مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

پریس ریلیز

اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر کو برطانیہ کانفرنس کے لیے اے این آر ایف ٹریول گرانٹ سے نوازا گیا

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کے ریسرچ اسکالر مسٹر محمد یاسر خان کو برطانیہ میں منعقد ہونے والی نویں سالانہ یو کے پور میٹ کانفرنس میں شرکت کے لیے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کی جانب سے انٹرنیشنل ٹریول سپورٹ گرانٹ سے نوازا گیا ہے۔

مسٹر خان، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ایم شاہد کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے پورس میٹریئلز اور میٹل آرگینک فریم ورکس کے میدان میں گرانقدر تحقیق کی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی جرائد میں 20 سے زائد تحقیقی مقالات تصنیف کیے ہیں، اس کے علاوہ کتابوں میں ابواب بھی تحریر کئے ہیں اور مختلف کانفرنسوں میں اپنی تحقیق پیش کی ہے۔

ڈاکٹر ایم شاہد سمیت شعبہ کیمسٹری کے اساتذہ نے کہا کہ یہ اعزاز تحقیقی گروپ کی معیاری سائنسی تحقیق سے وابستگی کی عکاس ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں شرکت سے بین الاقوامی سطح پر تحقیق پیش کرنے اور تعلیمی اشتراک کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے قانون کے طالب علم نے تنازعات کے حل اور ثالثی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں مقالہ پیش کیا

علی گڑھ، 5 مئی: فیکلٹی آف لا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بی اے ایل ایل بی، سال اوّل کے طالب علم ارمان ناصر نے تنازعات کے حل اور ثالثی (2026) کے موضوع پر جامعہ ہمدرد کے اے ڈی آر بورڈ، ایچ آئی ایل ایس آر کے زیر اہتمام، ایکورڈز انٹرنیشنل اور انسٹی ٹیوشنل اینڈ انڈسٹریل ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر (آئی آئی ڈی آر سی) کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔

مقامی کمیونٹیز کے لئے انٹرنیشنل اے ڈی آر کے ذریعہ ماحولیاتی انصاف کے موضوع پر اپنے مقالے میں انھوں نے موجودہ قانونی نظام کی محدودیت کا جائزہ لیا۔ مقالے میں رسائی، نفاذ اور عالمی موسمیاتی حکمرانی میں متاثرہ کمیونٹیز کی نمائندگی جیسے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔

اس تحقیق میں موسمیاتی تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے فریم ورک کی کامیابی کا جائزہ لیا گیا اور تنازعات کے مؤثر حل کے لیے اصلاحات بھی تجویز کی گئیں۔

٭٭٭٭٭٭

پریم چند کے تصور حسن کی معنویت کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت: پروفیسر محمد علی جوہر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی سیمنار بعنوان ”پریم چند کا ادب:نئے تناظر میں“کے افتتاحی اجلاس سے اے ایم یو پروفیسر کا خطاب

نئی دہلی، 5مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق چیئرمین پروفیسر محمد علی جوہر نے قومی سیمنار بعنوان ”پریم چند کا ادب نئے تناظر میں“ کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے اشتراک سے نہرو گیسٹ ہاؤس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کمیٹی روم میں یک روزہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر محمد علی جوہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پریم چند کے ادبی کارناموں کی سیر کرتے ہوئے ہمیں مایوسی کے بجائے حد درجہ خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ ‘ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا’ جیسا پریم چند کا معروف جملہ نہایت گہرا اور معنی خیز ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر محمد علی جوہر نے پریم چند کے نظریہ ادب کو انسانیت کے لیے لازم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پریم چند یکسانیت اور مساوات کے نقیب تھے، جنہوں نے پوری زندگی مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی۔ ان کے قلم نے ہمیشہ حقیقت نگاری سے کام لیا۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ پریم چند کے ادب کو گہرائی سے پڑھا جائے اور اس کی تفہیم کی جائے۔ پروفیسر محمد علی جوہر نے کہا کہ پریم چند کا ادب انسانی قدروں کا حامل ہے، جس میں ہندستانی تہذیب و ثقافت، یہاں کا رہن سہن، رسم و رواج سب کچھ موجود ہے۔ آج ہندستانی معاشرہ تہذیبی سطح پر اپنی جڑوں سے دور جاتا ہوا محسوس ہو رہاہے، ایسے میں پریم چند کا تخلیق کردہ ادب نئی نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت اور جڑوں سے وابستہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتاہے، ہم جس ہندستان کو کھوتے جا رہے ہیں اس کی بازیافت ہمیں پریم چند کے ادب سے ہوتی ہے جس کا مطالعہ نئی نسل کے لیے بہت ضروری ہے۔

