(مفتی) شفیع احمد قاسمی استاذ حدیث جامعہ ابن عباس احمد آباد
قربانی اسلام میں ایک عظیم اور اہم ترین مالی عبادت ہے،قربانی کی عبادت بندے کی طرف سے اللہ تعالی کے ساتھ عشق و محبت کا مظہر ہے، حق تو یہ تھا کہ بندہ بارگاہ ایزدی میں خود کی قربانی پیش کرتا، لیکن خدا ئے پاک کی رحمت دیکھیے، کہ اس نے جانور ذبح کرنے کو خود جان دینے کے قائم مقام قرار دیا، اور جانور ذبح کرنے کا وہ اجر و ثواب مقرر کیا جو اپنی جان نچھاور کرنے پر عطا کرتا ہے، بڑا بد نصیب ہے وہ شخص جو اس متبرک موقع کو پائے اور مالی وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے ۔
دو چار دن پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کر رہی تھی جس میں یہ بات کہی گئی تھی کہ بعض صحابہ کرام استطاعت کے باوجود کبھی قربانی ترک کر دیا کرتے تھے، خصوصا حضرات شیخین سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی کبھی قربانی ترک کر دیا کرتے تھے، میرے ناقص خیال میں اس تحریر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ امت اب جس قدر اہتمام سے قربانی کرتی ہے درحقیقت یہ قربانی اس درجہ اہتمام کا مستحق نہیں، اور اگر تحریر کنندہ کی مراد اس کے سوا یہ ہے، کہ جو شخص قرض تلے دبا ہو یا گھریلو حالات میں گھرا ہو یا معاشی تنگی میں مبتلا ہو، اور اس بنا پر قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو شرعا اس پر کوئی گناہ نہیں، تو تحریر مذکور سے بظاہر یہ مطلب اخذ کرنا دشوار اور مشکل معلوم ہوتا ہے، وجہ صاف ہے کہ اگر یہ مقصد ہوتا، تو اس میں کوئی جدت نہیں، تو پھر تحریر کنندہ نے اپنے نام کو صیغہ راز اور پردہ خفا میں کیوں رکھا ؟ یہ تو کوئی انہونی اور اچھنبے کی بات نہیں، نہ یہ کوئی نئی تحقیق ہے ،جس سے یہ اندیشہ ہو کہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا، اس کا مطلب انہیں قوی اندیشہ تھا کہ اس تحریر سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا، الغرض تحریر کنندہ کے نزدیک امت نقطۂ اعتدال سے ہٹ چکی ہے، جواب اس کا یہ ہے کہ الحمدللہ مسئلہ قربانی میں آج بھی امت اعتدال پر گامزن ہے اس میں کوئی افراط و تفریط نہیں کوئی اس کی فرضیت کا قائل نہیں، ہاں امت اسے واجب تصور کرتی ہے اور قرآن و حدیث سے اس کا وجوب مستفاد ہے، آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، سورۃ الکوثر: نیز حنفیہ کے یہاں بھی واجب ہے، چنانچہ صاحب در مختار رقم طراز ہیں: فتجب التضحية اي اي اراقة الدم من النعم عملاً لا اعتقاداً : شامی جلد ٩/ص ٣٨٠
احادیث و سیرت پر نظر رکھنے والا قربانی کے باب میں اس طرح کی سطحی بات نہیں کہہ سکتا، جبکہ نبی آخر الزماں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی 10 سالہ مدنی زندگی ان کی نظروں میں عیاں ہو، اس طویل عرصے میں آپ نے کبھی قربانی ترک نہیں کی، ترمذی شریف جلد اول/ص ٢٧٧
بہ کثرت صحابہ کرام سے قربانی کرنا ثابت ہے، حضر تو حضر ، سفر تک میں قربانی ترک نہیں کرتے تھے، حضرت جابر بن عبداللہ صحابہ کرام کا عمل نقل کرتے ہیں -حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے سات لوگوں کی جانب سے اونٹ کی قربانی کی اور سات افراد کی طرف سے گائے کی قربانی کی، اسی طرح ایک دوسری روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے آپ قربانی کے جانور کے پاس حاضر ہوئے، اور ہم سات لوگوں نے گائے میں شرکت کی الخ ایک روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے انہوں نے دو مینڈھے کی قربانی کی ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اور دوسری اپنی طرف سے ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ سرور دو عالمﷺنے مجھے اس کا حکم دیا ہے اور میں کبھی اسے نہیں چھوڑوں گا- ترمذی شریف ابواب الاضاحی ۔
