فضائی حادثات یا سبو تاج!

 

سچ تو مگر کہنے تو

 

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

9395381226

زندگی کیا ہے؟ بس پانی کا بلبلہ ہوا کا ایک جھونکا اس کو مٹا دیتا ہے۔ انسان صدیوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے وہ اپنے منصوبوں کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے ۔ اجیت پواراس کی تازہ مثال ہیں۔ 28 جنوری کو چارٹرڈ طیارہ حادثے میں مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار چار افراد کے ساتھ ہلاک ہوگئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ چند دن پہلے ہی انہوںنے کہا تھا کہ سب کی فائلس ان کے پاس ہے۔ یہ کسی کو وارننگ تھی یا بلیک میلنگ؟ یا اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کہ مہاراشٹرا کی سیاست میں وہ اہم رول ادا کرنے والے ہیں۔ ویسے بھی وہ ہمیشہ سے بی جے پی اور این سی پی دونوں کے لئے سوالیہ نشان بنے رہے۔ شرد پوار کے بھتیجے تھے اور اپنے سیاسی مفاد کے لئے اپنے سیاسی گروکو اچھا سبق سکھایا تھا۔ بالکل اسی طرح کہ جیسے چندرا بابو نائیڈو نے اپنے خسر این ٹی راما راو ¿ کو سکھایا تھا۔ اجیت پوار نجی طور پر ایک محنتی انسان تھے جو سولہ تا اٹھارہ گھنٹے عوام کے درمیان رہا کرتے تھے تاہم ان کا دامن بے داغ نہیں تھا۔ مہاراشٹرا ایریگیشن اسکام میں ان پر 70 ہزار کروڑ کے کھپلے کا الزام تھا۔ جنتا اوران کے خلاف باضابطہ انٹی کرپشن بیورو کی تحقیقات جاری تھی۔ اجیت پوار نے اس اسکام سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اپنے دامن کو بے داغ کرنے کے لئے مہاراشٹرا میں بی جے پی سے گٹھ جوڑ کیا اور بی جے پی کی لانڈری سے صاف ستھرے بے داغ ہوکے نکل گئے۔ اس کے علاوہ کئی اور اسکامس میں وہ ملوث تھے مگر بی جے پی کی مہربانی نے انہیں ہر اسکام سے لا تعلق قرار دیا ، جس کے بعد ہر وہ شخص جس کا دامن کرپشن ، بد عنوانی حتی کہ سنگین جرائم کے الزامات سے داغدار تھا وہ ای ڈی ، سی بی آئی ، اے سی بی جیسے اداروں سے بچنے کے لئے بی جے پی میں شامل ہونے لگا ۔ جس طرح سے اجیت پوار کی فضائی حادثے میں موت ہوئی ہے اس پر کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے کہ آیا ان کی موت واقع حادثہ تھی یا سبو تاج کا نتیجہ ؟