تکنیکی سیشن میں پروفیسر محمد علی جوہر نے اپنا مقالہ پریم چند کا ایک مضمون قوت بیانیہ کا زوال بھی پیش کیا۔ سیمنار میں تین تکنیکی سیشن تھے جن میں ملک کی اہم جامعات سے مدعو مندوبین نے اپنے مقالے پیش کیے۔

اس سے قبل تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر شہزاد انجم (جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے پریم چند سے متعلق پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پریم چند ہندوستانی ادب، تہذیب اور معاشرے کا ایک روشن چہرہ ہیں۔ آج پریم چند کو نئے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ موضوع اور اسلوب کی سطح پر پریم چند کے یہاں حب الوطنی کے جذبات نمایاں ہیں۔ انھوں نے میدانی سطح پر کام کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کی تحریک کا بھی ساتھ دیا اور معاشرتی برائیوں کو اجاگر کیا۔ پریم چند کے ادبی متون کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔

قومی کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے پریم چند سے متعلق قومی کونسل کے طباعتی کام پر روشنی ڈالی جبکہ پروفیسر انور پاشا نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ سمینار میں مختلف یونیورسٹیوں کے مہمان مقالہ نگاروں کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔

٭٭٭٭٭٭

جے این میڈیکل کالج،اے ایم یو میں ای ریسورسز پر یوزر آگہی پروگرام منعقد

علی گڑھ، 5 مئی: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ میڈیسن میں ای ریسورسز تک رسائی سے متعلق ایک یوزر آگہی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں بالخصوص این ایم ایل-ای آر میڈ اور ون نیشن ون سبسکرپشن پر توجہ مرکوز کی گئی۔

یہ سیشن اسسٹنٹ لائبریرین جناب عقیل احمد نے منعقد کیا، جس کا مقصد اساتذہ اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں میں ڈیجیٹل تعلیمی وسائل کے مؤثر استعمال کی اہلیت کو فروغ دینا تھا۔

پروفیسر محمد اسلم نے کلینیکل پریکٹس اور تحقیق میں ای ریسورسز کے انضمام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ وسائل شواہد پر مبنی طبی کام کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ پروگرام کے شرکاء کو اہم ڈیجیٹل وسائل تک رسائی اور ان کے مؤثر استعمال کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ سیشن میں اساتذہ و ریزیڈنٹس کی فعال شرکت دیکھنے میں آئی۔ آخر میں ڈاکٹر عامر حسین نے اظہارِ تشکر کیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو پروفیسر نے نرسنگ پریکٹس سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے آن لائن خطاب کیا

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر فرح اعظمی نے یونیورسٹی آف بُرَیمی کے زیر اہتمام منعقدہ سیکنڈ ورچوئل انٹرنیشنل کانفرنس آن الائیڈ ہیلتھ سائنسز (2026) میں نرسنگ پریکٹس پر مرکوز ایک سیشن سے آن لائن خطاب کیا۔

انہوں نے نرسنگ کے کردار کے دائرہ کار میں وسعت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نرسنگ اب محض تیمارداری تک محدود نہیں رہی بلکہ مریضوں کی تعلیم، قیادت، تحقیق، کمیونٹی ہیلتھ اور ہیلتھ کیئر مینجمنٹ جیسے شعبوں تک پھیل چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسیں مریضوں کے لئے بہتر نتائج اور صحت نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