*حضرات شیخین کی قربانی نہ کرنے کی وجہ*
ان دو بزرگوں نے جو گاہ بگاہ قربانی ترک کی ہے وہ نصاب قربانی کے مفقود ہونے کے سبب ہے، وہ غنا اور مالداری کے معدوم ہونے کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ بیت المال سے ان کا جو وظیفہ مقرر تھا وہ ان کے گزر اوقات سے بالکل زائد نہیں تھا( بدایع الصنائع) – ان دونوں نے فقر اختیاری کو پسند کیا تھا، دلیل اس کی یہ ہے کہ وہ واقعہ شاید آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہو ایک مرتبہ یار غار صدیق اکبر کے گھر حلوے جیسی کوئی چیز تیار ہوئی صدیق اکبر نے پوچھا یہ کہاں سے آیا، محترمہ نے جواب دیا مہینے بھر کے وظیفے سے کسی قدر پس انداز کر کے اسے تیار کیا ہے، صدیق اکبر نے فوراً بیت المال کواطلاع دی، کہ وظیفے میں سے ہر ماہ میری تنخواہ سے اتنی رقم کم کر دی جائے،
*فاروق اعظم کے فقر کا حال بھی سماعت فرمائیے*
جب ان کی موت کی گھڑی آن پڑی ،اپنے لخت جگر ابن عمر کو بلا کر یہ وصیت کی، میری موت کے بعد میرے قرض کو ادا کر دینا – خطبات حکیم الامت جلد نمبر 15 -تحریر کنندہ نے شیخین کی قربانی ترک کرنے کی یہ وجہ نقل کی ہے كراهة ان يقتدى بهما، اس خوف سے کہ لوگ ان کی اقتدا کر کے اسے لازم نہ سمجھ بیٹھیں ،اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ حضرات شیخین پر قربانی واجب ہونے کے باوجود صرف اس وجہ سے قربانی ترک کرتے تھے کہ لوگ ایک غیر ضروری اور غیر واجب چیز کو واجب اور ضروری نہ سمجھ بیٹھیں حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے، اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ شیخین پر غنا اور مالداری کے مفقود ہونے کی وجہ سے چونکہ قربانی واجب ہی نہیں ہوتی تھی، پھر بھی اگر وہ حضرات شوق و اشتیاق میں قربانی کرتے تو خستہ حال لوگ بھی ان کی اقتدا کرتے، ایسی صورت میں لوگوں کے لیے ایک مصیبت کھڑی ہو جاتی اور معاشی تنگی گھریلو حالات کے ہوتے ہوئے بھی لوگ قربانی کرنے سے نہیں چوکتے،ان کے قربانی ترک کرنے کی دراصل یہ وجہ تھی، ایسے پریشان کن حالات میں قربانی کے وجوب کا کوئی ہم نوا نہیں،
اور رہا مسئلہ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے قول کا تو یہ کتاب و سنت کے معارض بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا باوجودیکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ پر دین ہو، اور انہیں اپنے پڑوسی پر اس بات کا اندیشہ ہو کہ اگر وہ قربانی کرتے ہیں تو ان کا پڑوسی دین کے باوجود قربانی کے وجوب کا اعتقاد کریں گے، دوسرا احتمال وجوب سے فرضیت مراد لیا ہو،تو مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر وہ قربانی کر لیتے تو ان کا پڑوسی قربانی کی فرضیت کا اعتقاد قائم کر لیتا تو ان کا قربانی ترک کرنا اپنے پڑوسی کو فرضیت کے اعتقاد سے محفوظ رکھنے کے لیے تھا، لہذا احتمال کے ساتھ یہ قول حجت نہیں ہو سکتا، بدائع الصنائع كتاب الاضحيه
