیق ہوئی تھی، جو مثانے کے کینسر کی ایک سنگین قسم ہے جس میں بیماری مثانے کے عضلات تک گہرائی میں پھیل جاتی ہے۔ اس حالت کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز عالم نے بتایا کہ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ایم آئی بی سی جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں عموماً دو سے تین ماہ کے اندر مکمل مثانہ نکالنا ضروری ہو جاتا ہے۔
مریض کی جان بچانے کے لیے سرجری ٹیم نے تقریباً 8 سے 10 گھنٹے میں ایک نہایت پیچیدہ آپریشن انجام دیا۔ سرجری کے دوران مثانہ مکمل طور پر نکال دیا گیا، بڑی خون کی نالیوں کے قریب موجود لمف نوڈز کو احتیاط سے الگ کیا گیا، اور چھوٹی آنت کے ایک حصے سے پیشاب کا نیا راستہ بنایا گیا۔
یہ سرجری شعبہ اینستھیسیولوجی کے تعاون، بالخصوص ڈاکٹر شہنا کی مدد سے، اور شعبہ سرجری کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر عطیہ ذکاء الرب کی انتظامی رہنمائی میں انجام دی گئی۔
مریض کو صحت یابی کے بعد آپریشن کے نویں دن ڈسچارج کر دیا گیا۔ ابتدائی ہسٹوپیتھولوجی رپورٹ میں کینسر کے مکمل اخراج اور منفی مارجنز کی تصدیق ہوئی، جو سرجری کی کامیابی کی علامت ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں علی سوسائٹی کی جانب سے یوم علیؓ کی تقریب 31 جنوری کو
علی گڑھ، 30جنوری: حضرت علیؓ کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے یوم علیؓ کی عظیم الشان تقریب علی سوسائٹی کے زیراہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے کینیڈی آڈیٹوریم میں بروز ہفتہ، 31 جنوری کو شام 6:30 بجے منعقد ہوں گی۔
اس یادگار تقریب کی صدارت پروفیسر نعیمہ خاتون، وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کریں گی۔ اس موقع پر حجت الاسلام ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی، نمائندہ رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران برائے ہند، بطور مہمان خصوصی اور جناب آغا سید روح اللہ مہدی، رکن پارلیمنٹ، لوک سبھا، سرینگر، بطور مہمان اعزازی شریک ہوں گے۔ تقریب میں پروفیسر محمد محسن خان، پرو وائس چانسلر، اے ایم یو، کی معزز موجودگی کے ساتھ ساتھ سرپرست ڈاکٹر اصغر اعجاز، چیئرمین، شعبہ شیعہ دینیات، اے ایم یو، بھی موجود ہوں گے۔
بطور مہمان مقررین عالم دین مولانا سید نجیب الحسن زیدی، مسجد ایرانیاں، ممبئی، اور ڈاکٹر سید فیضان وارثی، سجادہ نشیں، خانقاہ زیدیہ وارثیہ، الہ آباد، خطاب کریں گے۔ مہمان شعراء مولانا سید معراج زیدی، منگلور، اور جناب ہلال نقوی، لکھنؤ، منقبت پیش کریں گے۔ پروفیسر مظہر عباس، شعبہ آرتھوپیڈک سرجری، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، اے ایم یو بھی بطور خاص شریک ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں یومِ شہیداں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا
علی گڑھ، 30 جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور اس کے مراکز، اسکولوں اور دیگر ذیلی اداروں میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم شہادت پر منعقد ہونے والا یومِ شہیداں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر مہاتما گاندھی اور دیگر مجاہدین آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس موقع پر صبح گیارہ بجے یونیورسٹی میں سائرن بجتے ہی دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ تقاریر، ثقافتی پروگرام اور تعلیمی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا گیا تاکہ طلبہ اور عملے کے اراکین میں حب الوطنی، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جا سکے۔
اے ایم یو گرلز اسکول میں پروگرام انچارج مسز کوثر پروین کی نگرانی میں صبح کی خصوصی اسمبلی منعقد ہوئی، جس میں پرنسپل مسز آمنہ ملک اور وائس پرنسپل مسز الکا اگروال موجود تھیں۔ پروگرام میں طلبہ نے پُراثر تقاریر کیں اور نظمیں پیش کیں۔ گیارہویں جماعت (آرٹس) کی طالبہ پریسا فیاض اور بارہویں جماعت (آرٹس) کی عرشی رفیق نے شہداء کی قربانیوں اور نظریات پر روشنی ڈالی۔ جماعت ہشتم کی صوفیہ خان نے جذباتی انداز میں ہندی نظم سنائی جس نے حاضرین کو متاثر کیا۔ قوم کے بہادروں کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور اسمبلی کا اختتام ان اقدار کو برقرار رکھنے کے عہد کے ساتھ ہوا جن کے لیے شہداء نے اپنی جانیں نچھاور کیں۔
عبداللہ اسکول میں طلبہ نے گاندھی جی کے اصولوں، سچائی، عدم تشدد اور بے لوث خدمت پر مبنی تقاریر پیش کیں۔ سپرنٹنڈنٹ مس عمرہ ظہیر نے حاضرین کو ان اقدار کو روزمرہ کی زندگی میں اپنانے کی ترغیب دی۔ پورے اسکول میں مہاتما گاندھی اور تمام قومی شہداء کے احترام میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