٭٭٭٭٭٭

پانچ ہال پرووسٹس، اے ایم یو کورٹ کے رکن مقرر

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پانچ ہال پرووسٹس کو سینیارٹی کی بنیاد پر یونیورسٹی کورٹ کا ممبر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی رکنیت کی مدت تین سال یا متعلقہ ہال کے پرووسٹ کے عہدے پر فائز رہنے تک کے لئے ہوگی۔ ان میں پروفیسر نوشاد علی پی ایم (وقارالملک ہال)، ڈاکٹر فصیح راغب گوہر (سر شاہ سلیمان ہال)، ڈاکٹر افتخار احمد انصاری (سر ضیاء الدین ہال)، پروفیسر محمد طارق (ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ہال)، اور ڈاکٹر شیبا جیلانی (عبداللہ ہال) شامل ہیں۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے فیکلٹی رکن نے بین الاقوامی کانفرنس میں کلیدی خطبہ پیش کیا

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پیرا میڈیکل کالج میں میڈیکل ریڈیالوجی اینڈ امیجنگ ٹکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد عرفات نے پائیدار ترقی کے لئے انٹر ڈسپلینری ریسرچ پر مبنی سترہویں بین الاقوامی کانفرنس میں کلیدی خطبہ پیش کیا۔نئی دہلی میں یہ کانفرنس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف آرگنائزڈ ریسرچ اور گرین تھنکرز کے زیر اہتمام دیگر قومی و بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔

ڈاکٹر عرفات نے ”حاملہ خواتین کی ریڈیوگرافی کے طبی اور اخلاقی چیلنجز“ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے شعاعی اثرات (ریڈیئیشن ایکسپوژر) سے متعلق خدشات اور حفاظتی اصولوں جیسے اے ایل اے آر اے پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے الٹراساؤنڈ اور ایم آر آئی جیسی متبادل امیجنگ تکنیکوں کے کردار پر بھی گفتگو کی، ساتھ ہی کلینیکل فیصلہ سازی اور مریضوں کی کاؤنسلنگ کے اہم پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے پروفیسر نے علی گڑھ کالج آف ایجوکیشن میں خود آگہی پر خطاب کیا

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ایس ایم خان نے راجا مہندر پرتاپ سنگھ اسٹیٹ یونیورسٹی سے ملحق علی گڑھ کالج آف ایجوکیشن میں خود آگہی کے موضوع پر خطاب کیا۔

اپنی ذات کی پہچان موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر خان نے اپنے کمپیوٹرائزڈ نفسیاتی ٹول ”ڈسکوری آف سیلف“ کے ذریعہ شخصیت کے تجزیے اور انفرادی صلاحیتوں کے بارے میں حاضرین کو بصیرت فراہم کی۔ شرکاء کو انفرادی پروفائلز فراہم کیے گئے اور خود احتسابی، شخصیت سازی اور پیشہ ورانہ ترقی کے مختلف پہلوؤں پر ان کی رہنمائی کی گئی۔ شخصیت کو مسلسل نکھارنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے شرکاء کو جدت طرازی میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو میں عالمی ٹیکہ کاری ہفتہ کی اختتامی تقریب منعقد

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی جانب سے عالمی ہفتہ ٹیکہ کاری کی تقریبات چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم کی رہنمائی اور آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر علی جعفر عابدی کی نگرانی میں منعقد کی گئیں۔

اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نیرج تیاگی، چیف میڈیکل آفیسر، علی گڑھ نے اپنے خطاب میں پیڈیاٹرکس اور کمیونٹی میڈیسن کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا، اور ٹیکہ کاری کی کوریج میں بہتری کے لیے آؤٹ ریچ سرگرمیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

پروگرام میں ایم بی بی ایس کی طالبہ سمیہ نے ایک موسیقی ریز پیشکش اور دیگر طلبہ نے ڈراما پیش کرکے ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ اور سماجی و ثقافتی رکاوٹیں دور کرنے پر زور دیا اور دیہی علاقوں میں ٹیکہ کاری کے چیلنجوں کی نشاندہی کی۔

آر ایچ ٹی سی جواں، یو ایچ ٹی سی اور مختلف صحت مراکز میں آؤٹ ریچ سرگرمیوں پر مبنی پیشکش متاثر کن رہی۔ مقابلوں کے شرکاء اور کامیاب افراد میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر یو ایچ ٹی سی میں مہمان خصوصی کے بدست این سی ڈی کلینک کا ورچوئل افتتاح بھی عمل میں آیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے وقار الملک ہال میں ’بزمِ وقار‘ فیسٹیول کا آغاز

