وزیراعظم پانچ روزہ غیر ملکی دورے کے بعد…

 

 

(حافظ)افتخار احمد قادری

آج حکومت کے بیانات اور عوامی حقیقتوں کے درمیان فاصلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ سچائی خود حیران کھڑی نظر آتی ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم ملک کے عوام کو کفایت شعاری، سادگی، کم خرچ زندگی اور صبر و تحمل کا درس دیتے ہیں دوسری طرف خود پانچ روزہ غیر ملکی دورے سے واپسی پر نہ صرف اپنی کامیابیوں کے قصے سناتے ہیں بلکہ پوری کابینہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اب ملک کو غیر ضروری اخراجات سے بچانا ضروری ہو گیا ہے۔ گویا شاہی محل میں ضیافت اڑانے کے بعد غریبوں کو سوکھی روٹی کھانے کی نصیحت کی جا رہی ہو۔ یہ منظر نامہ صرف سیاسی تضاد نہیں بلکہ موجودہ سیاست کا سب سے بڑا طنز ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں کے بوجھ، پیٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں اور روز بروز کمزور ہوتی معیشت کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں غیر ملکی دوروں، شاندار استقبالیوں، میڈیا شو اور عالمی تصویروں کی سیاست اپنے عروج پر ہے۔ اگر معیشت واقعی خطرے میں ہے تو کیا اس کا بوجھ صرف عوام ہی اٹھائے گی؟ کیا حکومت اور حکمران طبقہ اس قربانی سے آزاد رہے گا؟

وزیراعظم نے کابینہ میٹنگ میں مغربی ایشیا کے بحران، ایران اسرائیل جنگ اور عالمی غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزراء کو اخراجات کم کرنے کی ہدایت دی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہندوستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ جملہ بظاہر سنجیدہ معلوم ہوتا ہے مگر جب اسے حکومت کی گزشتہ ایک دہائی کی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ خود ایک سیاسی لطیفہ بن جاتا ہے۔ جو حکومت گزشتہ برسوں میں ہزاروں کروڑ روپے کے اشتہارات، انتخابی مہمات، ذاتی تشہیر، شاندار تقریبات، نئی عمارتوں، مہنگے پروجیکٹس اور عالمی شو بازی پر خرچ کرتی رہی ہو وہ آج عوام کو کفایت شعاری کا سبق دے رہی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی رئیس شخص پانچ ستارہ ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد مزدور کو نصیحت کرے کہ بھائی! دال روٹی پر گزارہ کرو ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ یہاں سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پیٹرول کم استعمال کریں، غیر ملکی سفر نہ کریں اور سونا خریدنے سے گریز کریں۔ آپ غور کریں کہ آخر اس ملک میں کتنے فیصد لوگ ایسے ہیں جو روزانہ ہوائی جہازوں میں غیر ملکی سیر کرتے ہیں؟ ہندوستان کا متوسط اور غریب طبقہ تو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے اپنے شہر سے دوسرے شہر جانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ عوام کے لیے تو غیر ملکی سفر صرف خبروں میں دیکھا جانے والا خواب ہے۔ لیکن حکمران طبقہ جب درجنوں جہازوں کے قافلے، سیکورٹی کے لشکر، پانچ ستارہ رہائش اور کروڑوں کے سرکاری خرچ کے ساتھ دنیا بھر کا دورہ کرتا ہے تو اسے سفارتی کامیابی کہا جاتا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ دورہ نہیں بلکہ دوہرا معیار ہے۔ اگر ملک واقعی معاشی بحران سے گزر رہا ہے تو کفایت شعاری کا آغاز اقتدار کے ایوانوں سے ہونا چاہیے تھا۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وزراء کی شاہانہ سہولتیں کم کرتیں، غیر ضروری تقریبات پر پابندی لگاتیں، اشتہاری مہمات روک دیتیں، انتخابی ریلیوں پر سرکاری وسائل کا استعمال محدود کرتیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ عوام کو صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ اب وقت مشکل ہے لہٰذا قربانی دو۔ گویا حکومت ایک ایسا باپ بن گئی ہے جو خود بریانی کھا رہا ہو اور بچوں سے کہہ رہا ہو کہ آج کل حالات خراب ہیں تم نمک روٹی کھاؤ۔