قربانی اسلام میں ایک عظیم اور اہم ترین مالی عبادت ہے،قربانی کی عبادت بندے کی طرف سے اللہ تعالی کے ساتھ عشق و محبت کا مظہر ہے، حق تو یہ تھا کہ بندہ بارگاہ ایزدی میں خود کی قربانی پیش کرتا، لیکن خدا ئے پاک کی رحمت دیکھیے، کہ اس نے جانور ذبح کرنے کو خود جان دینے کے قائم مقام قرار دیا، اور جانور ذبح کرنے کا وہ اجر و ثواب مقرر کیا جو اپنی جان نچھاور کرنے پر عطا کرتا ہے، بڑا بد نصیب ہے وہ شخص جو اس متبرک موقع کو پائے اور مالی وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے ۔
دو چار دن پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کر رہی تھی جس میں یہ بات کہی گئی تھی کہ بعض صحابہ کرام استطاعت کے باوجود کبھی قربانی ترک کر دیا کرتے تھے، خصوصا حضرات شیخین سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی کبھی قربانی ترک کر دیا کرتے تھے، میرے ناقص خیال میں اس تحریر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ امت اب جس قدر اہتمام سے قربانی کرتی ہے درحقیقت یہ قربانی اس درجہ اہتمام کا مستحق نہیں، اور اگر تحریر کنندہ کی مراد اس کے سوا یہ ہے، کہ جو شخص قرض تلے دبا ہو یا گھریلو حالات میں گھرا ہو یا معاشی تنگی میں مبتلا ہو، اور اس بنا پر قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو شرعا اس پر کوئی گناہ نہیں، تو تحریر مذکور سے بظاہر یہ مطلب اخذ کرنا دشوار اور مشکل معلوم ہوتا ہے، وجہ صاف ہے کہ اگر یہ مقصد ہوتا، تو اس میں کوئی جدت نہیں، تو پھر تحریر کنندہ نے اپنے نام کو صیغہ راز اور پردہ خفا میں کیوں رکھا ؟ یہ تو کوئی انہونی اور اچھنبے کی بات نہیں، نہ یہ کوئی نئی تحقیق ہے ،جس سے یہ اندیشہ ہو کہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا، اس کا مطلب انہیں قوی اندیشہ تھا کہ اس تحریر سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا، الغرض تحریر کنندہ کے نزدیک امت نقطۂ اعتدال سے ہٹ چکی ہے، جواب اس کا یہ ہے کہ الحمدللہ مسئلہ قربانی میں آج بھی امت اعتدال پر گامزن ہے اس میں کوئی افراط و تفریط نہیں کوئی اس کی فرضیت کا قائل نہیں، ہاں امت اسے واجب تصور کرتی ہے اور قرآن و حدیث سے اس کا وجوب مستفاد ہے، آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، سورۃ الکوثر: نیز حنفیہ کے یہاں بھی واجب ہے، چنانچہ صاحب در مختار رقم طراز ہیں: فتجب التضحية اي اي اراقة الدم من النعم عملاً لا اعتقاداً : شامی جلد ٩/ص ٣٨٠
احادیث و سیرت پر نظر رکھنے والا قربانی کے باب میں اس طرح کی سطحی بات نہیں کہہ سکتا، جبکہ نبی آخر الزماں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی 10 سالہ مدنی زندگی ان کی نظروں میں عیاں ہو، اس طویل عرصے میں آپ نے کبھی قربانی ترک نہیں کی، ترمذی شریف جلد اول/ص ٢٧٧
بہ کثرت صحابہ کرام سے قربانی کرنا ثابت ہے، حضر تو حضر ، سفر تک میں قربانی ترک نہیں کرتے تھے، حضرت جابر بن عبداللہ صحابہ کرام کا عمل نقل کرتے ہیں -حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے سات لوگوں کی جانب سے اونٹ کی قربانی کی اور سات افراد کی طرف سے گائے کی قربانی کی، اسی طرح ایک دوسری روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے آپ قربانی کے جانور کے پاس حاضر ہوئے، اور ہم سات لوگوں نے گائے میں شرکت کی الخ ایک روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے انہوں نے دو مینڈھے کی قربانی کی ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اور دوسری اپنی طرف سے ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ سرور دو عالمﷺنے مجھے اس کا حکم دیا ہے اور میں کبھی اسے نہیں چھوڑوں گا- ترمذی شریف ابواب الاضاحی ۔