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقار الملک ہال میں دو روزہ سالانہ ادبی و ثقافتی فیسٹیول ”بزمِ وقار“ کا اہتمام کیا گیا۔

افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد رضوان خان، کوآرڈینیٹر، کلچرل ایجوکیشن سینٹر، اے ایم یو نے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ مہمانانِ اعزازی پروفیسر صبوحی خان، ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو، اور پروفیسر نبی اللہ خان، چیئرپرسن، شعبہ اطلاقی ریاضی نے طلبہ کو اس طرح کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی۔ تقریب میں ڈاکٹر محمد نفیس بھی بطور خاص موجود رہے۔

اس سے قبل پرووسٹ پروفیسر نوشاد علی نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ مسٹر منظور احمد، ہال ایڈمنسٹریٹر، اور مسٹر حیدر علی، سینئر ہال نے فیسٹیول کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ لٹریری سکریٹری مسٹر ندیم انصاری نے اظہار تشکر کیا۔

بزم وقار کا اہتمام مسٹر ندیم انصاری اور مسٹر ارمان خان کی قیادت میں کیا جا رہا ہے، جس میں مسٹر شیراز ارتضیٰ اور مسٹر منصور احمد کا تعاون شامل ہے۔ اس موقع مسٹر محمد ارشد اور ڈاکٹر عبدالعزیز این پی سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے ندیم ترین ہال میں ثقافتی تقریب ’فروزاں‘ کا اختتام

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ندیم ترین ہال میں تین روزہ سالانہ فیسٹیول ”فروزاں -26“ مختلف شعبہ جات کے طلبہ کی بھرپور شرکت کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اس میں اسپورٹس فیسٹیول ’عقاب‘ کے تحت طلبہ نے کھیل کی سرگرمیوں بشمول کرکٹ، فٹ بال، بیڈمنٹن اور ایتھلیٹکس وغیرہ میں بھی جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

فیسٹیول کا افتتاح پرووسٹ پروفیسر سیف سعید نے کیا، جنہوں نے طلبہ میں جسمانی فٹنس، ٹیم ورک اور قیادت کے فروغ کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔

کھیل کی سرگرمیوں کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں جیسے کہ قوالی نائٹ، اسٹیج پرفارمنس اور ادبی تقریبات میں طلبہ کی بھرپور شرکت رہی۔

یہ تقریب وارڈنز ڈاکٹر محمد اسعد، ڈاکٹر محمد کامل، ڈاکٹر زید محمد، ڈاکٹر دانش اقبال اور ڈاکٹر راؤ فراز وارث کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ انتظامی ٹیم میں سمیر خان (سینئر ہال)، عامر علی (سینئر فوڈ)، محمد امین انصاری (سکریٹری، ہال گیمز)، اکرم رضا (سکریٹری، کلچرل)، وشنو کمار (سکریٹری، لٹریری) اور جوائنٹ سکریٹریز شیراز حسین اور نبیل خان شامل تھے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو نے نیٹ پری طب 2026–27 پروگرام کے لیے درخواستیں طلب کیں

علی گڑھ، 5 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن (این سی آئی ایس ایم) کی جانب سے منعقد کیے جانے والے نیٹ پری طب 2026–27 پروگرام میں داخلے کے لیے اہل ہندوستانی شہریوں سے آن لائن درخواستیں طلب کی ہیں۔

کنٹرولر امتحانات کے مطابق آن لائن رجسٹریشن کا عمل یکم مئی سے شروع ہو چکا ہے جو 30 مئی تک جاری رہے گا۔ امیدواروں کو یونیورسٹی کے پورٹل کے ذریعے درخواست دینی ہوگی۔

نیٹ پری طب کے لیے آل انڈیا داخلہ ٹسٹ 28 جون کو آن لائن طریقہ سے منعقد ہوگا، جو کہ این سی آئی ایس ایم کے رہنما اصولوں کے مطابق طبی (یونانی میڈیسن) کورسز میں داخلے کے لیے ہے۔

درخواست دہندگان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ویب سائٹ پر دستیاب اہلیت کے معیار اور درخواست سے متعلق تفصیلات کا بغور جائزہ لیں اور آخری تاریخ سے قبل ہی رجسٹریشن مکمل کر لیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دشواری سے بچا جا سکے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے اسکولوں میں تمباکو مخالف بیداری پروگرام کا انعقاد

