نرگسیت اور اس کے مظاہر
✒️محمد نفیس خان ندوی
نرگسیت ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ذات کو تمام توجہات کا محور سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ ہر قسم کی تعریف، ستائش اور اہمیت کا فطری طور پر حقدار ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر محفل میں اسے نمایاں مقام ملے، ہر گفتگو میں اس کی شخصیت کا حوالہ ہو، اور اس کی غیر موجودگی میں بھی اُس کی تعریف و توصیف جاری رہے۔
نرگسیت کا لفظ یونانی افسانہ کے ایک کردار "نارسسس” (Narcissus) سے ماخوذ ہے. نارسسس حسن وجمال کا پیکر تھا، وہ حسن و خوبصورتی ضرب المثل تھا، جب پہلی مرتبہ اس نے صاف و شفاف پانی میں اپنا عکس دیکھا تو وہ اپنے ہی حسن پر فریفتہ ہوگیا. اپنی خوبصورتی کے سحر وہ میں اس طرح گرفتار ہوا کہ دنیا و مافیھا سے بے خبر ہوتا گیا، حتی کی وہ خود پسندی اور خود فریفتگی کی کیفیت میں اس قدر فنا ہوا کہ ہلاکت تک جاپہنچا.
کہتے ہیں کہ اس کے مرنے کے بعد اسی مقام پر ایک نازک و لطیف پھول کھلا، جسے “نرگس” کا نام دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ "نرگس کا پھول” خود پسندی، خود بینی اور خود فریفتگی کا ایک ادبی استعارہ بن گیا۔
تاریخِ انسانی میں نرگسیت کی بدترین مثال میں فرعون اور اس جیسے وہ حکمران ہیں جو خود کو صرف ہر طرح کی تعریف و ستائش کا ہی نہیں بلکہ بندگی اور اطاعت کے بھی پورے طور پر مستحق سمجھتے تھے۔ ان کے ذہنوں پر اپنی عظمت اور برتری کا ایسا خبط سوار تھا کہ وہ بے جھجھک خدائی کا دعوی کرتے تھے، اور لوگوں کو اپنے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتے تھے.
نرگسیت کی بنیاد تاریخ میں جتنی گہری ہے اس اثرات بھی اتنے ہی نمایاں اور وسیع ہیں، درباروں میں "قصیدہ خوانی” سے لے کر خانقاہوں میں "تحدیث نعمت” تک – ہر جگہ انسانی انا کی وہی جھلک دکھائی دیتی ہے جو کسی نہ کسی صورت میں اپنی فضیلت و برتری کی متلاشی رہتی ہے..
نرگسیت کی کیفیت پہلے صرف خواص تک محدود تھی؛ اصحابِ فضل و کمال ہی کبھی کبھار خود فریفتگی میں مبتلا ہوا کرتے تھے۔ مگر اب معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے۔ نرگسیت تخت و تاج کے ایوانوں اور بوریہ نشیں کے حجروں سے نکل کر عام انسانوں کی روزمرہ زندگی میں اس طرح سرایت کر گئی ہے کہ گویا یہ ایک اجتماعی مرض بن چکا ہے..
ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور کیمروں نے انسان کو اپنی ذات کے حصار میں محدود کردیا ہے، پہلے ایک آئینہ تھا جس میں انسان خود کو دیکھتا تھا اب وہی انسان خود کو کیمروں اور اسکرینوں کے بے شمار آئینوں میں دیکھنا چاہتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ نرگسیت کا پودا ایک تناور درخت بن کر ہر طرف اپنی شاخیں پھیلاتا جا رہا ہے۔
*سیلفی کا جنون*
نرگسیت کی سب سے نمایاں شکل سیلفی کا جنون ہے۔ ہر جگہ، ہر لمحہ، ہر صورت حال میں موبائل اٹھانا اور اپنی تصویر اتارنا معمول بن چکا ہے۔
یہ رویہ دراصل اس ذہنی کیفیت کا نتیجہ ہے جس میں انسان خود کو مسلسل دیکھے جانے اور سراہے جانے کے قابل سمجھنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض افراد سیلفی کے بعد اس میں طرح طرح کے فلٹرز لگا کر تصویر کو مزید خوشنما بناتے ہیں..
*ویڈیو بنانے کا جنون*
ریلز، وی لاگز اور مختصر ویڈیو کلپس نے انسان کو کیمرے کا اسیر بنا دیا ہے۔ اپنی ہر حرکت، ہر گفتگو، ہرانداز اور چہرہ کے ہر زوایہ کو ریکارڈ کرنا اور دنیا کے سامنے پیش کرنا ایک نیا نفسیاتی دباؤ ہے۔ اس دباؤ کے بعد وہ دوسروں پر دباؤ بناکر اپنی ویڈیو کو دیکھنے، لائک و کمنٹ کرنے اور شیئر کرنے پر اصرار سمجھتے ہیں. گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بس مجھے دیکھو، مجھے سنو اور میری تعریف کرو.
*سوشل میڈیا پر خودنمائی کا جنون*
انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب وغیرہ نے نرگسیت کو ایک مضبوط اسٹیج فراہم کردیا ہے، انسان اپنے معمولی کاموں کو بھی غیر معمولی بنا کر پیش کرتا ہے اورچاہتا کہ لوگ بھی اس کی واوہی کریں اور اس کو خوب خوب سراہے.. لائک و کمنٹ کی گنتیاں اس کے لیے اپنی اہمیت اور قدر کا معیار بن جاتے ہیں..
*خود کو مرکزیت دینے کا جنون*
نرگسیت کی ایک سطح یہ بھی ہے کہ انسان ہر گفتگو میں خود کو ہی مرکز بنانا چاہتا ہے۔ وہ سامنے والے کی بات کو بیچ میں کاٹ دیتا ہے، ہر موضوع کو اپنی طرف موڑ لیتا ہے، اور ہر گفتگو میں اپنی تحریر، تقریر یا تجربے کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ ہر مشورے میں بھی اپنی رائے کو حتمی اور برتر قرار دیتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ذات کو گفتگو کا محور بنا کر دوسروں کی آواز اور اہمیت کو غیر محسوس طریقے سے دبا دینا چاہتا ہے.
اور پھر جب سیلفی اچھی نہیں آتی، ریل زیادہ سے زیادہ لائک نہیں ملتے، چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا، یا منفی کمنٹ آتے ہیں توانسان ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتا ہے جو دھیرے دھیرے اسے اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے..
یہ کیفیت اگر حد سے تجاوز کرچائے تو ہلاکت کا باعث بھی بن جاتی ہے.
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ سلام نے ہلاک کرنے والی تین چیزوں میں ایک ” خود پسندی” کو بھی شامل کیا ہے
مذمت
نبی ﷺ نے فرمایا:
«ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ… وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ»
"تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں… اور انسان کا اپنے نفس سے خود پسند ہونا۔”
Comments are closed.