جب جنگ تھوپ دی جائے پھردنیاکی خاطر راہ فرار اختیارکرنادین میں گوارانہیں
مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
(اللہ نےمسلمانوں کو اسی وقت یہ موقعہ دیاتھا جب اسرائیل غزہ کے نہتھے مظلوم مسلمانوں پر اپنے پورے لاو لشکرکے ساتھ حملہ آورہوا۔ اگر بڑی فوج رکھنے والے دوتین مسلم ملک نے بھی حماس کاساتھ دیاہوتا تواس وقت مڈل ایسٹ کانقشہ ہی کچھ اورہوتا۔ بلکہ اسرائیل اپنے 67 کی پوزیشن پرہوتا۔اورقدس آزاد ہوگیاہوتا۔اورایسانہیں تھا کہ جنگ دنیامیں اس سے آگے پھیلتی۔دوسرے ممالک آگے آتے۔ اور اس وقت جوکچھ ہم ایران اورمسلم ملکوں کی بربادی کانظارا دیکھ رہے ۔ہماری اسی بذدلی کانتیجہ ہے ۔دشمن نے ہماری کمزورنس پکڑلی۔اگر اپنے بھائیوں کے لئے دینی فریضہ سمجھ کر آگے آئے ہوتے ۔تو اس وقت خود امریکہ اوراسرائیل کی یہ ہمت نہیں ہوتی کہ وہ جوہری ہتھیارکابہانہ بناکرایک مسلم ملک ایران پر حملہ کرے۔میں پورے انشراح کے ساتھ کہ رہاہوں کہ سعودیہ۔ترکی۔ مصراورپاکستان ۔محض خوف اورمصلحت میں چوک گئے۔ اللہ نے بڑااچھاموقعہ دیاتھا۔ اورآگے آنے کاجوازتھا۔ مگران ملکوں کے نااہل حکمرانوں نے محض اقتدار اوردنیاکی محبت میں زمین سے چمٹے اورباتیں بناتے رہے۔اورامت کوقعرمذلت میں ڈھکیل دیا۔) ملت کی اس زبوں حالی پر آئے سورہ توبہ کی آیت نمبر38_42۔کے پس منظرمیں۔بات کرتے ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ آیات سن ٩ ہجری میں جنگ تبوک کے موقعہ پرنازل ہوئیں ہیں۔ان آیات پر غورفرمائیں اورموجودہ حق وباطل کے درمیان جاری معرکہ کے تناظر میں احتساب کریں۔کہ امت مسلمہ کوکیاکرناچاہئے۔” فلاتطع الکافرین وجاھدھم بہ جھاداکبیرا“ز(سورہ فرققان 52()۔ کرناچاہئے یامال اور حب دنیامیں غرق ہوکر معاہدوں کی حیلہ جوئی کرنی چاہئے۔یاحق کے ساتھ کھڑاہوناچاہئے۔ ہمیں سوچناچاہئے کیاتیل اورگیس زمین سے ختم ہوجائیں تو انسان زمین پہ زندہ نہیں رہیں گے۔ اورانسان ڈائناسورکی طرح زمین اورکائنات سے ناپیدہوجائیں گے؟ ہرگزنہیں۔جب تک اللہ کاآخری فیصلہ نہ آ جائے انسان کھاتابھی رہےگا۔اورزندہ وآباد بھی رہےگا۔جب ہمارا رب حی قیوم کی ذات پر ایمان ہے تو پھر یہ حیلے بہانے کیسے؟۔” ہم اپنے عنوان کے پس منظر میں بات شروع کرتےہیں ارشادربانی ہے:”یایھاالذین آمنوامالکم اذاقیل لکم انفروافی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض۔ارضیتم بالحیوۃ الدنیا من الآخرۃ۔فمامتاع الحیوۃ الدنیافی الآخرۃ الاقلیل“(سوررہ توبہ ٣٨)۔ اے ایمان والوتمہیں ہوکیاگیاہےکہ جب تم سے کہاجاتاہے کہ نکلواللہ کے راستے میں توتم زمین سے چمٹ جاتےہو۔کیاتم آخرت کےبدلے دنیاکی زندگی کے دلدادہ ہوگئےہو؟یادرکھو دنیاکی زندگی توآخرت کےمقابلے بہت تھوڑی اورمعمولی ہے۔۔ اگلی آیت:اگرتم نہیں نکلےتواللہ تعالی تمہیں دردناک عذاب میں مبتلاکرےگا۔ بلکہ تمہیں ہلاک کرکے تمہاری جگہ دوسرےلوگوں کولےآئےگا۔اورتم اللہ تعالی کاکچھ بگاڑنہیں سکوگے۔اوراللہ تعالی ہی ہرچیزپرقادرہے۔ اگلی آیت:اگر تم نبی کی مددنہیں کروگے تو یاد رکھو اللہ ان کامددگار اورحامی ہے۔اوروہ وقت تمہیں یاد ہوگاجب ان کو کافروں نے گھرسے نکال دیاتھا۔اس وقت دوہی ایسے شخص تھے۔ اوران میں ایک ابوبکرتھے۔اوردوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔جب دونوں غاثورمیں تھے۔اس وقت رسول اللہ اپنے ساتھی ابوبکرکو تسلی دے رہے تھے کہ تم غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔تواللہ تعالی ان پر سکینہ نازل فرمایا۔اورایسی فوج کے ذریعہ مددفرمائی جسے تم نہیں دیکھ رہےتھے۔اورکافروں کی بات اللہ نے پست کردیا ۔اوربات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔ اوراللہ ہی زبردست اورحکمت والاہے۔ ۔ اگلی آیت:تم سبکبار ہو یاگراں بار ۔یعنی تمہارے پاس مال واسباب کم ہوں یازیادہ ۔اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہو۔اوراللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنےمال سے خوب لڑو۔یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔اگر تم سمجھو۔۔۔۔۔اس وقت جوصورت حال ہے ۔یا ابھی غزہ کی جنگ کے وقت تھی ۔ذراغور فرمائیے۔کیا اس وقت کے حالات سے زیادہ سخت تو نہیں ہے۔جب مسلمانوں کے کچھ بھی نہیں تھا۔ اورشاہ روم ہرقل نے صرف مسلمانوں کے خلاف فوج جمع کرناشروع کیاتھا۔تب بھی اللہ نے اس کے خلاف اپنے پیارے نبی کی قیادت میں گھروں سے نکلنے کا حکم فرمایا۔ آج تو کم وبیش پچاس لاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی مسلمانوں کی سلطنتیں ہیں۔ایٹم بم ہے۔ لاکھوں کی فوجیں ہیں ۔ایک سو پچاس کڑور مسلمان ہیں تو پھر حکم خداوندی اس وقت سے بھی سختی کے ساتھ مسلمانوں سے جہاد کے مطالبے کامستحق ہے۔۔پھر مسلمان بزدلوں کی طرح صرف اپنی ذلت کاتماشہ کیوں دیکھ رہاہے۔؟
Comments are closed.