*حضرات شیخین کی قربانی نہ کرنے کی وجہ*
ان دو بزرگوں نے جو گاہ بگاہ قربانی ترک کی ہے وہ نصاب قربانی کے مفقود ہونے کے سبب ہے، وہ غنا اور مالداری کے معدوم ہونے کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ بیت المال سے ان کا جو وظیفہ مقرر تھا وہ ان کے گزر اوقات سے بالکل زائد نہیں تھا( بدایع الصنائع) – ان دونوں نے فقر اختیاری کو پسند کیا تھا، دلیل اس کی یہ ہے کہ وہ واقعہ شاید آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہو ایک مرتبہ یار غار صدیق اکبر کے گھر حلوے جیسی کوئی چیز تیار ہوئی صدیق اکبر نے پوچھا یہ کہاں سے آیا، محترمہ نے جواب دیا مہینے بھر کے وظیفے سے کسی قدر پس انداز کر کے اسے تیار کیا ہے، صدیق اکبر نے فوراً بیت المال کواطلاع دی، کہ وظیفے میں سے ہر ماہ میری تنخواہ سے اتنی رقم کم کر دی جائے،
*فاروق اعظم کے فقر کا حال بھی سماعت فرمائیے*
جب ان کی موت کی گھڑی آن پڑی ،اپنے لخت جگر ابن عمر کو بلا کر یہ وصیت کی، میری موت کے بعد میرے قرض کو ادا کر دینا – خطبات حکیم الامت جلد نمبر 15 -تحریر کنندہ نے شیخین کی قربانی ترک کرنے کی یہ وجہ نقل کی ہے كراهة ان يقتدى بهما، اس خوف سے کہ لوگ ان کی اقتدا کر کے اسے لازم نہ سمجھ بیٹھیں ،اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ حضرات شیخین پر قربانی واجب ہونے کے باوجود صرف اس وجہ سے قربانی ترک کرتے تھے کہ لوگ ایک غیر ضروری اور غیر واجب چیز کو واجب اور ضروری نہ سمجھ بیٹھیں حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے، اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ شیخین پر غنا اور مالداری کے مفقود ہونے کی وجہ سے چونکہ قربانی واجب ہی نہیں ہوتی تھی، پھر بھی اگر وہ حضرات شوق و اشتیاق میں قربانی کرتے تو خستہ حال لوگ بھی ان کی اقتدا کرتے، ایسی صورت میں لوگوں کے لیے ایک مصیبت کھڑی ہو جاتی اور معاشی تنگی گھریلو حالات کے ہوتے ہوئے بھی لوگ قربانی کرنے سے نہیں چوکتے،ان کے قربانی ترک کرنے کی دراصل یہ وجہ تھی، ایسے پریشان کن حالات میں قربانی کے وجوب کا کوئی ہم نوا نہیں،
اور رہا مسئلہ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے قول کا تو یہ کتاب و سنت کے معارض بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا باوجودیکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ پر دین ہو، اور انہیں اپنے پڑوسی پر اس بات کا اندیشہ ہو کہ اگر وہ قربانی کرتے ہیں تو ان کا پڑوسی دین کے باوجود قربانی کے وجوب کا اعتقاد کریں گے، دوسرا احتمال وجوب سے فرضیت مراد لیا ہو،تو مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر وہ قربانی کر لیتے تو ان کا پڑوسی قربانی کی فرضیت کا اعتقاد قائم کر لیتا تو ان کا قربانی ترک کرنا اپنے پڑوسی کو فرضیت کے اعتقاد سے محفوظ رکھنے کے لیے تھا، لہذا احتمال کے ساتھ یہ قول حجت نہیں ہو سکتا، بدائع الصنائع كتاب الاضحيه
Comments are closed.