فضائی حادثے ہوتے رہتے ہیں اور لاکھ سکیوریٹی انتظامات کے باوجود طیارے ، ہیلی کاپٹرس، فنی خرابی کے نتیجے میں حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔12 جون 2025ءکو ایئر انڈیا کا طیارہ احمد آباد میں پرواز کے چالیس سکنڈ بعد ہی میڈیکل کالج کی عمارت سے ٹکرا گیا تھا جس میں کم از 265 افراد ہلاک ہوئے تھے ان میں 242 مسافر تھے اور ان مسافروں میں گجرات کے سابق چیف منسٹر روپانی بھی شامل تھے ۔ یہ اتفاق بھی ہے کہ روپانی کے پاس بھی بعض اہم ہستیوں کے راز تھے جو فاش کرنا چاہتے تھے اور وہ بھی 2011ءکے اسٹاک مارکیٹ اسکام میں ملوث تھے۔ اگرچہ کہ مرنے سے پہلے انہوںنے وصیت کردی تھی ۔ روپانی کے موت کے بعد بھی بہت سے سوال اٹھائے گئے تھے ۔ فضائی حادثات میں اکثر جو ہندوستانی اہم شخصیات کی ہلاکتیں ہوئی ہیںان میں سنجے گاندھی سر فہرست ہیں۔ اندرا گاندھی کا دوسرا بیٹا جو اپنے وقت کا ڈکٹیٹر بن گیا تھا۔ ماں وزیر اعظم تھی مگر اقتدار کی ڈور بیٹے کے ہاتھ میں تھی ۔ ایمرجنسی میں اس نے جو مظالم ڈھائے وہ ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ فیملی پلاننگ کو لازم قرار دیتے ہوئے جبراً ایسے نوجوانوں کی بھی نس بندی کروا دی گئی تھی جن کی شادی تک نہیں ہوئی تھی۔ ترکمان گیٹ میں مسلمانوں کے گھروں اور جھوپڑیوں پر اسی دور میں بلڈوزر چلائے گئے تھے۔ جو اس کی بات ماننے سے انکار کردیتا اس سے انتقام لیا جاتا ۔ سنجے گاندھی ایک تربیت یافتہ پائلیٹ تھا اور تربیتی پرواز کے دوران ہی صفدر گنج کے علاقہ میں اس کا طیارہ کریش ہوگیا تھا جس پر کافی سوال اٹھائے گئے تھے اور اس کی موت کے لئے کچھ ایسی ہستیوں کے نام بھی لئے گئے تھے جس کا یہاں ذکر مناسب نہیں ۔ مادھو راو ¿ سندھیا راجیو گاندھی کے قریبی دوست تھے جن کا گوالیر کے شاہی خاندان سے تعلق تھا۔ راجیو گاندھی کی تمل ناڈو میں خود کش بم دھماکے میں موت کے بعد پر اثرار طریقے سے ان کے قریبی ساتھی یاتو حادثات میں ہلاک ہوگئے یا پھر انہیں ایک منظم اور منصوبہ بند طریقے سے منظر عام سے ہٹا دیا گیا۔ جیسے راجیش پائلٹ بھی ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ فضائی حادثات کبھی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئے ہیں تو کبھی کسی کی غلطی کی وجہ سے ۔ جیسے گجرات کے دوسرے چیف منسٹر بلونتھ رائے ہند۔ پاک کے قریب اس وقت ہلاک ہوئے جب پاکستانی فضائیہ کے جیٹ نے ان کے مسافر بردار طیارے کوہندوستانی فضائیہ کا طیارہ سمجھ کر مار گرایا تھا جس میں ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی ہلاک ہوگئی تھیں۔ یہ 1965ءکی بات ہے اور یہ حادثہ ہند۔پاک کے قریبی سرحد پر پیش آیا تھا۔ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس آر راج شیکھر ریڈی ریاست میں دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہلاک ہوگئے۔ ان کی موت ایک ایسے وقت ہوئی جب وائی ایس آر کا قد سیاسی کانگریس سے بھی بڑا ہوچکا تھا اور اگر یہ زندہ ہوتے تو علیحدہ تلنگانہ کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہوتا کیوں کہ ان میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ ہر تحریک کو کچل سکتے تھے۔ راج شیکھر ریڈی نے تلگو دیشم کو آندھرا پردیش میں اقتدار سے بے دخل کیا۔ مسلمانوں کے اکثریت نے انہیں کامیاب بنانے کے لئے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور ان ہی کی فراخ دلی کی وجہ سے آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے۔ جس کے لئے محمد علی شبیر کی انتھک کاوشیں ناقابل فراموش ہیں۔ یوں تو ایسے کئی نام ہیں جو فضائی حادثات میں ہلاک ہوئے ہیں تاہم ایک اہم نام بپن راو ¿ت کا ہے جو ہندوستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس تھے۔ حادثے میں ان کی اہلیہ اور مزید گیارہ افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔

فضائی حادثات ہویا سڑک حادثات اہم شخصیات کی اموات پر کچھ دنوں تک چرچہ ہوتے ہیں ۔ تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے ، ثبوت بلیک باکس سے تلاش کیا جاتا ہے اور اکثر و بیشتر کسی ایک کو ذمہ دار ٹھہراکر معاملہ ختم کردیا جاتا ہے۔ احمد آباد طیارے حادثے کے لئے پائلٹ کو ذمہ دار قرار دیا گیا اور بلیک باکس کے حوالے سے بتایا گیا کہ سینئر پائلیٹ نے ہی طیارہ کا فیول آف کردیا تھا جس کی وجہ سے طیارہ فضاءمیں اڑان نہ بھرسکا اور میڈیکل کالج کی دیوار سے ٹکرا گیا۔ پائلیٹ پر الزام عائد کئے جانے کے بعد بعض گوشوں سے دبے دبے لہجے میں کہا جانے لگا کہ ہرجانے کی رقم کی ادائیگی سے بچنے اور ایئر انڈیا کے ساتھ ساتھ حکومت ہند اور وزارت شہری ہوا بازی کو بچانے کی غرض سے ایسا کہا گیا ہے۔

