ریاستی انتخابات اور الیکشن کمیشن کا جانبدارانہ رویہ: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا

 

نئی دہلی، 5 مئی(پریس ریلیز)

بعض ریاستوں کے انتخابی نتائج نے ملکی سیاست میں الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور شفافیت کو پوری طرح بے نقاب اور پولارئزیشن کی سیاست کو مضبوط کیا ہے، وہیں دوسری طرف فلمی ہیرو وجے کی نئی پارٹی تامل ناڈو میں اقتدار کے مرکز تک پہنچ گئی ہے۔ تامل نادو میں پہلی بار برسوں سے چلی آرہی دراوڑ سیاست پر بریک لگ گیا ہے۔ کیرالہ میں توقع کے مطابق یو ڈی ایف کے لئے راہ ہموار ہو گئی۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کو الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ رویے اور انتخابی سیاست میں تیزی سے بڑھ رہی فرقہ واریت اور پولارائزیشن کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

 

ویلفیئر پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری (آرگنائزیشن) ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے انتہائی جانبدارانہ طرز عمل کو ملک میں شفاف، غیر جانبدارانہ اور صاف ستھرے انتخاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ اگر الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کا آلہ کار بن کر کام کرے تو ملک میں جمہوریت اور جمہوری اقدار بری طرح پامال ہو جائیں گی۔مغربی بنگال میں پہلے الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے ذریعہ بڑی تعداد میں لوجیکل ڈسکریپنسی اور دیگر حربوں کے ذریعہ 27 لاکھ ووٹرس کو انتخابات سے باہر کر دیا ،جن میں اکژیت مسلم ووٹرس کی تھی پھر بڑی تعداد میں پیرا ملٹری فورسز اورمائیکرو آبزورس کی تعنیاتی کر کے پوری ریاست میں خوف وہراس کا ماحول پیدا کیا، مزیدبرآں بی جے پی کی مرکزی رہنماؤں کی انتہائی اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ تقریروں پر کوئی کاروائی نہ کر کے پورے الیکشن کو پولارائز ہو نے کا موقع فراہم کیا۔ اسی طرح آسام میں پہلے انتخابی حلقوں کی حد بندی میں کتربیونت اور مسلم ووٹرس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے ان کی انتخابی حیثیت کو متاثر کیا، دوسری جانب ہمنتابسواسرما اور بی جے پی کے مرکزی قائدین کی فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ پوری ریاست کو ہندو مسلم میں تقسیم کر کے مسلم ووٹروں کو بے اثر کر دیا۔ انتخابی فائدے کے حصول کے لئے سماج کی چیڑ پھاڑ اور ہندو مسلم یکجہتی کو نقصان پہچانا کسی بھی طرح ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہے۔

 

ڈاکٹر الیاس نے اپنے بیان میں آگے کہا مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کی دوسری بڑی وجہ سیکولر پارٹیوں کا آپسی سرپھٹول اور انتشار ہے۔ مرکزی سطح پر انڈیا اتحاد میں شامل جماعتیں ریاستوں میں ایک دوسرے کی حریف بن کر فرقہ پرستوں کے لئے راہ ہموار کر رہی ہیں۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو اندیشہ ہے کہ 2029 کے پارلیمانی انتخاب کےنتائج بھی کچھ مختلف نہیں ہونگے۔

 

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا تمام سیکولر سیاسی جماعتوں سے اپیل کر تی ہے کہ وہ ملک کے مفاد میں اپنے داخلی اختلافات کو پس پشت ڈال کر آپسی تال میل اور سیٹوں پر مفاہمت کے ساتھ انتخابات میں اتریں تو وہ اب بھی ملک کی جمہوری اور سیکولر اقدار کو پامال ہو نے سے بچا سکتی ہیں۔

 

ڈاکٹر الیاس نے سول سوسائٹی اور ملک کے تمام انصاف پسند افراد سے اپیل کی کہ وہ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات کریں اس سے پہلے کہ پورا ملک لاقانونیت اور فرقہ واریت کی آگ میں جھلس جائے۔

Comments are closed.