دوسری طرف احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں مجاہدین آزادی پر مبنی ایک فلم کی خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں قومی ہیروز کی زندگی، جدوجہد اور قربانیوں کو دکھایا گیا۔ پرنسپل ڈاکٹر نائلہ رشید نے کہا کہ یومِ شہیداں منانا دراصل شہیدوں کے نظریات کو برقرار رکھنے کے عزم کی تجدید ہے۔ محترمہ ندرت جہاں، پی جی ٹی فزکس نے بھی ہندوستان کی آزادی کے پس منظر میں دی گئی قربانیوں کو یاد رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اے ایم یو کشن گنج سنٹر میں طلبہ اور اساتذہ نے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی، جس کے بعد تقاریر ہوئیں اور حب الوطنی کے گیت پیش کیے گئے جن میں مجاہدین آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فیض محمد نے طلبہ کو زندگی کے ہر پہلو میں سچائی، عدم تشدد اور حب الوطنی کے اصول اپنانے کی تلقین کی۔
اے ایم یو کی نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) اکائیوں نے علی گڑھ اور ملاپورم سنٹر پر خراجِ عقیدت کے پروگرام منعقد کیے۔ رضاکاروں اور عملے کے اراکین نے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور گاندھی جی کے امن، عدم تشدد اور سچائی کے نظریات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔
ملاپورم سنٹر میں سوشل سائنس کلب نے گاندھی جی کی زندگی اور تحریک آزادی پر کوئز کا انعقاد کیا، جبکہ طلبہ نے ہندی، اردو، انگریزی اور ملیالم سمیت مختلف زبانوں میں تقریریں کیں، جو قربانی اور حب الوطنی کے آفاقی پیغام کو اجاگر کرتی تھیں۔
ایس ٹی ایس اسکول، اے ایم یو میں صبح 11 بجے طے شدہ وقت کے مطابق دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جس کے بعد ہندوستان کی تحریک آزادی پر مبنی آڈیو ویژول پرزنٹیشن ہوا۔ پرنسپل جناب فیصل نفیس نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ شہیداں سچائی، اتحاد اور دیانت داری کی اقدار کو برقرار رکھنے کی دعوت ہے۔
٭٭٭٭٭٭
ویمنس کالج، اے ایم یو میں لائف سائنس سوسائٹی کے زیر اہتمام دو روزہ انڈرگریجویٹ کانکلیو کا انعقاد
علی گڑھ، 30 جنوری: ویمنس کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی لائف سائنس سوسائٹی کے زیر اہتمام انڈرگریجویٹ کانکلیو 2026 کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا، جس کا مقصد انڈرگریجویٹ طالبات میں ماحولیاتی بیداری، علمی شغف اور بین شعبہ جاتی علمی رجحان کو فروغ دینا تھا۔ دو روزہ کانکلیو میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی انڈرگریجویٹ طالبات نے لائف سائنس سوسائٹی کے عہدیداران (صدر: درفشاں سلطانہ، نائب صدور: فارحہ حسن اور نائلہ صدیقی، سکریٹری: عریشہ، جوائنٹ سکریٹری: عاکفہ حسن اور خازن: عائشہ ولی) کی قیادت میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
پروگرام میں ”سائی اسپارک فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی مقابلہ“ شامل تھا، جس کا ہدف بصری کہانی گوئی کے ذریعے طالبات کو فزکس پر مبنی تصورات اور ماحولیاتی موضوعات سے واقف کرانا تھا۔ اس اقدام نے بین شعبہ جاتی تحقیق کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ دکھایا کہ فزکس کے اصولوں کو لائف سائنسز، ماحولیاتی مطالعہ اور پائیداری سے متعلق تحقیق میں کس طرح مؤثر طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اس سرگرمی نے طالبات کو روایتی کلاس روم کی حدود سے باہر سائنسی تصورات کو دریافت کرنے اور تخلیقی سائنسی اظہار کو فروغ دینے کی ترغیب دی۔ اس کے علاوہ مضمون نویسی مقابلہ، کوئز مقابلہ، پکشنری اور پوسٹر سازی جیسے مختلف پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
افتتاحی اجلاس میں پروفیسر نفیس احمد خان، ڈین، فیکلٹی آف لائف سائنسز نے شرکت کی۔ انھوں نے عصری ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے میں سائنسی تعلیم کے کردار پر زور دیا۔ پروفیسر توحید احمد، ڈائریکٹر، اے پی جے عبد الکلام سینٹر فار اسٹیم ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، اے ایم یو نے بالخصوص طالبات میں اسٹیم ایجوکیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اسٹیم-ای آر، اے ایم یو اور انٹرنیشنل سوسائٹی آف مسلم ویمن اِن سائنسز کے اشتراک سے منعقدہ ای پوسٹر مقابلے کے فاتحین کو اعزاز سے نوازا۔ ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی نے طالبات کی قیادت میں ہونے والی علمی سرگرمیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جو ادارہ جاتی تعلیمی ثقافت کو مضبوط بناتی ہیں۔
اکیڈمک سیشنز میں مدعو مقررین محترمہ رابعہ عمر، مسٹر تحسین رضا، ڈاکٹر شاہد جبران اور مسٹر جنید اختر نے تحقیق کے راستوں اور کریئر ڈیولپمنٹ سے متعلق قیمتی معلومات فراہم کیں۔
یہ پروگرام فیکلٹی کوآرڈینیٹرز پروفیسر نظورہ عثمانی اور ڈاکٹر فوزیہ نوشین کی رہنمائی میں منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر عامر رینا، ڈاکٹر انوشی ارجمندجہاں، ڈاکٹر توقیر عالم اور ڈاکٹر گلشن آرا سمیت دیگر فیکلٹی ممبران نے علمی معاونت اور تنظیمی تعاون فراہم کیا۔
Comments are closed.