مودی حکومت نے گزشتہ برسوں میں سیاست کو ایک عظیم الشان ایونٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر دورہ تاریخی، ہر تقریر عالمی، ہر تصویر انقلابی اور ہر منصوبہ نئے ہندوستان کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکی ہے۔ بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے، کسان پریشان ہیں، نوجوان نوکریوں کیلئے دربدر ہیں، متوسط طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ سے دب چکا ہے اور غریب آدمی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کیلئے جدو جہد کر رہا ہے۔ ایسے میں جب حکومت عوام کو کم خرچ زندگی کا سبق دیتی ہے تو اس میں نصیحت کم اور تمسخر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ ہر عالمی بحران کے وقت حکومت سب سے پہلے عوام کی جیب پر نظر ڈالتی ہے۔ اگر تیل مہنگا ہو تو عوام کم گاڑی چلائے، اگر سونا مہنگا ہو تو عوام خریدنا چھوڑ دے، اگر معیشت کمزور ہو تو عوام خرچ کم کرے۔ مگر کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ حکومت خود اپنے اخراجات محدود کرے گی۔ آخر کیوں؟ کیا ملک کی معیشت صرف عوام کے پیسوں سے چلتی ہے اور حکومت کے فضول خرچ منصوبوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں؟ آج ہندوستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ حکمران طبقہ عوام کو مسلسل قربانی کا درس دیتا ہے جبکہ خود اقتدار کی آسائشوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ایک طرف عوام کو بتایا جاتا ہے کہ قوم مشکل دور سے گزر رہی ہے دوسری طرف کروڑوں روپے کے اسٹیج، مہنگے جلسے، سرکاری اشتہارات اور عالمی برانڈنگ مہمات جاری رہتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کفایت شعاری صرف عوام کیلئے لازم ہے، حکمرانوں کیلئے نہیں۔ وزیر اعظم کے حالیہ دورے کو ۴۰ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ یقیناً سرمایہ کاری کسی بھی ملک کیلئے اہم ہوتی ہے مگر گزشتہ برسوں میں ہونے والی بڑی بڑی سرمایہ کاریوں کا فایدہ آخر عام آدمی کو کتنا ملا؟ اگر واقعی معیشت اتنی مضبوط ہو رہی ہے تو پھر مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ نوجوان بے روزگار کیوں ہیں؟ کسان سڑکوں پر کیوں ہیں؟ اور عوام کو ہر دوسرے دن قربانی دینے کی اپیل کیوں کی جا رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سیاست میں امیج اصل مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت عوامی مسائل حل کرنے سے زیادہ اپنی عالمی تصویر بنانے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ غیر ملکی دورے اب سفارتی ضرورت سے زیادہ سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ میڈیا پر بڑے بڑے مناظر، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، تالیاں، استقبال، تصویریں یہ سب عوام کو متاثر کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں مگر ان سب کے باوجود عوام کی خالی جیبیں تصویروں سے نہیں بھرتیں۔ ایک وقت تھا جب حکمران عوام کے درمیان سادگی کی علامت بن کر رہتے تھے۔ آج سیاست میں سادگی کی جگہ برانڈنگ نے لے لی۔ اب لیڈر کی کامیابی اس کے دوروں، جلسوں اور سوشل میڈیا ٹرینڈز سے ناپی جاتی ہے عوام کی خوشحالی سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی سیاست رفتہ رفتہ عوامی خدمت سے دور اور تصویری سیاست کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے اگر عوام سے پیٹرول کم استعمال کرنے کی اپیل کی تو فوراً وزراء نے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ میڈیا کے کیمرے ہٹتے ہی سرکاری گاڑیوں کے قافلے دو بارہ سڑکوں پر دوڑنے لگے۔ سیاست میں دکھاوا اب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ وقتی تصویریں ہی قربانی بن گئی ہیں۔ گویا عوام کو صرف منظر دکھانا کافی ہے حقیقت کی ضرورت نہیں۔ ملک کے عوام اب سوال پوچھنے لگے ہیں اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔ اگر حکومت واقعی کفایت شعاری چاہتی ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ وزراء کے قافلے محدود ہوں، سرکاری تشہیر پر پابندی لگے، غیر ضروری تقریبات روکی جائیں اور اقتدار کے ایوانوں میں سادگی لائی جائے۔ عوام اس وقت قربانی دینے کیلئے تیار ہوتی ہے جب اسے محسوس ہو کہ حکمران بھی اسی تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ مگر یہاں تو معاملہ الٹا ہے کہ قربانی عوام دے رہی ہے اور سہولت اقتدار اٹھا رہا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ اور مغربی ایشیا کے بحران کا اثر یقیناً پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے مگر اس بحران کو عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے جواز کے طور پر استعمال کرنا مناسب نہیں۔ حکومت کا کام عوام کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ مضبوط پالیسیوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم رکھنا ہے۔ لیکن موجودہ سیاست میں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر بحران کو عوامی قربانی کے نئے باب میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے پانچ روزہ غیر ملکی دورے سے واپسی پر دی گئی کفایت شعاری کی نصیحت دراصل موجودہ سیاسی فکر کی عکاس ہے جہاں عوام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر مشکل میں خاموشی سے قربانی دے جبکہ اقتدار اپنے وقار، پروٹوکول اور تشہیر پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔ یہی وہ تضاد ہے جو آج عوام کو بے چین کر رہا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ احتساب، برابری اور مشترکہ قربانی کا بھی نام ہے۔ اگر عوام سے کفایت شعاری مانگی جا رہی ہے تو اقتدار کو بھی اس کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا ورنہ یہ نصیحتیں صرف سیاسی طنز بن کر رہ جائیں گی اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگی کہ آخر اس ملک میں قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دیتا ہے؟

(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.