آج تک یہ پتہ نہیں سکا کہ سنجے گاندھی کا تربیتی طیارہ کیسے گرا؟ راج شیکھر ریڈی کا ہیلی کاپٹر گرنے کا سبب کیا تھا؟ مادھو راو ¿ سندھیا کی موت کیا اتفاقی حادثے کا نتیجہ تھا یا انہیں راجیو گاندھی کے بعد ان کا مقام حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش تھی؟ اسی طرح اجیت پوار چیف آف واقع طیارہ حادثے کا نتیجہ ہے یا پھر انہیں سیاسی راہداریوں سے دور رکھنے کی کسی سازش کا نتیجہ؟حالیہ عرصہ کے دوران نہ صرف سیاستداں کرکیٹرس اور اہم شخصیات کی جانب سے چارٹرڈ طیاروں اور ہیلی کاپٹرس کے استعمال عام ہونے لگا ہے۔ کسی کو سبوتاج کرنے کی سازش رچانا اور اسے راستے سے ہٹانا اب بہت زیادہ مشکل نہیں رہا۔ کیوں کہ تحقیقاتی رپورٹ میں بھی وہی پیش کیا جاتا ہے جو سازش رچانے والے چاہتے ہیں۔ اس لئے ہر سیاست دان ، سلیبریٹی کو فضائی سفر کے معاملے میں حساس اور چوکس رہنا چاہئے۔ کیوں کہ کسی کو راستے سے ہٹانے کے لئے فضائی حادثے سے زیادہ آسان کوئی اور حربہ نہیں ہے۔ اکثر وبیشتر اہم شخصیات اگر فضائی حادثے میں بھی ہلاک ہوتی ہیں تو وہ صرف حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بند سازش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر آپ بین الاقوامی سطح پر حادثات کا جائزہ لیں تو ایسے بہت سے نام جو ذہن میں ابھرتے ہیں جو فضائی حادثات کا شکار ہوئی ہیں چاہے وہ پاکستان کے صدر جنرل ضیاءالحق (1988ئ) ہوں ،عراق کے صدر عبد السلام عارف (1966ئ) ہوں ،یا امریکی صدر جون ایف کنیڈی کی بہن کیٹھ لن کیونڈش (1948ئ)، یونان کی شہزادی سسلی (1937ئ) ، مارسل کارنن ورلڈ باکسنگ چمپئن 1949ئ، جنید جمشید (2016ئ)، پولینڈ کے صدر کاکسزنکی(2010ئ)،لیبیا کے فوجی سربراہ عبد الحمید دبیہ(2025)، وزیر اعظم لبنان(1987ئ) راشد کرامی، امریکی صدر کے بیٹے جان ایف کنیڈی جونیئر (1990ئ) ، موذمبیق کے صدر سمرہ ماتھل(1986ئ) ، فلپین کے صدر رمن میکھا سے سے (1957ئ) ، سابق ورلڈ باکسنگ چمپئن روکی مارشیانو (1969ئ)، پرتگال کے وزیر اعظم فرانسیسکو کارنیرو(1980ئ)، مقدونیہ کے صدر بوریس راجکو وسکی(2004ئ) کا نام قابل ذکر ہے جبکہ 1940ءمیں حکومت آسٹریلیا کے 10 ارکان اور رامن میکھا سیسی کے ساتھ 25 افراد ، جنرل ضیاءالحق کے ساتھ پاکستان کے مشترکہ افواج کے سربراہ اختر عبد الرحمن ، پاکستان میں امریکی سفیر آرنولڈ لیویس رافل اور کئی پاکستانی فوجی عہدیدار ہلاک ہوئے تھے۔ 1987ءمیں پیرو کے فضائی حادثے میں 16 کھلاڑی کوچ اور دیگر افراد بحر اقیانوس میں طیارہ گرنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ برازیل کے 19 فٹبال کھلاڑی کوچ کے بشمول 71 افراد فضائی حادثات کا شکار ہوئے ۔ ان میں بیشتر حادثات کسی نہ کسی سبو تاجی کاروائی کا نتیجہ تھے۔

Comments are closed.