عذاب کا سفر: غزہ کی پٹی میں نقل و حمل کا نظام روزانہ کی ایک جنگ میں کیسے بدل گیا؟
بصیرت نیوزڈیسک
غزہ کی پٹی میں اب کام پر پہنچنا یا کسی عزیز کی عیادت کرنا ماضی کی طرح کوئی معمولی بات نہیں رہی، بلکہ یہ صبر و برداشت کا ایک روزانہ کا امتحان بن چکا ہے۔ یہ صورتحال نقل و حمل کے اس شدید بحران کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے جس نے غزہ کے تمام علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور شہریوں پر نفسیاتی و مالی طور پر بوجھ بن چکا ہے۔
تباہ حال سڑکوں پر، جو گڑھوں اور ملبے سے اٹی پڑی ہیں شہری قابض اسرائیلی سفاکیت کے باقی ماندہ ملبے کے درمیان چلتے ہوئے سواری تلاش کرتے ہیں جو شاید کبھی نہ آئے۔
ہزاروں گاڑیوں کی تباہی اور جو باقی بچی ہیں ان کی مرمت کی صلاحیت میں کمی کے بعد رکشوں اور جانوروں سے کھینچی جانے والی گاڑیاں اپنے خطرات کے باوجود ایک اضطراری متبادل بن چکی ہیں۔
غزہ کے جنوبی حصے میں ایک طبی مرکز میں ملازم 34 سالہ سامر الحداد کہتے ہیں کہ میں اپنے کام کے وقت سے کئی گھنٹے پہلے گھر سے نکل جاتا ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکوں کہ مجھے کوئی سواری مل جائے۔ کبھی کبھی میں دو گھنٹے یا اس سے زیادہ بے سود انتظار کرتا ہوں اور اکثر مجھے اپنا راستہ پیدل چل کر مکمل کرنا پڑتا ہے۔
طویل فاصلے پیدل طے کرنے پر مجبور
بہت سے لوگوں کے لیے اب پیدل چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ شمالی غزہ سے ہجرت کرنے والی 48 سالہ ام محمد ابو عودہ بتاتی ہیں کہ نقل و حمل اب ایک عیاشی بن گئی ہے۔ اگر سواری مل بھی جائے تو وہ بہت مہنگی ہوتی ہے۔ میں نے اپنی بیمار بیٹی کی عیادت کے لیے ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ کا راستہ پیدل طے کیا۔ جب میں وہاں پہنچی تو میں اس طرح نڈھال تھی جیسے میں نے پورا شہر پار کر لیا ہو۔
جہاں تک 32 سالہ معلمہ ریم الکردی کا تعلق ہے، وہ کہتی ہیں کہ شروع میں مجھے گدھا گاڑی پر سوار ہوتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی تھی لیکن آج اب شرمانے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ اہم بات یہ ہے کہ میں پہنچ جاؤں۔ اس کے باوجود اکثر مجھے دیر ہو جاتی ہے کیونکہ سواری کا خود کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔
ڈرائیور بھی اس سفاکیت کے شکار
یہ بحران صرف مسافروں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان ڈرائیوروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے جو خود کو ایک مشکل حقیقت کے سامنے پاتے ہیں۔
ٹیکسی ڈرائیور محمود النجار کہتے ہیں کہ ہم نقصان میں کام کر رہے ہیں۔ کوئی بھی معمولی خرابی پرزوں کی عدم دستیابی یا ان کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے گاڑی کو کئی دنوں کے لیے کھڑا کر سکتی ہے۔ کرایوں میں اضافہ کرنا ہماری کوئی پسند نہیں تھی بلکہ زندہ رہنے کے لیے ایک ضرورت تھی۔
اعداد و شمار جو تباہی کی داستان سناتے ہیں
گذشتہ برسوں میں غزہ کی سڑکوں پر روزانہ ہزاروں گاڑیاں شہریوں کی خدمت کرتی تھیں لیکن آج منظر نامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔
مقامی اندازوں کے مطابق ہزاروں گاڑیاں تباہ یا ناکارہ ہو چکی ہیں، جبکہ اسپیئر پارٹس کی شدید قلت ہے اور مارکیٹ کی ضروریات کا صرف ایک معمولی حصہ ہی اندر داخل ہو پاتا ہے۔
اجارہ داری اور بے قابو قیمتیں
پرزوں کی قلت کے ساتھ ساتھ قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہیں، جس کے دوران اجارہ داری اور استحصال کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسپیئر پارٹس کی آمد انتہائی محدود ہو چکی ہے اور جو آتے ہیں وہ اکثر غیر معیاری ہوتے ہیں، جس سے خرابیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور گاڑیوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
سڑکوں پر منڈلاتے خطرات
اس تلخ حقیقت کے پیش نظر بعض ڈرائیور استعمال شدہ یا غیر معیاری پرزے استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر جب باقاعدہ مرمت کا فقدان ہو اور سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں۔
آج نقل و حمل کا بحران محض خدمات کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اس پیچیدہ اقتصادی اور انسانی صورتحال کا براہ راست عکس ہے جو ایندھن کی قلت، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور متبادل کے فقدان کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
Comments are closed.