علی گڑھ، 5 مئی: تمباکو کے مضر اثرات سے طلبہ کو آگاہ کرنے اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے مقصد سے تمباکو سے پاک اسکول مہم کے تحت آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول اور اے ایم یو سٹی گرلز ہائی اسکول میں تمباکو مخالف بیداری پروگرام منعقد کیے گئے۔

یہ پروگرام شعبہ پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی چیئرپرسن پروفیسر نیہا اگروال کی قیادت میں ڈاکٹر طوبیٰ امام، ڈاکٹر ہردیہ جے، اور ان کی ٹیم نے پروفیسر قدسیہ تحسین، ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو کی رہنمائی میں بحسن و خوبی منعقد کیا۔

آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول میں یہ پروگرام ڈاکٹر محمد فیاض الدین، قائم مقام پرنسپل کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ بیداری سیشن میں تمباکو کے استعمال سے جڑے جسمانی، سماجی اور نفسیاتی خطرات کو اجاگر کیا گیا، جس کے بعد حلف برداری کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اساتذہ میں ڈاکٹر ذوالفقار، مسٹر سعید انور صدیقی، مس ناہید اکبری، مسٹر محمد نعیم اور مسٹر احمد رضا نے پروگرام کے انعقاد میں تعاون کیا۔ پروگرام کی نظامت سید عتیق الرحیم نے کی جبکہ ڈاکٹر شاہد جلیل نے اظہارتشکر کیا۔

اے ایم یو سٹی گرلز ہائی اسکول میں پرنسپل مسٹر محمد جاوید اختر نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ خصوصی سیشن میں ڈاکٹر نیہا اگروال، ڈاکٹر ہردیا جے اور ڈاکٹر طوبیٰ امام نے صحت پر تمباکو کے مضر اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو صحت مند عادات اپنانے کی ترغیب دی۔ پروگرام کی نظامت مس سحر نقوی نے کی، جب کہ مس نازش صدیقی نے پروگرام کو مربوط کیا۔ نائب پرنسپل محترمہ پاکیزہ خان نے اظہارِ تشکر کیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کی رالے لٹریری سوسائٹی کی اختتامی تقریب منعقد

علی گڑھ، 5مئی: شعبہ انگریزی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رالے لٹریری سوسائٹی کی تعلیمی سیشن 2025-26 کی اختتامی تقریب آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں منعقد ہوئی، جس کے ساتھ سوسائٹی کی ادبی سرگرمیاں تکمیل کو پہنچیں۔

پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری بطور مہمانِ اعزازی موجود رہے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ٹی این ستھیسن اور شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر شاہینہ ترنم بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

پروفیسر محمد محسن خان نے سوسائٹی کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک متحرک تعلیمی ماحول کو فروغ دیا ہے، جبکہ پروفیسر اطہر انصاری نے کلاس روم سے باہر علمی سرگرمیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب میں پروفیسر شاہینہ ترنم نے ادبی سوسائٹیز کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ڈین، فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ٹی این ستھیسن نے سوسائٹی کی معاونت کے لیے دس ہزار روپے کا چیک پیش کیا۔

اس سے قبل سوسائٹی کے جوائنٹ سکریٹری جمال انور فریدی نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں سوسائٹی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ سیشن کے دوران ہونے والی سرگرمیوں پر مبنی سالانہ رپورٹ سوسائٹی کے صد محمد عابد نے پیش کی۔

پروگرام میں شیکسپیئر اور رابرٹ فراسٹ سے متاثر ڈرامائی اور شعری پیشکش کو سبھی نے سراہا، جو طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے تھے۔ اس موقع پر مختلف مقابلوں کے فاتحین کو انعامات سے نوازا گیا، جبکہ طلبہ کی فلاح و بہبود سے متعلق مشترکہ اقدامات کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا۔

تقریب کا اختتام سوسائٹی کے خازن انس بن احسان کے کلمات تشکر پر ہوا۔ نظامت کے فرائض مس نمیرہ بیگ اور سیرت ہمدانی نے انجام دئے۔

 

Comments are closed.