قرانی خطوط پراپنےدنیاوی اعمال کواستوارکرنا
مفتی احمدنادرالقاسمی
جامعہ نگر نئی دہلی
نزول قران کامقصد ہی یہی ہےکہ زندگی کےسارےاعمال کوقران کریم کی طےکردہ خطوط پراستواراورمنطبق کیاجائے۔ورنہ نزول قران کامقصدہی فوت ہوجائےگا۔یہی وجہ ہےکہ رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم۔ہمیشہ صحابہ کرام کوقران پرعمل اوراس کی پیروی کرنے کاحکم دیتےتھے۔اورخودبھی قران کی اتباع فرماتےتھے۔قران پرعمل۔تطبیق۔اوراس کی پیروی کاعملی طورپرطریقہ بتاتےتھے۔نیزانھیں سمجھاتےتھےکہ وہ اپنےحالات زندگی میں قران پاک کونظام حیات اورعملی سلوک وبرتاؤ میں کس طرح تبدیل کریں کہ اس کےذریعہ زندگی کےتصرفات۔حرکات وسکنات اورزندہ افرادواشخاص کی رہنمائی کرسکیں۔قران کریم کےساتھ کسی دوسری چیزکی آمیزش نہ کی جائے۔۔مسلمان اس کے علاوہ کسی دوسری چیزمیں منہمک نہ ہوجائیں۔قران کریم پورے دین پرمشتمل ہے۔۔اللہ تعالی نے اس میں کسی چیزکےبارےمیں کوئی کسرنہیں اٹھارکھی ہے۔اس میں زندگی کے ہرعمل کی رہنمائی ہے۔ یہ کتاب مکمل اورلاریب ہے۔اوراپنی تعلیمات میں ہمہ گیرہے۔ہرعالم اوراہل علم کی ذمہ داری ہےکہ وہ دنیاکواس عظیم کتاب کی طرف بلائے۔انھیں قریب کرے۔اس کےمطالعہ کی ترغیب دے۔مساجدمیں اس کے دروس کابھرنظام ہو۔گھروں میں اوراپنےبچوں میں قرانی آیات کے الفاظ کی مشقیں ومعانی پردسترس حاصل کرنےکااہتمام کیاجائے۔انسانی کی روحانی اورعملی زندگی میں تبدیل لانےوالی یہ کتاب انقلاب ہے۔دنیامیں کوئی تبدیلی قران کےبغیرنہیں آسکتی۔قران مسلمانوں کاہی نہیں پوری انسانیت کے اخلاقی اصولوں کاسرمایہ ہے۔اسے صرف مسلم گھروں اورمسجدوں اورمدرسوں تک محدودنہ کیاجائے۔دورجدیدکایہ المیہ ہےکہ اسے صرف تلاوت کی کتاب سمجھ لیاگیاہے۔عملی زندگی میں اپنے سیاست۔تجارت۔معاشرت ہرمعاملہ میں قرانی ہدایات کی جگہ اپنے من مانےاصول داخل کرلئیے گئےہیں۔پوری انسانیت کےلئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔یہی وجہ ہےکہ آج پوری دنیااخلاقی زوال کاشکاربھی ہے اوردنیامیں اضطراب وبےچینی اوربکھراؤ بھی ہے۔قران ہی دنیاکوہرمشکل سے نجات دلاسکتاہے۔دنیاتجربہ توکرکےدیکھے۔قران نے توخودکہاہے” شھررمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس وبینات من الھدی والفرقان“۔(سورہ بقرہ۔185)(رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قران اتاراگیاہے۔جوتمام لوگوں کےلئے سامان ہدایت ہے۔اورجس میں حق اورباطل کےدرمیان فرق کرنے والی نشانیاں اوراصول ہیں)۔
Comments are closed.